ڈراما
ڈراما ادب کی ایک قدیم صنف ہے۔ ڈراما یونانی لفظ ڈراو سے نکلا ہے جسکے معنی کر کے دکھانا ہے۔ یہ ایک ایسی صنف ہے جس میں انسانی زندگی کی حقیقتوں اور صداقتوں کو اسٹیج پر نقل کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے۔ ڈراماکوعمل سے جڑا ہوا ادب کہا جاتا ہے یعنی ایسا ادب جس کو مختلف فنون لطیفہ جیسے موسیقی ، رقص گیت اور مصوری کی مدد سے زیرعمل لایا جاتا ہے۔ تاہم ڈرامہ کے اجزائے تر کیبی چھ ہیں، قصہ یا پلاٹ، کردار،نفس موضوع، مکالمہ ،موسیقی،اوربصری مواد۔
اردو میں سب سے پہلے واجدعلی شاہ نے "رادھا کنہیا‘ لکھ کر اس صنف کا آغاز کیا۔ اس کے بعد جس ڈرامے کواردو ڈرامے کا نقط آغاز کہا جاتا ہے وہ ڈراما "اندر سبھا "ہے جسے آغاحسین امانت نے تحریر کیا۔ اسکے بعد جن ڈراما نگاروں نے اس صنف کی پیروی کی ان میں آغا حشرکاشمیری، | اوپندر ناتھ اشک ،محمد مجیب، امتیاز علی تاج، ابراہیم یوسف وغیرہ قابل ذکر ہیں
شوکت تھانوی
شوکت تھانوی کا اصل نام محمد عمر تھا ۔وہ اتر پردیش (یو پی) کے ضلع متھرا کے مقام بندرابن میں 4 فروری 1907ء میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام صدیق احمد تھا ۔ ان کے والد محکمہ پولیس میں ملازم تھے۔ شوکت تھانوی کی اردو، فارسی کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ان کے والد جب ملازمت سے سبکدوش ہوئے تو شوکت تھانوی ان کے ساتھ پہلے بھوپال اور پھر لکھنو چلے گئے جہاں ان کے والد نے مستقل رہائش اختیار کر لی۔ والد کی وجہ سے تعلیم کو ادھورا چھوڑ کر معاش کی فکر کرنی پڑی۔ صحافت سے دلچسپی تھی۔ ہندوستان کے کئی مشہور اخباروں سے وابستہ رہے۔ ان میں ہمدم، ہمت، ہفت روزہ سرپنچ زیادہ مشہور ہیں۔ اسی ہفتہ وار اخبار نے انہیں مزاح نگار کی حیثیت سے متعارف کرایا۔ جب انہوں نے مزاحیہ افسانہ سودیشی ریل تو ان کی شہرت دور دور تک پھیل گئی اسی شہرت کے سبب انہیں آل انڈیا ریڈیو میں ملازم مل گئی ۔ پاکستان بننے کے بعد کراچی چلے گئے اور مختلف اخبارات سے وابستہ رہے۔ ریڈیو پاکستان سے ان کا مستقل فیچر (قاضی جی) بہت مقبول ہوا۔ آخری دنوں میں (جنگ) راولپنڈی ایڈیشن کے ایڈیٹر تھےآپ کو تمغائے امتیاز اعزاز سے بھی نوازا گیا۔4 مئی 1963ء میں انتقال ہوا۔ شوکت تھانوی شاعر بھی تھے، ان کا مجموعہ کلام (گہرستان) کے نام سے شائع ہوا۔ ش
سودیشی ریل، موجِ تبسم ، طوفان تبسم، شیش محل، جوڑ توڑ، قاضی جی ، کارٹون اور سنی سنائی ان کی مشہور کتابیں ہیں ۔
سوالات :
س1: منشی جی کو کس کا انتظارتھا؟
جواب: منشی جی کو تار کے آنے کا انتظار تھا۔
س2:منشی جی کیا منصوبے باندھ رہے تھے؟
جواب:منشی کوٹھی،موٹرکارخریدنے،بیٹے کوایک اچھےانگریزی اسکول میں پڑھانے اور باورچی کھانے میں نوکر چاکر رکھنے کے منصوبے بنارہے تھے۔
س3: ڈاکیہ کیا پیغام لایا؟
جواب: ڈاکیہ محمود بھائی کی بیوی کے انتقال کا پیغام لایا۔
سوال نمبر 4: ڈراما "لاٹری کا ٹکٹ" کی پوری کہانی اپنے الفاظ میں لکھیے؟
