سبق نمبر 3 عبرت |منشی پریم چند کی حالات زندگی| سوالات کے جواب|عبرت کا خلاصہ

URDU DARASGAH
0

یہ نوٹس سائٹ پر موجود پی ڈی ایف نوٹس سے بلکل مختلف ہیں

  سبق نمبر 3 عبرت 

منشی پریم چند 

اگر آپ کو پڑھنے میں دقت ہورہی ہے تو نیچے دی ہوئی اڈیو فائنل پر کلک کریں



افسانہ — مکمل نوٹ

افسانہ اردو نثر کی ایک نہایت اہم اور مؤثر صنف ہے۔ یہ ایک مختصر مگر بھرپور کہانی ہوتی ہے جس میں زندگی کے کسی ایک واقعے، تجربے یا جذبے کو فنکارانہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ افسانے کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا اختصار ہے۔ یہ چند صفحات پر مشتمل ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود پڑھنے والے پر ایک گہرا تاثر چھوڑ جاتا ہے۔ افسانے میں واقعات کی بھرمار نہیں ہوتی بلکہ ایک ہی مرکزی خیال یا واقعہ پوری کہانی کے اندر غالب رہتا ہے۔ کردار بھی محدود ہوتے ہیں مگر وہ کم ہوتے ہوئے بھی جاندار، واضح اور یاد رہ جانے والے ہوتے ہیں۔

اچھے افسانے میں وحدتِ تاثر کی کیفیت پائی جاتی ہے، یعنی آغاز سے انجام تک کہانی ایک ہی فضا، ایک ہی جذبے اور ایک ہی مقصد کے تابع چلتی ہے۔ اس میں غیر ضروری تفصیلات شامل نہیں کی جاتیں تاکہ کہانی کا ربط اور روانی برقرار رہے۔ افسانے کا پلاٹ سادہ، مضبوط اور دلکش ہوتا ہے، جو پڑھنے والے کو ابتدا ہی سے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور انجام تک اس کی دلچسپی برقرار رکھتا ہے۔ اکثر افسانوں میں انجام چونکا دینے والا، سبق آموز یا جذباتی ہوتا ہے جس سے کہانی کا اثر کئی دیر تک قائم رہتا ہے۔

اردو میں افسانہ بیسویں صدی کے آغاز میں ایک باقاعدہ صنف کی صورت میں سامنے آیا۔راشدالخیری کو اردو کا پہلا افسانہ نگار تصور کیا جاتا ہے ۔ ان کا افسانہ "نصیر اور خدیجہ " اردو کا پہلا افسانہ تسلیم کیا جاتا ہے ۔اردو  افسانے کی روایت اور تاریخ میں پریم چند کا نام بہت اہم سمجھا جاتا ہے جنہوں نے عام لوگوں کی زندگی، غربت، سماجی ناانصافی اور انسانی جذبات کو بے حد سادگی اور حقیقت کے ساتھ پیش کیا۔ بعد میں سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، بیدی، عصمت چغتائی اور قرۃ العین حیدر جیسے بڑے ادیبوں نے اس صنف کو نئی جہتیں عطا کیں۔ 

