سبق نمبر 2 | اور مزاج دار لٹ گئی | Aur mizajdar Lut Gayi JKBOSE CLASS 10TH LESSEN 2

URDU DARASGAH
0

یہ نوٹس سائٹ پر موجود پی ڈی ایف نوٹس سے بلکل مختلف ہیں


اور مزاج دار لٹ گئی 

 ناول

لفظ "ناول"انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی نئی بات یانئے کے ہیں۔انگریزی میں بھی یہ لفظ اطالوی زبان کے لفظ ناویلہ سے لیا گیا ہے ۔ ادب میں ناول ایک ایسی لمبی کہانی کو کہتے ہیں جو ہماری حقیقی زندگی کے بہت قریب ہو۔ پرانی داستانوں کے برعکس، ناول میں جنوں، پریوں یا جادوئی کرشموں کا ذکر نہیں ہوتا، بلکہ اس میں ہمارے جیسے عام انسانوں کی زندگی، ان کے مسائل، خوشی و غم اور معاشرتی حالات کو بیان کیا جاتا ہے۔ اس میں کہانی، پلاٹ، کردار اور مکالمے اس ترتیب سے پیش کیے جاتے ہیں کہ پڑھنے والے کو وہ سب سچ اور اپنے آس پاس کی دنیا کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔

اردو زبان میں ناول لکھنے کا رواج انیسویں صدی کے آخر میں انگریزی ادب کے اثر سے شروع ہوا۔ اردو کے سب سے پہلے ناول نگار ڈپٹی نذیر احمد تسلیم کیے جاتے ہیں، جنہوں نے "مراۃ العروس" لکھ کر اس اردو ادب میں اس صنف کی بنیاد رکھی۔ ان کے بعد رتن ناتھ سرشار، پریم چند، مرزا ہادی رسوا اور قرۃ العین حیدر جیسے بڑے مصنفین نے شاندار ناول لکھ کر اسے بلندی تک پہنچایا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ناول کے موضوعات بھی بدلتے رہے؛ شروع میں یہ صرف اصلاح کے لیے لکھے گئے، پھر ان میں تاریخ، رومانیت اور عام آدمی کے دکھ درد بھی 

شامل ہو گئے، جس سے یہ صنف آج بہت مقبول ہے۔


مولوی نذیر احمد دہلوی (حالاتِ زندگی)


مولوی نذیر احمد 1830ء (بعض روایات کے مطابق 1836ء) میں ضلع بجنور (بھارت) کے ایک گاؤں "ریہر" میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام مولوی سعادت علی تھا جو ایک غریب مگر علم دوست انسان تھے۔ نذیر احمد کا تعلق ایک مذہبی اور علمی گھرانے سے تھا۔

ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کرنے کے بعد وہ دہلی آ گئے۔ یہاں انہوں نے دہلی کالج میں داخلہ لیا۔ ان کا زمانہ طالب علمی بہت غربت اور مشکلات میں گزرا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ جس مسجد میں رہتے تھے، وہاں مولوی صاحب کے گھر کا کام کاج اور مصالحہ پیسنے کے بدلے انہیں کھانا ملتا تھا۔ اتنی مشکلات کے باوجود انہوں نے اپنی ذہانت اور محنت سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور کالج میں ہمیشہ اول رہے۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ایک مدرس کے طور پر نوکری شروع کی۔ اپنی قابلیت کی بنا پر وہ ترقی کرتے گئے اور "ڈپٹی کلکٹر" کے عہدے تک پہنچ گئے، اسی لیے انہیں "ڈپٹی نذیر احمد" کہا جاتا ہے۔ بعد میں انہوں نے ریاست حیدرآباد دکن میں بھی بڑے عہدوں پر کام کیا۔ انگریز حکومت نے ان کی خدمات کے صلے میں انہیں "شمس العلماء" کا خطاب دیا۔

اردو ادب کا یہ عظیم محسن 3 مئی 1912ء کو فالج کے حملے کی وجہ سے دہلی میں انتقال کر گیا اور وہیں دفن ہوئے

سوالات

س1: لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے حجن کون سی چیزیں اپنے پاس رکھتی تھی؟

جواب: لوگوں کو دھوکہ دینے حجم اپنے پاس تسبیح، خاکِ شفا، زمزمیاں، مدینہ منورہ کی کھجوریں، کوہِ طور کا سرمہ، خانہ کعبہ کے غلاف کا ٹکڑا، عقیق البحر، مونگے کے دانے، نادِ علی، پنجسورے اور بہت سی دوائیاں رکھتی تھی۔

