سبق نمبر 1 سیر چوتھے درویش کی کلاس دسویں |Lesson no 2 Class 10th Urdu JKBOSE

URDU DARASGAH
0

یہ نوٹس سائٹ پر موجود پی ڈی ایف نوٹس سے بلکل مختلف ہیں

سیر چوتھے درویش کی 

داستان 

داستان اردو نثر کی ایک قدیم اور دلچسپ صنف ہے، جس کے لغوی معنی "قصہ یا کہانی" کے ہیں۔ پرانے زمانے میں جب لوگوں کے پاس تفریح کے ذرائع نہیں تھے، تو وہ داستانیں سن کر اپنا دل بہلاتے تھے۔ ان کہانیوں کی بنیاد حقیقت کے بجائے تخیل اور جادوئی دنیا پر ہوتی ہے۔ اس میں جن، پریاں، دیو، جادوگر اور طلسماتی واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔ داستان بہت طویل ہوتی ہے اور اس میں ایک قصے کے اندر کئی دوسرے قصے جڑے ہوتے ہیں۔ اس کا ہیرو ہمیشہ بہت بہادر، حسین اور نیک ہوتا ہے جو اپنی عقل اور طاقت سے بدی کی قوتوں کو شکست دے کر کامیابی حاصل کرتا ہے۔

اردو ادب میں داستان نگاری کو بہت اہمیت حاصل ہے۔اردو میں داستان نگاری کی روایت دکن سے شروع ہوئی۔ ملا وجہی کی ’’سب رس‘‘ اردو کی قدیم تمثیلی داستان مانی جاتی ہے۔ تاہم، شمالی ہند میں فورٹ ولیم کالج (کلکتہ) کے قیام نے داستان کو نیا عروج بخشا۔فورٹ ولیم کالج میں کئی داستانیں لکھی گئی جن میں میرامن کی داستان "باغ و بہار" بہت مشہور ہے۔اس کے علاوہ "فسانۂ عجائب" اور "داستانِ امیر حمزہ" بھی اہم سمجھی جاتی ہیں۔ اگرچہ ۱۸۵۷ء کے بعد جدید دور میں داستان کا رواج کم ہو گیا اور اس کی جگہ "ناول" نے لے لی، لیکن ہماری قدیم تہذیب، معاشرت اور شاندار زبان کو سمجھنے کے لیے داستان آج بھی ایک قیمتی سرمایہ ہے۔


میر امن دہلوی (حالاتِ زندگی )

میر امن کااصل نام "میر امان اللہ" اور تخلص "امن/لطف" تھا۔ ان کا وطن دہلی تھا۔ ان کے بزرگ مغل بادشاہوں کے دربار سے وابستہ تھے اور بڑے عہدوں پر فائز تھے۔ میر امن کی پرورش دہلی ہی میں ہوئی اور وہیں کی ٹھیٹھ اور بامحاورہ زبان ان کے مزاج میں رچ بس گئی۔

جب مغل سلطنت کو زوال آیا اور دہلی بیرونی حملہ آوروں کی وجہ سے تباہ ہو گئی، تو میر امن کا گھر بار بھی لٹ گیا۔ وہ روزگار کی تلاش میں دل شکستہ ہو کر دہلی چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ وہ پہلے عظیم آباد (پٹنہ) گئے اور وہاں کچھ عرصہ رہے، پھر وہاں سے کلکتہ پہنچے۔کلکتہ میں میر امن نے کچھ عرصہ بے روزگاری اور تنگ دستی میں گزارا۔ آخرکار میر بہادر علی حسینی کے ذریعے ان کی رسائی فورٹ ولیم کالج کے شعبہ ہندوستانی کے سربراہ ڈاکٹر جان گلکرسٹ تک ہوئی۔ گلکرسٹ نے میر امن کی قابلیت کو بھانپ لیا اور ۱۸۰۱ء میں انہیں کالج میں ملازم رکھ لیا۔ یہاں ان کی تنخواہ ۴۰ روپے ماہانہ مقرر ہوئی۔فورٹ ولیم کالج میں ملازمت کے دوران میر امن نے دو مشہور کتابیں لکھیں۔ باغ و بہار اور گنجِ خوبی 

میر امن کی اصل شہرت کی وجہ ان کا سادہ، سلیس اور فطری اندازِ بیان ہے۔ اس زمانے میں مشکل اور رنگین اردو لکھنے کا رواج تھا (جیسے فسانہ عجائب)، لیکن میر امن نے اسے ترک کر کے دہلی کی عام بول چال والی زبان استعمال کی۔

