Khudi Ka Sirre Nihan Tashreeh | خودی کا سرِ نہاں لا الہ الا اللہ کی تشریح

Anonymous
1

علامہ اقبال: خودی کا سرِ نہاں لا الہ الا
اللہ (آسان تشریح)

Khudi Ka Sirre Nihan Tashreeh - Allama Iqbal Zarb e Kaleem

غزل: خودی کا سرِ نہاں لا الہ الا اللہ — شاعر: علامہ محمد اقبالؔ (کتاب: ضربِ کلیم)

غزل کا تعارف

یہ مشہور و معروف غزل حکیم الامت علامہ محمد اقبالؔ کے شعری مجموعے "ضربِ کلیم" سے لی گئی ہے۔ اس غزل کا بنیادی محور 'کلمہ توحید' (لا الہ الا اللہ) اور انسان کی 'خودی' (اپنی ذات کی پہچان) ہے۔ اقبال نے اس غزل میں نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ کس طرح اللہ کی ذات پر پختہ یقین انسان کو دنیا کے تمام جھوٹے خداؤں، لالچ اور خوف سے آزاد کر دیتا ہے۔

خودی کا سرِ نہاں: اشعار کی مکمل تشریح

خودی کا سرِ نہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغِ فساں لا الہ الا اللہ

آسان تشریح:

انسان کی اپنی پہچان اور کامیابی کا سب سے بڑا راز کلمہ توحید (لا الہ الا اللہ) میں چھپا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگر انسان کی ذات کو ایک تلوار مان لیا جائے، تو اللہ پر یقین وہ پتھر ہے جس پر رگڑ کر اس تلوار کو تیز کیا جاتا ہے۔ یعنی اللہ کی ذات پر پختہ یقین کے بغیر انسان دنیا میں کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دے سکتا۔

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، لا الہ الا اللہ

آسان تشریح:

آج کی دنیا ایک بت خانہ بن گئی ہے جہاں لوگوں نے دولت، طاقت اور لالچ کو اپنا خدا بنا لیا ہے اور سچے رب کو بھول گئے ہیں۔ آج کے دور کو بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے کسی بہادر اور سچے انسان کی ضرورت ہے جو آ کر اللہ کے نام کی طاقت سے ان تمام جھوٹے بتوں کو توڑ دے اور لوگوں کو سیدھا راستہ دکھائے۔

کیا ہے تو نے متاعِ غرور کا سودا
فریبِ سود و زیاں، لا الہ الا اللہ

آسان تشریح:

اے مسلمان! تو نے دنیا کی دولت اور جھوٹی شان و شوکت سے دل لگا لیا ہے، جو کہ سراسر دھوکا ہے۔ تو دنیا کے نفع اور نقصان کے چکروں میں بری طرح پھنس گیا ہے۔ اس دھوکے اور فریب سے نکلنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ تو سچے دل سے "لا الہ الا اللہ" پر یقین رکھے۔

یہ مال و دولتِ دنیا، یہ رشتہ و پیوند
بتانِ وہم و گماں، لا الہ الا اللہ

آسان تشریح:

اے انسان! یہ دنیا کا مال و دولت اور یہ خاندانی رشتے جن پر تجھے بہت غرور ہے، یہ سب محض وہم ہیں اور ان کی حقیقت مٹی کے جھوٹے بتوں سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس دنیا میں صرف ایک ہی سچائی ہمیشہ قائم رہنے والی ہے، اور وہ اللہ کی ذات ہے۔

خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری
نہ ہے زماں ، نہ مکاں لا الہ الا اللہ

آسان تشریح:

آج کے انسان کی عقل صرف اس مادی دنیا کی غلام بن کر رہ گئی ہے اور اسی کو سب کچھ سمجھ بیٹھی ہے۔ حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ یہ دنیا اور وقت بہت عارضی ہیں اور ایک دن ختم ہو جائیں گے۔ صرف اللہ کا نام اور کلمہ توحید ہی وہ حقیقت ہے جو ہمیشہ باقی رہے گی۔

یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں، لا الہ الا اللہ

آسان تشریح:

دنیاوی گیت گانے کے لیے خوشی اور بہار کا موسم چاہیے ہوتا ہے، لیکن کلمہ توحید کا گیت کسی موسم کا محتاج نہیں۔ مسلمانوں پر چاہے خوشحالی کا دور ہو (بہار) یا مشکل اور برے حالات ہوں (خزاں)، انہیں ہر حال میں صرف اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور اسی کا نام لینا چاہیے۔

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکمِ اذاں،لا الہ الا اللہ

آسان تشریح:

علامہ اقبال کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہے کہ میری قوم کے لوگوں نے اپنے دلوں میں لالچ اور دنیا پرستی کے کئی بت چھپا رکھے ہیں اور وہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے ہیں۔ لیکن پھر بھی میں مایوس نہیں، مجھے اللہ کی طرف سے یہ حکم ملا ہے کہ میں اذان دیتا رہوں (یعنی کلمے کا نعرہ لگاتا رہوں) تاکہ میری قوم دوبارہ سچائی کے راستے پر آ جائے۔

مرکزی خیال

اس غزل کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اللہ کی ذات اور اس کی توحید (لا الہ الا اللہ) پر کامل ایمان ہی انسان کی اصل طاقت ہے۔ جب تک انسان مادی دنیا کے لالچ، خوف، اور وہم و گمان کے بتوں کو نہیں توڑتا، وہ اپنی حقیقی منزل اور 'خودی' کو نہیں پا سکتا۔ توحید کا عقیدہ ہی وہ واحد روشنی ہے جو انسان کو ہر طرح کی غلامی سے نجات دلا سکتی ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)

"خودی کا سرِ نہاں لا الہ الا اللہ" کس شاعر کی غزل ہے؟

یہ مشہور غزل مفکرِ پاکستان، حکیم الامت علامہ محمد اقبالؔ کی تخلیق ہے۔

یہ غزل علامہ اقبال کی کس کتاب سے لی گئی ہے؟

یہ غزل علامہ اقبال کے مشہور اردو شعری مجموعے "ضربِ کلیم" میں شامل ہے۔

شعر میں "اپنے براہیم کی تلاش میں ہے" سے کیا مراد ہے؟

اس سے مراد یہ ہے کہ موجودہ دور میں بھی لوگ مادیت پرستی کے بتوں (دولت، لالچ، طاقت) کے پجاری بن چکے ہیں۔ اس لیے آج بھی کسی ایسے بہادر اور سچے انسان کی ضرورت ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح ان باطل خداؤں کو توڑ کر سچائی کا راستہ دکھائے۔

اس علم کو آگے پھیلائیں!

اردو درسگاہ کے ساتھیوں، کیا آپ کو علامہ اقبال کی اس غزل کی تشریح آسان اور واضح لگی؟ اگر آپ کو اس پوسٹ سے فائدہ ہوا ہے تو اسے واٹس ایپ اور فیس بک پر اپنے دوستوں اور دیگر طلباء کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔ اگر کوئی سوال ہو تو نیچے کمنٹ میں پوچھیں!

Post a Comment

1Comments
Post a Comment