افسانہ عبرت کا خلاصہ
یہ کہانی ایک پرائمری اسکول کے استاد پنڈت چندر دھر کے گرد گھومتی ہے۔ پنڈت جی اپنی قلیل تنخواہ (پندرہ روپے) اور پیشے سے سخت نالاں تھے۔ ان کے پڑوس میں دو دیگر سرکاری ملازم رہتے تھے؛ ایک ٹھاکر صاحب (ہیڈ کانسٹبل) اور دوسرے منشی بیج ناتھ (کلرک)۔ یہ دونوں رشوت کی کمائی کی وجہ سے نہایت خوشحال زندگی گزارتے تھے، اچھا کھاتے پیتے تھے اور ان کا گھر ہر قسم کی آسائشوں سے بھرا تھا۔ اس کے برعکس پنڈت جی بڑی مشکل سے گزر بسر کرتے تھے۔ محلے یہ دونوں پڑوسی پنڈت جی کے ساتھ بظاہر ہمدردی جتاتے لیکن درپردہ ان کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ پنڈت جی اکثر سوچتے کہ ان کا علم و فضل بے کار ہے جبکہ ان کے کم پڑھے لکھے پڑوسی ان سے کہیں زیادہ معزز اور خوشحال ہیں۔ ایک دفعہ ساون کے مہینے میں منشی بیج ناتھ اور ٹھاکر صاحب نے ایودھیا کی یاترا (زیارت) کا پروگرام بنایا اور پنڈت جی کو بھی ساتھ چلنے پر مجبور کیا۔ ٹرین میں بہت بھیڑ تھی۔ ٹھاکر صاحب اور منشی جی نے اپنی عادت کے مطابق زبردستی ایک ڈبوں میں گھس گئے جس ڈبے میں داروغہ کی چڑھ گئے اس ڈبے میں پہلے سے چار مسافر بیٹھے تھے۔ وہاں ایک مسافر نے ٹھاکر صاحب کو پہچان لیا۔ یہ وہی شخص تھا جسے ٹھاکر صاحب نے کبھی چوری کے جھوٹے الزام میں پھنسایا تھا اور رشوت لی تھی۔ اس مسافر نے ٹھاکر صاحب کو سب کے سامنے ذلیل کیا، انہیں بیٹھنے کی جگہ نہیں دی اور پوری رات انہیں کھڑا رکھا اور بے عزت کرتا رہا۔دوسرے ڈبے میں منشی بیج ناتھ کی طبیعت شراب نوشی اور بد پرہیزی کی وجہ سے خراب ہو گئی تھی(ہیضہ ہو گیا تھا)۔ مجبوراََ سب کو ٹرین سے اترنا پڑا۔ رات کا وقت تھا اور منشی جی کی حالت بگڑتی جا رہی تھی۔ وہاں ایک ڈسپنسری میں ڈاکٹر چوکھے لال موجود تھے۔ اتفاق سے یہ ڈاکٹر وہی شخص تھے جن سے منشی بیج ناتھ نے اپنی تحصیل میں زمین کے لگان کے معاملے میں رشوت مانگی تھی اور انہیں گھنٹوں کھڑا رکھا تھا۔ ڈاکٹر نے منشی جی کو پہچان لیا اور علاج کرنے سے پہلے منہ مانگی فیس (دس روپے) نکالنے کے بعد ہی دوا دی۔ یہاں بھی منشی جی کو اپنے کیے کی سزا بھگتنی پڑی۔علاج کے بعد یہ لوگ ایودھیا پہنچے لیکن وہاں بھیڑ کی وجہ سے کہیں ٹھہرنے کی جگہ نہ ملی۔ یہ لوگ کھلے آسمان تلے پڑے تھے کہ بارش شروع ہو گئی۔ اس مصیبت کے عالم میں ایک نوجوان لالٹین لے کر آیا۔ اس نے پنڈت چندر دھر کو پہچان لیا اور ان کے قدموں میں گر گیا۔ یہ نوجوان "کرپا شنکر" تھا جو کبھی پنڈت جی کا شاگرد رہا تھا اور اب میونسپلٹی میں افسر تھا۔کرپا شنکر اپنے استاد کو اور ان کے ساتھیوں کو اپنے گھر لے گیا، انہیں صاف ستھرا مکان دیا، ان کی بہترین خاطر مدارت کی اور اپنے ملازموں کو ان کی خدمت پر لگا دیا۔ کرپا شنکر نے پنڈت جی کی وہ عزت کی جو ایک عقیدت مند شاگرد اپنے روحانی باپ کی کرتا ہے۔تین دن تک شاہانہ مہمان نوازی کے بعد جب واپسی کا وقت آیا تو پنڈت چندر دھر کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس سفر نے ان کی آنکھیں کھول دی تھیں۔ انہوں نے دیکھا کہ رشوت خور پولیس والے اور کلرک کو قدم قدم پر ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ایک معمولی تنخواہ والے "استاد" کو ہر جگہ عزت ملی۔ مصیبت کے وقت ان کی ایمانداری اور دی گئی تعلیم ہی کام آئی۔گھر پہنچ کر پنڈت جی کا شکوہ ختم ہو چکا تھا۔ انہیں احساس ہو گیا کہ اگرچہ ان کے پیشے میں پیسہ کم ہے لیکن جو عزت، سکون اور روحانی عظمت معلمی میں ہے، وہ دنیا کے کسی اور پیشے میں نہیں۔ انہیں اس سفر سے حقیقی "عبرت" حاصل ہوئی
۔