ان کے بارے میں سر سید احمد خان نے کہا تھا:

"میر امن کو اردو نثر میں وہی مرتبہ حاصل ہے جو میر تقی میرؔ کو اردو شاعری میں حاصل ہے۔"

فورٹ ولیم کالج سے سبکدوش ہونے کے بعد میر امن وہیں کلکتہ میں مقیم رہے۔ ان کی وفات کے بارے میں حتمی تاریخ معلوم نہیں، لیکن اکثر محققین کے مطابق ان کا انتقال ۱۸۰۸ء یا ۱۸۰۹ء میں کلکتہ میں ہوا

خلاصہ: سیر چوتھے درویش کی :

 یہ کہانی میرے امن کی مشہور کتاب باغ و بہار سے لی گئی ہے۔اس داستان میں چوتھا درویش بتاتا ہے کہ وہ چین کے بادشاہ کا بیٹا ہے۔ اس کے والد نے مرتے وقت وصیت کی تھی کہ شہزادے کے جوان ہونے تک اس کا چھوٹا بھائی (شہزادے کا چچا) سلطنت سنبھالے گا اور بعد میں تخت شہزادے کے حوالے کر دے گا۔ لیکن والد کے انتقال کے بعد چچا کی نیت خراب ہو گئی اور وہ شہزادے کی جان کا دشمن بن گیا۔شہزادے کی مدد "مبارک" نامی ایک وفادار حبشی غلام نے کی۔ جب چچا نے مبارک کو حکم دیا کہ شہزادے کو دھوکے سے قتل کر دے، تو مبارک نے شہزادے کو ایک خفیہ تہہ خانہ دکھایا۔ وہاں 39 طلسماتی بندر (مجسمے) موجود تھے جو جنوں کے بادشاہ "ملک صادق" نے مرحوم بادشاہ کو دیے تھے۔ اگر ان کی تعداد 40 ہو جاتی تو جنات کا زبردست لشکر بادشاہ کے تابع ہو جاتا۔مبارک نے چچا کو دھوکا دیا کہ وہ شہزادے کو مارنے لے جا رہا ہے، لیکن دراصل وہ اسے لے کر ملک صادق کے پاس پہنچ گیا۔ وہاں سلیمانی سرمے کی مدد سے وہ جنات کی دنیا میں داخل ہوئے۔ مبارک نے ملک صادق سے درخواست کی کہ وہ 40واں بندر عنایت کرے تاکہ شہزادہ اپنی سلطنت واپس لے سکے۔ ملک صادق نے مدد کا وعدہ کیا، لیکن ایک شرط رکھی کہ شہزادے کو ایک خاص کام انتہائی ایمانداری سے انجام دینا ہوگا، تب ہی اس کی مراد پوری ہوگی۔

سوال 1۔ فرش پر سے پتھر ہٹانے کے بعد شہزادے نے زمین کے اندر کیا دیکھا؟

جواب: فرش سے پتھر ہٹانے کے بعد شہزادے نےزمین کر اندر ایک عمارت اور چار مکان دیکھئے جن کے دالانوں پر دس دس مٹکے سونے کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے انتالیس مٹکوں کے اوپر ایک ایک اینٹ اور بندر تھا چالیسواں مٹکا ہیرے اور جواہرات سکتے بھرا ہوا تھا اس پر نہ اینٹ تھی نہ بندر۔اسکے علاؤہ اس نے ایک حوض دیکھا جو ہیرے اور جواہرات سے لبالب بھرا ہوا تھا۔

سوال ۲: ملک صادق کون تھے اور شہزادے کے ساتھ اُن کا کیا رشتہ تھا؟

جواب: ملک صادق جنات کابادشاہ تھاوہ شہزادے کے والد مرحوم کا گہرا دوست تھا۔

سوال ۳: شہزادے کے چچا کیلئے کیوں کہا گیا ہے کہ وہ ’’بجائے ابوجہل‘‘ کے تھے؟

شہزادے کے چچا کو ’’بجائے ابوجہل‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ وہ ظلم، عہد شکنی اور خیانت کی بدترین مثال تھا۔ اس نے اپنے بھائی سے کیے گئے وعدے کے خلاف ورزی کرتے ہوئے یتیم بھتیجے کی سلطنت ہڑپ کر لی اور سگے خون کا پاس رکھنے کے بجائے حسد میں آ کر شہزادے کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ اس کی یہ سنگدلی اور بدنیتی ابوجہل کے کردارسے مشابہت رکھتی ہے۔ 

Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)