سبق نمبر 4 آسمان پھول اور لہو ۔۔۔ نورشاہ

URDU DARASGAH
0

یہ نوٹس سائٹ پر موجود پی ڈی ایف نوٹس سے بلکل مختلف ہیں

آسمان پھول اور لہو 

  نور شاہ کے حالاتِ زندگی اور ادبی خدمات 

نور شاہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے اردو کے ایک انتہائی ممتاز اور معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور ڈرامہ نویس ہیں، جن کا شمار جدید اردو ادب کے اہم ستونوں میں ہوتا ہے۔ وہ 9 جولائی 1936ء کو سرینگر کے علاقے ڈل گیٹ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی تعلیم وادیِ کشمیر کے خوبصورت اور ادبی ماحول میں مکمل کی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے سرکاری ملازمت اختیار کی اور اپنی قابلیت کی بنا پر اہم عہدوں پر فائز رہے۔ وہ جموں و کشمیر حکومت کے محکمہ دیہی ترقی اور محکمہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں بطور ڈائریکٹر خدمات انجام دیتے رہے، جبکہ "انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی" کے سربراہ (سی ای او) بھی رہے۔ سرکاری مصروفیات کے باوجود، ادب سے ان کا لگاؤ کبھی کم نہ ہوا اور وہ مسلسل لکھتے رہے۔

نور شاہ نے ادبی سفر کا آغاز بہت کم عمری میں اپنی پہلی کہانی "نلنی" سے کیا۔ ان کی تحریروں کی سب سے بڑی خوبی ان کا مخصوص رومانوی انداز اور سادہ زبان ہے۔ ان کے افسانوں میں انسانی جذبات، محبت کی نزاکتوں اور رشتوں کے درد کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ ان کی کہانیوں میں کشمیر کی قدرتی خوبصورتی اور وہاں کے سماجی مسائل کی جھلک بھی صاف دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے اردو ادب کو "پائل کے زخم"، "بے گھاٹ کی ناؤ"، "نیلی جھیل کالے سائے"، "من کا آنگن اداس اداس" اور "آسمان، پھول اور لہو" جیسے شاہکار افسانوی مجموعے اور ناول دیے۔

افسانوں اور ناولوں کے علاوہ نور شاہ نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے ریڈیو کشمیر اور دوردرشن کے لیے بے شمار ڈرامے لکھے جو عوام میں بے حد مقبول ہوئے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں جموں و کشمیر کلچرل اکیڈمی ایوارڈ، بخش میموریل ایوارڈ اور ریاستی حکومت کی طرف سے اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ نور شاہ کی تحریریں آج بھی اسکولوں اور کالجوں کے نصاب کا حصہ ہیں اور وہ اردو افسانے کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔

خلاصہ :آسمان پھول اور لہو 

نورشاہ کا یہ افسانہ ایک دلگداز المیہ ہے جو پرآشوب حالات میں انسانی درد اور معصومیت کے قتل کی عکاسی کرتا ہے۔ کہانی کی راوی ایک بازار میں چھ سات سالہ بچے کو دیکھتی ہے جو اپنی جمع پونجی سے ایک مہنگی گڑیا اور سفید پھول خریدنے پر بضد ہے، پوچھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ گڑیا اپنی مرحوم بہن کے لیے بھیجنا چاہتا ہے اور یہ ذمہ داری وہ اپنی ماں کو سونپنا چاہتا ہے جو خود بھی بسترِ مرگ پر ہے اور بقول بچے کے، جلد "آسمانوں میں اللہ کے پاس" جانے والی ہے۔ راوی بچے کی معصومیت اور جذبات سے متاثر ہو کر اپنی جیب سے رقم ادا کر کے اسے گڑیا اور پھول دلا دیتی ہے، دو روز بعد راوی اخبار میں ایک گرینیڈ دھماکے میں جاں بحق ہونے والی خاتون کی تصویر دیکھتی ہے جس کے پہلو میں گڑیا اور خون میں لت پت سفید پھول پڑے ہوتے ہیں، اخبار پر تصویر کے نیچے لکھا ہوا تھا " حلیمہ بی بی جو چند دن پہلے ور مل جارہی تھی کہ بس اسٹینڈ کے قریب ایک گرنیڈ پھٹ جانے کے سبب وہ شدید زخمی ہو گئی تھی۔ کل رات زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔ اس کی بیٹی موقع پر ہی ہلاک ہو گئی تھی۔"خاتون (آنٹی) گھبرا کر اخبار سے اپنی نظریں ہٹادیتی ہے۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا کہیں کوئی نہیں تھا لیکن اسے یوں محسوس ہوا کہ ایک معصوم سالڑ کا آسمان کی طرف بھاگا جا رہا ہے۔

