Sabaq 5 Hali class 10 urdu notes & summary questions | Molvi Abdul Haq

URDU DARASGAH
0

 سبق 5 حالی مولوی عبد الحق 

جماعت دہم 

خاکہ

خاکہ کے لغوی معنی ڈھانچہ یا نقشہ بنانے کے ہیں۔ ادبی اصطلاح میں خاکہ سے مراد ایسی تحریر ہے جس میں کسی شخص کی شخصیت، کردار، عادات و اطوار اور حلیے کی ایسی تصویر کشی کی جائے کہ وہ شخص قاری کے ذہن میں زندہ ہو کر سامنے آ جائے۔ اسے انگریزی میں "Sketch" کہتے ہیں۔

خاکہ سوانح عمری (Biography) سے مختلف ہوتا ہے۔ سوانح میں پیدائش سے وفات تک کے تفصیلی حالات ہوتے ہیں، جبکہ خاکے میں شخصیت کا نچوڑ اور چند تاثراتی پہلو بیان کیے جاتے ہیں۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ لکھنے والا شخصیت کا بغور مشاہدہ کرتا ہے اور پھر غیر جانبداری سے اسے لکھتا ہے۔ خاکے کی بنیادی شرط اور خصوصیت حقیقت نگاری ہے، یعنی انسان کو اچھایا بُرا بنا کر پیش کرنے کے بجائے اس کی اچھائیوں اور برائیوں کو دیانتداری اور اختصار کے ساتھ بیان کیا جائے تاکہ اس کا اصل روپ سامنے آ سکے۔

اردو ادب میں خاکہ نگاری کا باقاعدہ آغاز مرزا فرحت اللہ بیگ کے مشہور خاکے "نذیر احمد کی کہانی" سے ہوا۔ یہ اردو کا پہلا باقاعدہ خاکہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد مولوی عبدالحق، رشید احمد صدیقی اور دیگر ادیبوں نے اس صنف کو پروان چڑھایا۔ ابتدا میں یہ سوانح کا حصہ سمجھا جاتا تھا لیکن رفتہ رفتہ اس نے ایک الگ اور مقبول صنف کی حیثیت اختیار کر لی اور آج اردو نثر میں اسے اہم مقام حاصل

مولوی عبدالحق (بابائے اردو)

"اردو زبان کے محسنِ اعظم اور 'بابائے اردو' کے لقب سے پہچانے جانے والے مولوی عبدالحق 20 اگست 1870ء کو سراواں ہاپوڑ (ضلع میرٹھ) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے سر سید احمد خان کے قائم کردہ ادارے ایم اے او کالج علی گڑھ سے بی۔اے کیا، جہاں کی علمی فضا نے ان کے دل میں اردو کی محبت کو اجاگر کیا۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد حیدرآباد چلے گئے اور ایک اسکول میں مدرس مقرر ہوئے۔ آخر ترقی پاکر انسپکٹر مدارس مقرر ہوئے۔ اسی زمانے میں انجمن ترقی اردو کے سکریٹری منتخب ہوئے اور 'انجمن ترقی اردو' کو ایک فعال تحریک بنا دیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ کراچی منتقل ہو گئے اور اپنی پوری زندگی اردو کے نفاذ اور فروغ کے لیے وقف کر دی۔ ان کی کوششوں سے اردو کالج اور بعد ازاں اردو یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا۔ مولوی عبدالحق ایک بلند پایہ محقق، نقاد اور خاکہ نگار تھے۔ ان کا طرزِ تحریر سادہ، سلیس اور حقیقت نگاری پر مبنی ہے، جس کی بہترین مثال ان کی کتاب 'چند ہم عصر' ہے۔ 1937ءمیں الہ آباد یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی۔اردو کا یہ عظیم خدمت گار 16 اگست 1961ء کو کراچی میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا اور وفاقی اردو یونیورسٹی کے احاطے میں سپردِ خاک ہوا۔