جواب: یہ خلاصہ شوکت تھانوی کے ڈرامے "لاٹری کا ٹکٹ" سے لیاگیا ہے ۔ اس ڈرامے میں چارکردار ہیں منشی جی منشی جی کی بیوی، سلیم اور ڈا کیہ۔منشی جی اس ڈرامے کا مرکزی کردار ہے اور وہی سارے ڈرامے میں دلچسپی پیدا کرتا ہے۔ منشی جی ڈاکیہ کے آنے کا انتظار کررہا ہوتا ہے۔ تاکہ ڈاکیہ آئے اور اسے لاٹری کے ٹکٹ کے بارے میں انعام ملنے کی خوشخبری سنا د ے منشی جی کو یہ یقین ہوتا ہے کہ لاٹری کا انعام اسے ہی ملنے والا ہے۔ اس لئے وہ طرح طرح کے منصوبے باندھ رہے تھے۔ اس نے ایک بڑی کوٹھی اورموٹر کارخریدنے، بچوں کا داخلہ ا نگر یز ی اسکول میں کرانے اور نئے گھر کے لئے نوکر چاکر اورباورچیوں کا بند بست کرانے کا منصوبہ بنا یا تھا۔ اپنے خیالات کا اشتراک وہ اپنی بیوی اور چھوٹے بھائی کے ساتھ کرتا ہے۔ چھوٹا بھائی اگر منشی جی کا دل رکھنے کے لئے اس کی باتیں سنتا ہے لیکن اس کی بیوی ان کی باتوں کو بے معنی اور فضول کی باتیں کہتی ہے ۔ ڈرامے کے آخر میں منشی جی کی امید کے مطابق ڈاکیہ دروازےپر تار لے کر آتا ہے۔ تار کے آنے سے جہاں گھر کے باقی سب لوگ حیران ہو جاتے ہیں ۔ وہیں منشی جی بہت بے چین ہو جاتے ہیں مگر یہ بے چینی اور حیرانی اس وقت ماتم میں تبدیل ہو جاتی ہے جب منشی جی کا بھائی یہ خبرپڑھتا ہے کہ یہ لاٹری کے ٹکٹ کاتا رنہیں ہے بلکہ منشی جی کے بھائی کی بیوی کے انتقال کی خبر ہے۔ یہ خبر سنتے ہی ساری خوشیاں غم میں تبدیل ہو جاتی ہے اور ڈراما ختم ہوجاتا ہے
س5: ان کرداروں پر مختصر نوٹ لکھئے۔
منشی جی، سلیم، ڈاکیہ
*منشی جی: منشی خیالی پکاؤ پکانے والا ایک بے عمل کردار ہے ۔جو بغیر محنت کے ہی دولت اور عیش و عشرت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ان کے مزاج میں سنجیدگی نہیں ہے اور عقل کی بھی کھوٹے ہیں ۔یہ ڈرامے کا مرکزی کردار ہے جو شروع سے آخر تک ساتھ دیتا ہے ۔
سلیم: سلیم اس ڈرامے میں ایک اہم کردار نبھارہے ہیں وہ منشی جی کی طرح دقیانوسی باتوں پر یقین نہیں کرتا ہے اس کے مزاج میں سنجیدگی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ ڈرامے میں یہ ایک عقل مند کردار معلوم ہوتا ہے۔ یہ نہ خیالی پلاؤ پکاتا ہے ہے اور نہ ہی خیالی پکاؤ پکانے والوں کا ساتھ دیتا ہے ۔
ڈاکیہ : یہ کردار اس ڈرامے کا ایک چھوٹا سا کردار ہے جو آخر پر سامنے آتا ہے۔اس ڈرامے میں ان کی ذمہ داری پیغام پہنچاناہے جس کووہ بڑے احسن طریقے سے انجام دیتا ہے
گرامر:
صفتِ ذاتی کی تعریف: وہ صفت جس سے کسی
چیز یا شخص کی اندرونی حالت، خوبی یا خامی ظاہر ہو، اسے 'صفتِ ذاتی' کہتے ہیں۔ یہ
وہ خصوصیت ہوتی ہے جو اس چیز کی اپنی ذات کا حصہ ہوتی ہے۔
صفتِ
ذاتی کے تین درجے:
۱۔ تفصیلِ نفسی (Positive Degree): اس میں
کسی چیز کی خوبی یا خامی کا ذکر عام انداز میں کیا جاتا ہے اور اس کا مقابلہ کسی
دوسری چیز سے نہیں ہوتا۔
·
مثال: وہ ایک
ہوشیار لڑکا ہے۔ (یہاں
'ہوشیار' تفصیلِ نفسی ہے)۔
۲۔ تفصیلِ بعض (Comparative Degree): اس میں
ایک چیز کو دوسری چیز سے بڑھ کر یا کم بتایا جاتا ہے۔ یعنی دو چیزوں کے درمیان
موازنہ کیا جاتا ہے۔
·
مثال: احمد،
اسلم سے زیادہ ہوشیار ہے۔
(یہاں 'زیادہ ہوشیار' تفصیلِ بعض ہے)۔
۳۔ تفصیلِ کل (Superlative Degree): اس میں
ایک چیز کو تمام دوسری چیزوں سے بڑھ کر یا کم بتایا جاتا ہے۔ یعنی اس کا مقابلہ
پوری جماعت یا سب چیزوں سے کیا جاتا ہے۔
·
مثال: احمد
کلاس میں سب سے زیادہ ہوشیار
لڑکا ہے۔ (یہاں 'سب سے زیادہ ہوشیار' تفصیلِ کل ہے)۔
٭ درج ذیل الفاظ کو اس طرح جملوں میں استعمال کیجئے کہ تذکیر و تانیث واضح ہو جائے۔
۱۔ بات ۔۔آپ کی بات بہت اچھی ہے، اسے ہمیشہ یاد
رکھوں گا۔ (مونث)
۲۔ تار ۔۔ اسلم نے تار
بھیجا۔ (مذکر)
۳۔ دوڑ ۔۔ احمد نے اسکول کے
مقابلے میں بہت تیز دوڑ لگائی۔ (مونث)
۴۔ دولت۔۔ بیماری
میں انسان کو احساس ہوتا ہے کہ صحت بہت بڑی دولت ہے۔ (مونث)
۵۔ چاند۔۔ چاند چمک رہا
ہے۔ (مذکر)
۶۔ انعام ۔۔ زاہد
کو اس کی محنت پر بہترین انعام ملا۔ (مذکر)