۱۔ دوکاندار لڑکے کو گڑیا کیوں نہیں بیچتا تھا؟

جواب: دوکاندار لڑکے کو گڑیا اس لیے نہیں بیچ رہا تھا کیونکہ لڑکے کے پاس بہت کم پیسے (سکے/ریزگاری) تھے جو گڑیا خریدنے کے لیے ناکافی تھے۔

۲۔ لڑکے کے لیے گڑیا خریدنا کیوں ضروری تھا؟

جواب: لڑکے کے لیے گڑیا خریدنا اس لیے ضروری تھا کیونکہ وہ یہ گڑیا اپنی فوت شدہ بہن (دیدی) کو تحفے میں دینا چاہتا تھا تاکہ وہ خوش ہو جائے۔

۳۔ لڑکا دیدی کو گڑیا کس کے ہاتھ بھیجنا چاہتا تھا؟

جواب: لڑکا اپنی دیدی کو گڑیا اپنی ماں کے ہاتھ بھجوانا چاہتا تھا کیونکہ اس کے مطابق اس کی ماں بھی بہت بیمار تھی اور جلد اللہ کے پاس (آسمانوں میں) جانے والی تھی۔

۴۔ افسانے میں موجود آنٹی کے کردار پر صرف 5 جملے:

آنٹی ایک حساس، ہمدرد اور نرم دل خاتون ہے۔

وہ لڑکے کی معصومیت اور درد کو سمجھ لیتی ہے۔

وہ اس کی مدد خاموشی سے کرتی ہے۔

آنٹی لڑکے کا حوصلہ بڑھاتی ہے اور اسے اللہ پر یقین دلاتی ہے۔

وہ انسانیت، محبت اور ایثار کی علامت ہے۔

۵۔ لڑکے کی کونسی دعا اللہ نے قبول کر لی؟

جواب :اللہ نے لڑکے کی یہ دعا قبول کر لی کہ اسے اپنی بہن کے لیے گڑیا اور ماں کے لیے پھول خریدنے کے لیے مطلوبہ رقم مل گئی۔

۶۔ لڑکے کی ماں اور بہن کا کیا نام تھا؟

جواب: لڑکے کی ماں کا نام حلیمہ بی بی اور بہن کا نام خالدہ تھا۔

۷۔ اس افسانے کا نام ”آسمان، پھول اور لہو“ کیوں رکھا گیا ہے؟

جواب: ”آسمان“ موت اور آخرت کی علامت ہے جہاں ماں اور بیٹی جا رہی تھیں، ”پھول“ اس محبت اور معصوم تحفے کی علامت ہے جو لڑکا دینا چاہتا تھا، اور ”لہو“ اس تشدد اور دہشت گردی کی علامت ہے جس نے ان سفید پھولوں کو خون میں ڈبو دیا۔ یعنی یہ نام معصومیت کے قتل کی عکاسی کرتا ہے۔

۸۔ اس افسانے کو اپنے الفاظ میں لکھیے:

جواب :نوٹ اوپر اس کا خلاصہ دیا جا چکا ہے

Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)