منشی پریم چند


پریم چند کا اصل نام دھنپت رائے سری واستو تھا اور وہ 31 جولائی 1880ء کو بنارس کے قریب گاؤں لمہی میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ کم عمری ہی میں ان کی والدہ اور پھر والد کا انتقال ہو گیا، جس کی وجہ سے بچپن محرومیوں اور مشکلات میں گزرا۔ والد کی وفات کے بعد انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، حتیٰ کہ انہوں نے اپنے کوٹ اور کتابیں تک بیچ دیں اور پانچ روپیے کے عوض  ٹیوشن پڑھا کر گزارہ کیا۔ اسی مشکل حالت میں انہوں نے 1898ء میں میٹرک پاس کیا۔ پریم چند کی پہلی شادی کم عمری میں ہوئی جو ناکام رہی۔ بعد میں انہوں نے 1906ء میں  شیورانی دیوی سے شادی کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ محکمۂ تعلیم میں مدرس مقرر ہوئے اور ترقی کرتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹر آف اسکولز مقرر ہوئے۔1921ء میں گاندھی جی کی تحریکِ عدم تعاون سے متاثر ہو کر سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا  اور مکمل طور پر ادبی خدمات میں مشغول ہو گئے۔ ابتدا میں نواب رائے کے نام سے لکھتے تھےلیکن جب ان کی پہلی کتاب ’’سوزِ وطن‘‘ کوانگریز حکومت نے ضبط کر لیا،تو اس کے بعد  پریم چند کےنام سے لکھنا شروع کیا ۔ آخری ایام میں انہوں نے فلموں کے لیے کہانیاں لکھنے کی کوشش کی مگر وہاں کا ماحول پسند نہ آنے پر واپس بنارس آ گئے۔ مسلسل محنت اور غربت نے ان کی صحت کو متاثر کیا اور پیچش کی بیماری میں مبتلا ہوگئے اور8 اکتوبر 1936ء کو 56 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ پریم چند کی زندگی جدوجہد اور سچائی کا نمونہ تھی، جس کا عکس ان کے مشہور ناولوں اور افسانوں میں نمایاں نظر آتا ہے۔

سوالات

۱۔ پنڈت چندر دھر اپنے پیشے سے کیوں بیزار تھے؟

جواب :پنڈت چندر دھر اپنے پیشے سے اس لیے بیزار تھے کیونکہ وہ ایک پرائمری مدرسے میں استاد تھے اور ان کی تنخواہ محض پندرہ روپے تھی، جس میں ان کا گزارہ بہت مشکل سے ہوتا تھا۔ اس کے برعکس ان کے پڑوسی (ٹھاکر صاحب اور منشی جی) رشوت کی کمائی سے نہایت آرام اور عیش کی زندگی بسر کرتے تھے۔ پنڈت جی کو لگتا تھا کہ ان کے علم و فضل کے مقابلے میں ان ان پڑھ لوگوں کی زیادہ قدر و منزلت ہے۔

۲۔ داروغہ جی کا پنڈت چندر دھر کے ساتھ کیسا برتاؤ تھا؟

جواب:داروغہ جی (ٹھاکر اَتبل سنگھ) کا برتاؤ پنڈت جی کے ساتھ بظاہر ہمدردی کا تھا لیکن دراصل وہ انہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ وہ پنڈت جی کو کبھی تھوڑا بہت دودھ یا ترکاری بھجوا دیتے لیکن اس کے بدلے پنڈت جی کو ان کے بچوں کی نگرانی کرنی پڑتی تھی۔ داروغہ جی ان سے مربیانہ لہجے میں باتیں کرتے اور انہیں دبا کر رکھتے تھے، جیسے وہ کوئی ماتحت ہوں۔

۳۔ دورانِ سفر داروغہ جی کے ساتھ پیش آیا واقعہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔

جواب : دورانِ سفر ٹرین کے ڈبے میں جگہ نہ ہونے پر جب داروغہ جی نے زبردستی بیٹھنے کی کوشش کی تو وہاں موجود ایک مسافر نے انہیں پہچان لیا۔ یہ وہی شخص تھا جس پر داروغہ جی نے کبھی چوری کا جھوٹا الزام لگایا تھا اور پچیس روپے رشوت لی تھی۔ اس مسافر نے سب کے سامنے داروغہ جی کو ذلیل کیا، انہیں بیٹھنے نہیں دیا اور وہ پوری رات کھڑے رہے اور باتیں سنتے رہے۔

۴۔ کرپا شنکر نے پنڈت جی، داروغہ جی اور منشی جی کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟

جواب: کرپا شنکر، جو پنڈت جی کا پرانا شاگرد تھا، نے ان تینوں کے ساتھ نہایت شریفانہ اور عزت والا سلوک کیا۔ وہ انہیں اپنے وسیع اور صاف ستھرے مکان میں لے گیا، ان کے لیے بہترین کھانے اور آرام کا انتظام کیا اور اپنے نوکروں کو ان کی خدمت پر لگا دیا۔ یہ سب اس نے اپنے استاد پنڈت چندر دھر کی عزت کی خاطر کیا۔