خلاصہ سبق حالی

یہ سبق دراصل مولانا الطاف حسین حالی کا ایک خاکہ ہے جس میں مصنف نے حالی کی سیرت، کردار اور ادبی خدمات کو بیان کیا ہے۔مصنف بتاتے ہیں کہ مولانا حالی انتہائی نیک سیرت، فرشتہ صفت اور منکسر المزاج انسان تھے۔ ان میں سرسید احمد خان جیسی بلند انسانی خصوصیات موجود تھیں۔ وہ بہت مہمان نواز تھے۔ ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جب مولوی انوار احمد ان کے مہمان بنے تو شدید سردی کی رات میں مولانا حالی نے اپنا کمبل مہمان کو اوڑھا دیا اور خود ساری رات سردی میں گزار دی۔مولانا حالی تعصب سے پاک تھے اور ہندو مسلم اتحاد کے بہت بڑے حامی تھے۔ وہ شہرت اور خود نمائی کو پسند نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ محفلوں میں بھی عام لوگوں کی طرح بیٹھتے۔ شاعری میں ان کا انداز سادہ اور پرُاثر تھا، حالانکہ ان کے دور میں مشکل الفاظ کو پسند کیا جاتا تھا۔ ان کی کتاب "مقدمہ شعر و شاعری" پر بہت زیادہ تنقید کی گئی اور انہیں گالیاں تک دی گئیں، لیکن انہوں نے ہمیشہ صبر اور شرافت سے کام لیا اور کبھی کسی کا جواب سختی سے نہیں دیا۔حالی جدید تعلیم کے حامی تھے، اگرچہ وہ خود انگریزی نہیں جانتے تھے۔ انہوں نے اپنی بساط کے مطابق اپنے شہر پانی پت میں دو اہم یادگاریں چھوڑیں: ایک مدرسہ (جو بعد میں حالی ہائی اسکول بنا) اور ایک اورینٹل لائبریری۔ وہ خواتین اور کمزوروں کے حقوق کے علمبردار تھے، جس کا ثبوت ان کی نظمیں "مناجاتِ بیوہ" اور "چپ کی داد" ہیں۔ آخر میں مصنف بتاتے ہیں کہ سنجیدہ شاعری کے باوجود مولانا حالی کی نجی محفلیں ظرافت اور خوش مزاجی سے بھرپور ہوتی تھیں۔

سوال 1: قومی اتحاد کے بارے میں مولانا حالی کا کیا خیال تھا؟

جواب: مولانا حالی قومی اتحاد اور ہندو مسلم یکجہتی کے بہت بڑے حامی تھے۔ وہ تعصب کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ ہر قوم و ملت کے آدمی سے یکساں خلوص اور محبت سے پیش آنا چاہیے۔ جب بھی وہ کوئی ہندو مسلم جھگڑے کی خبر سنتے تو انہیں بہت رنج اور افسوس ہوتا تھا۔

سوال 2: مولانا حالی نے عملی میدان میں کون سی دو یادگاریں چھوڑی ہیں؟

جواب: مولانا حالی نے عملی میدان میں اپنے وطن پانی پت میں دو اہم یادگاریں چھوڑی ہیں۔ایک مدرسہ (جو اب حالی ہائی اسکول کے نام سے موسوم ہے)۔دوسری اورینٹل لائبریری (جس سے پانی پت کے لوگ مستفید ہوتے ہیں)۔

سوال 5: مندرجہ ذیل بیانات کے ثبوت کے طور پر سبق میں سے ایک ایک واقعہ تلاش کر کے لکھیے:

1. مولانا حالی شہرت اور خود نمائی پسند نہیں کرتے تھے:

ثبوت: جب وہ مشاعروں میں جاتے تو الگ تھلگ بیٹھتے اور اپنی باری آنے پر بھی ٹالنے کی کوشش کرتے۔ وہ غزل سنانے کے لیے فرمائش کے منتظر رہتے اور خود سے آگے بڑھ کر شعر سنانے کا شوق نہیں رکھتے تھے۔

2. مولانا حالی زبردست مہمان نواز تھے:

ثبوت: جب آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے سفیر مولوی انوار احمد پانی پت گئے اور رات کو مولانا حالی کے مہمان بنے، تو شدید سردی میں مولانا نے اپنا کمبل مہمان (انوار احمد) کو اوڑھا دیا اور خود بغیر بستر کے رات گزاری تاکہ مہمان کو تکلیف نہ ہو۔