سوال 2: حجن نے مزاج دار سے قیمت لئے بغیر اسکو فیروزے کی انگوٹھی کیوں دی؟

جواب: حجن نے مزاج دار کا اعتماد حاصل کرنے اور اسے اپنے جال میں پھنسانے کے لیے اسے فیروزے کی انگوٹھی مفت میں تحفے کے طور پر دے دی تاکہ وہ اس کی گرویدہ ہو جائے۔

سوال 3: مزاج دار بہو کو بے وقوف بنانے کے لئے حجن نے کیا کیا؟

جواب: مزاج دار کو بے وقوف بنانے کے لیے حجن نے سب سے پہلے خوشامدانہ باتیں کیں اور مذہبی ہونے کا ڈھونگ رچایا۔ اس نے قیمتی چیزیں (جیسے ازار بند) بہت سستے داموں بیچ کر اس کی لالچ بڑھائی پھر مصنوعی ہمدردی جتائی ۔

سوال 4: محمد عاقل حجن کی چال کیوں نہ سمجھ سکا؟

جواب: محمد عاقل اگرچہ سمجھدار تھا لیکن لالچ نے اس کی عقل پر پردہ ڈال دیا تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ حجن نے دو روپے کا ازار بند صرف چار آنے میں دے دیا ہے، تو وہ اپنا فائدہ دیکھ کر خوش ہو گیا اور حجن کو ایک نیک بخت عورت سمجھنے لگا۔ اسی طمع (لالچ) کی وجہ سے وہ اس کی چال نہ سمجھ سکا۔

سوال 5: حجن مزاج دار کے زیورات لوٹ لینے میں کس طرح کامیاب ہو گئی؟

جواب: حجن نے زیورات صاف کرنے کے بہانے تمام زیور ایک پوٹلی میں ڈلوائے اور کہا کہ اسے اجلوادوں گی۔ پھر موقع پا کر اس نے ملازمہ زلفن کو بازار سے ناک کی کیل لانے کے بہانے گھر بھیج دیا۔ جب زلفن چلی گئی تو حجن زیورات لے کر فرار ہو گئی اور یوں وہ کامیاب ہو گئی

درج ذیل بیانات صحیح ہیں یا غلط؟ اپنے جوابات کو صحیح ثابت کرنے کے لئے پانچ پانچ جملے لکھیے۔

1. ہجن مکارہ تھی۔ (یہ بیان صحیح ہے)

حجن نے بھیس بدل کر اور مذہبی چیزیں دکھا کر لوگوں کو متاثر کیا۔

اس نے قیمتی چیزیں سستی بیچ کر لوگوں کا اعتماد جیتا جو کہ ایک چال تھی۔

اس نے جھوٹی کہانیاں سنا کر مزاج دار کو اپنے جال میں پھنسایا۔

اس نے زیورات صاف کرنے کا بہانہ بنا کر دھوکے سے سارے زیور ہتھیا لیے۔

اس نے بڑی ہوشیاری سے ملازمہ کو گھر سے باہر بھیجا تاکہ وہ سکون سے چوری کر سکے۔

2. مزاج دار بہو بے وقوف تھی۔ (یہ بیان صحیح ہے)

مزاج دار بغیر تحقیق کے ایک اجنبی عورت کی باتوں میں آ گئی۔

اس نے لالچ میں آکر ہجن کو گھر میں بار بار آنے کی اجازت دی۔

وہ ہجن کی چکنی چپڑی باتوں اور سستی چیزوں کے لالچ میں اندھی ہو گئی۔

اس نے اپنے شوہر کی تنبیہ کے باوجود حجن پر اندھا اعتماد کیا۔

اس نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اور زیورات ایک انجان عورت کے حوالے کر دیے۔

3. محمد عاقل کی عقل کام نہ کر سکی۔ (یہ بیان صحیح ہے)

محمد عاقل نے شروع میں شک کیا لیکن سستی چیز دیکھ کر لالچ میں آ گیا۔

مصنف کے مطابق لالچ ایسی بری چیز ہے کہ بڑے بڑے سیانے بھی دھوکا کھا جاتے ہیں۔

اس نے یہ نہیں سوچا کہ کوئی اجنبی اپنا نقصان کر کے اسے سستی چیز کیوں دے گا۔

اس نے حجن کے دوبارہ گھر آنے پر سختی سے پابندی نہیں لگائی۔

وہ اپنے فائدے کی خوشی میں حجن کی اصلیت پہچاننے سے قاصر رہا

Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)