۵۔ پنڈت چندر دھر کو اپنے پیشے کی عظمت کا احساس کس طرح ہوا؟

جواب:جب پنڈت جی نے دیکھا کہ سفر کے دوران ان کے طاقتور اور مالدار ساتھیوں (داروغہ اور منشی) کو ان کی بددیانتی کی وجہ سے ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ پنڈت جی کو ان کے ایک شاگرد نے بے پناہ عزت دی، تو انہیں احساس ہوا۔ انہوں نے جان لیا کہ علم اور معلمی کا رتبہ دولت سے کہیں بلند ہے اور اس میں جو روحانی سکون اور عزت ہے وہ کسی اور پیشے میں نہیں۔

۶۔ اس افسانے کا نام ’’عبرت‘‘ کیوں رکھا گیا ہے؟

اس افسانے کا نام "عبرت" اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اس کے آخر میں مرکزی کردار (پنڈت چندر دھر) اور پڑھنے والوں کو ایک سبق (عبرت) ملتا ہے۔ کہانی یہ سبق دیتی ہے کہ رشوت اور بے ایمانی کا انجام ذلت ہے، چاہے انسان کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو، جبکہ ایمانداری اور علم پھیلانے کا صلہ عزت اور سکون کی صورت میں ملتا ہے۔

افسانہ عبرت کا خلاصہ 

یہ کہانی ایک پرائمری اسکول کے استاد پنڈت چندر دھر کے گرد گھومتی ہے۔ پنڈت جی اپنی قلیل تنخواہ (پندرہ روپے) اور پیشے سے سخت نالاں تھے۔ ان کے پڑوس میں دو دیگر سرکاری ملازم رہتے تھے؛ ایک ٹھاکر صاحب (ہیڈ کانسٹبل) اور دوسرے منشی بیج ناتھ (کلرک)۔ یہ دونوں رشوت کی کمائی کی وجہ سے نہایت خوشحال زندگی گزارتے تھے، اچھا کھاتے پیتے تھے اور ان کا گھر ہر قسم کی آسائشوں سے بھرا تھا۔ اس کے برعکس پنڈت جی بڑی مشکل سے گزر بسر کرتے تھے۔ محلے یہ دونوں پڑوسی پنڈت جی کے ساتھ بظاہر ہمدردی جتاتے لیکن درپردہ ان کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ پنڈت جی اکثر سوچتے کہ ان کا علم و فضل بے کار ہے جبکہ ان کے کم پڑھے لکھے پڑوسی ان سے کہیں زیادہ معزز اور خوشحال ہیں۔ ایک دفعہ ساون کے مہینے میں منشی بیج ناتھ اور ٹھاکر صاحب نے ایودھیا کی یاترا (زیارت) کا پروگرام بنایا اور پنڈت جی کو بھی ساتھ چلنے پر مجبور کیا۔ ٹرین میں بہت بھیڑ تھی۔ ٹھاکر صاحب اور منشی جی نے اپنی عادت کے مطابق زبردستی ایک ڈبوں میں گھس گئے جس ڈبے میں داروغہ کی چڑھ گئے اس ڈبے میں پہلے سے چار مسافر بیٹھے تھے۔ وہاں ایک مسافر نے ٹھاکر صاحب کو پہچان لیا۔ یہ وہی شخص تھا جسے ٹھاکر صاحب نے کبھی چوری کے جھوٹے الزام میں پھنسایا تھا اور رشوت لی تھی۔ اس مسافر نے ٹھاکر صاحب کو سب کے سامنے ذلیل کیا، انہیں بیٹھنے کی جگہ نہیں دی اور پوری رات انہیں کھڑا رکھا اور بے عزت کرتا رہا۔دوسرے ڈبے میں منشی بیج ناتھ کی طبیعت شراب نوشی اور بد پرہیزی کی وجہ سے خراب ہو گئی تھی(ہیضہ ہو گیا تھا)۔ مجبوراََ سب کو ٹرین سے اترنا پڑا۔ رات کا وقت تھا اور منشی جی کی حالت بگڑتی جا رہی تھی۔ وہاں ایک ڈسپنسری میں ڈاکٹر چوکھے لال موجود تھے۔ اتفاق سے یہ ڈاکٹر وہی شخص تھے جن سے منشی بیج ناتھ نے اپنی تحصیل میں زمین کے لگان کے معاملے میں رشوت مانگی تھی اور انہیں گھنٹوں کھڑا رکھا تھا۔ ڈاکٹر نے منشی جی کو پہچان لیا اور علاج کرنے سے پہلے منہ مانگی فیس (دس روپے) نکالنے کے بعد ہی دوا دی۔ یہاں بھی منشی جی کو اپنے کیے کی سزا بھگتنی پڑی۔علاج کے بعد یہ لوگ ایودھیا پہنچے لیکن وہاں بھیڑ کی وجہ سے کہیں ٹھہرنے کی جگہ نہ ملی۔ یہ لوگ کھلے آسمان تلے پڑے تھے کہ بارش شروع ہو گئی۔ اس مصیبت کے عالم میں ایک نوجوان لالٹین لے کر آیا۔ اس نے پنڈت چندر دھر کو پہچان لیا اور ان کے قدموں میں گر گیا۔ یہ نوجوان "کرپا شنکر" تھا جو کبھی پنڈت جی کا شاگرد رہا تھا اور اب میونسپلٹی میں افسر تھا۔کرپا شنکر اپنے استاد کو اور ان کے ساتھیوں کو اپنے گھر لے گیا، انہیں صاف ستھرا مکان دیا، ان کی بہترین خاطر مدارت کی اور اپنے ملازموں کو ان کی خدمت پر لگا دیا۔ کرپا شنکر نے پنڈت جی کی وہ عزت کی جو ایک عقیدت مند شاگرد اپنے روحانی باپ کی کرتا ہے۔تین دن تک شاہانہ مہمان نوازی کے بعد جب واپسی کا وقت آیا تو پنڈت چندر دھر کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس سفر نے ان کی آنکھیں کھول دی تھیں۔ انہوں نے دیکھا کہ رشوت خور پولیس والے اور کلرک کو قدم قدم پر ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ایک معمولی تنخواہ والے "استاد" کو ہر جگہ عزت ملی۔ مصیبت کے وقت ان کی ایمانداری اور دی گئی تعلیم ہی کام آئی۔گھر پہنچ کر پنڈت جی کا شکوہ ختم ہو چکا تھا۔ انہیں احساس ہو گیا کہ اگرچہ ان کے پیشے میں پیسہ کم ہے لیکن جو عزت، سکون اور روحانی عظمت معلمی میں ہے، وہ دنیا کے کسی اور پیشے میں نہیں۔ انہیں اس سفر سے حقیقی "عبرت" حاصل ہوئی۔