3. مولانا حالی بعض اوقات چھوٹوں کا بھی ادب کرتے تھے:

ثبوت: جب طالب علمی کے زمانے میں مصنف (بابائے اردو مولوی عبدالحق) اور مولوی حمید الدین مولانا حالی سے ملنے علی گڑھ گئے، تو مولانا حالی ان کے استقبال کے لیے تعظیماً کھڑے ہو گئے۔ جب انہوں نے شرمندگی کا اظہار کیا تو حالی نے فرمایا: "اگر میں آپ لوگوں کی تعظیم نہ کروں تو کس کی کروں؟ آئندہ آپ ہی تو قوم کے ناخدا ہونے والے ہیں"۔

سوال: مندرجہ ذیل تین نثری اصناف کس طرح ایک دوسرے سے مختلف ہیں: خاکہ نگاری، سوانح نگاری، شخصیت نگاری۔

جواب:

سوانح نگاری (Biography): اس میں کسی شخص کی پیدائش سے لے کر وفات تک کے تمام حالات و واقعات تفصیل اور ترتیب کے ساتھ بیان کیے جاتے ہیں۔ یہ پوری زندگی کی تاریخ ہوتی ہے۔

خاکہ نگاری (Sketch): یہ مختصر تحریر ہوتی ہے۔ اس میں پوری زندگی کے بجائے شخصیت کے چند اہم پہلو، عادات اور خصائل کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ اس شخص کی جیتی جاگتی تصویر سامنے آجائے۔

شخصیت نگاری: یہ ایک وسیع اصطلاح ہے۔ اس سے مراد کسی شخصیت کے بارے میں لکھنا ہے۔ "خاکہ" بھی شخصیت نگاری کی ہی ایک قسم ہے، مگر شخصیت نگاری میں خاکہ کی نسبت زیادہ تفصیل اور تجزیہ ہو سکتا ہے۔

واحد                     جمع

کتاب                کتابیں

ادب                آداب

قلم                     اقلام

بات                 باتیں

رات                راتیں

نظم                      نظمیں

وقت                اوقات

سبب                 اسباب

فلک                      افلاک

طرف                    اطراف

سوال: مندرجہ ذیل الفاظ کو اس طرح جملوں میں استعمال کیجیے کہ ان کی تذکیر و تانیث واضح ہوجائے:

دہی (مذکر): دکان کا دہی کھٹا ہے۔

مالا (مونث): بچی کے گلے کی مالا ٹوٹ گئی۔

برف (مونث): پہاڑوں پر برف پڑ رہی ہے۔

چاند (مذکر): عید کا چاند نظر آگیا ہے۔

آبشار (مونث): کشمیر میں ایک خوبصورت آبشار بہہ رہی ہے۔

دل (مذکر): میرا دل زور زور سے دھڑک رہا ہے۔

✓     مرکبِ اشاری تلاش کریں

سوال: درج ذیل جملوں میں سے مرکب اشاری تلاش کریں:

(نوٹ: "یہ" اور "وہ" اسم اشارہ ہیں اور جس کی طرف اشارہ ہو اسے "مشار الیہ" کہتے ہیں۔ ان دونوں کے ملنے سے "مرکب اشاری" بنتا ہے۔)

(ا) وہ کتاب بہت دلچسپ ہے۔

مرکب اشاری: وہ کتاب

) یہ لڑکا ذہین ہے۔

مرکب اشاری: یہ لڑکا

(ج) یہ قلم اور وہ پنسل میں نے سری نگر سے خریدے ہیں۔

مرکب اشاری: یہ قلم، وہ پنسل

مذکر          مونث

منشی               منشائن 

حلوائی           حلوائن

ٹھاکر              ٹھکرائن

کھتری             کھترائن

قصائی               قصائن

فرنگی                   فرنگن

نائی                        نائن

لفظ                    متضاد (الٹ)

قریب             دور

اندر                 باہر

اوپر               نیچے

وسیع              تنگ

نرم                سخت

دن                  رات

پہلا                    آخری

اعلیٰ                  ادنیٰ

Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)