یا

دوسرا مختصر خلاصہ 

منشی پریم چند کا یہ افسانہ ایک کم تنخواہ دار اسکول ماسٹر پنڈت چندر دھر کی کہانی ہے جو اپنے رشوت خور اور بظاہر خوشحال پڑوسیوں (ایک تھانیدار اور ایک کلرک) کے مقابلے میں اپنی غربت پر کڑھتے تھے، لیکن ایودھیا کے ایک سفر نے ان پر حقیقت آشکار کر دی۔ راستے میں جہاں تھانیدار اور کلرک کو اپنی سابقہ بددیانتیوں اور ظلم کی وجہ سے لوگوں کے ہاتھوں ذلت، رسوائی اور انتقام کا سامنا کرنا پڑا، وہیں مصیبت کے وقت پنڈت جی کا ایک پرانا شاگرد کرپا شنکر ان کا مددگار بنا جس نے اپنے استاد کی بے پناہ تعظیم کی اور سب کی بہترین میزبانی کی۔ شاگرد کی اس عقیدت اور عزت کو دیکھ کر پنڈت جی کو احساس ہوا کہ حرام کی دولت سے حاصل کردہ طاقت کھوکھلی ہوتی ہے جبکہ معلمی کا پیشہ اگرچہ دولت نہیں دیتا مگر جو عزت اور روحانی سکون بخشتا ہے وہ لاجواب ہے، یوں انہیں اپنے پیشے کی عظمت کا یقین ہو گیا۔

Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)