Class 11th JKBOSE Urdu Notes Lesson 3
سبق: ایک یادگار وصیت. جواہر لعل نہرو
تعارف
"ایک یادگار وصیت" پنڈت جواہر لعل نہرو کی ایک نہایت اہم تحریر ہے جو ان کی تقاریر اور خیالات سے ماخوذ ہے۔ اس سبق میں مصنف نے وطن سے محبت، قومی یکجہتی، تہذیبی شعور اور انسان دوستی جیسے بلند اقدار کو مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ پنڈت نہرو ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے نمایاں رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ آزادی کے بعد وہ ملک کے پہلے وزیر اعظم بنے اور قومی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس سبق کے ذریعے طلبہ نہ صرف پنڈت نہرو کی شخصیت اور افکار سے واقف ہوتے ہیں بلکہ وطن سے محبت، اتحاد، رواداری اور قومی خدمت کی اہمیت کو بھی سمجھتے ہیں۔
پنڈت جواہر لعل نہرو کے حالاتِ زندگی
پنڈت جواہر لعل نہرو 14 نومبر 1889ء کو الہٰ آباد میں ایک خوشحال اور تعلیم یافتہ خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد موتی لال نہرو ملک کے معروف وکیل اور سیاسی رہنما تھے۔ نہرو نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی، بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان گئے جہاں انہوں نے قانون کی تعلیم مکمل کی۔ ہندوستان واپس آنے کے بعد اگرچہ انہوں نے وکالت کا پیشہ اختیار کیا، لیکن جلد ہی مہاتما گاندھی کے افکار سے متاثر ہو کر تحریکِ آزادی میں شامل ہوگئے۔
اپنی ذہانت، قائدانہ صلاحیت اور قومی جذبے کی بدولت وہ جلد ہی انڈین نیشنل کانگریس کے اہم رہنماؤں میں شمار ہونے لگے اور کئی مرتبہ اس کے صدر منتخب ہوئے۔ 1947ء میں ہندوستان کی آزادی کے بعد وہ ملک کے پہلے وزیر اعظم بنے۔ انہوں نے جدید ہندوستان کی تعمیر، صنعتی ترقی، سائنسی تحقیق، تعلیمی اداروں کے قیام اور جمہوری نظام کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی حکومت میں ترقی، امن اور قومی یکجہتی کو خاص اہمیت دی گئی۔ 27 مئی 1964ء کو ان کا انتقال ہوا، لیکن ایک مدبر سیاست دان، دانشور اور محبِ وطن رہنما کی حیثیت سے ان کی خدمات آج بھی یاد کی جاتی ہیں۔
طرزِ تحریر پنڈت جواہر لال نہرو
پنڈت جواہر لعل نہرو بنیادی طور پر انگریزی زبان کے ممتاز مصنف تھے، تاہم ان کی تقاریر میں اردو اور ہندی کے عام فہم الفاظ نمایاں طور پر ملتے ہیں۔ ان کی زبان سادہ، مؤثر، دل نشیں اور فکری گہرائی کی حامل ہے۔ وہ اپنے خیالات کو نہایت شائستگی، اعتدال اور منطقی انداز میں پیش کرتے ہیں، جس سے قاری یا سامع آسانی سے متاثر ہو جاتا ہے۔
ان کی تحریروں میں وطن دوستی، قومی اتحاد، امن، انسان دوستی، مذہبی رواداری اور ترقی پسند سوچ نمایاں نظر آتی ہے۔ وہ رسم و رواج کی اندھی تقلید کے مخالف تھے، لیکن قومی تہذیب اور تاریخی ورثے کا احترام بھی ضروری سمجھتے تھے۔ ان کی معروف تصنیف "تلاشِ ہند" (The Discovery of India) تاریخ، تہذیب اور قومی شعور کے حوالے سے ایک اہم کتاب سمجھی جاتی ہے۔
سبق: "ایک یادگار وصیت" کا مکمل خلاصہ
سبق "ایک یادگار وصیت" پنڈت جواہر لعل نہرو کے ان خیالات پر مشتمل ہے جو انہوں نے اپنی وصیت میں بیان کیے۔ اس تحریر میں نہرو نے اپنی زندگی، اپنے وطن سے محبت، عوام کے ساتھ تعلق، ہندوستانی تہذیب اور قومی یکجہتی کے بارے میں نہایت دل نشیں انداز میں اظہارِ خیال کیا ہے۔ وہ سب سے پہلے اس محبت اور اعتماد کا ذکر کرتے ہیں جو ہندوستان کے عوام نے انہیں اپنی پوری زندگی میں دیا۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ عوام کی بے لوث محبت اور احترام کا حقیقی بدلہ ادا کرنا کسی انسان کے لیے ممکن نہیں، کیونکہ محبت ایک ایسی قیمتی دولت ہے جسے کسی مادی چیز سے نہیں تولا جا سکتا۔ اسی لیے وہ اپنی باقی زندگی بھی قوم کی خدمت کے لیے وقف رکھنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں اور آزادی کی جدوجہد میں اپنے تمام ساتھیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جنہوں نے ہر مشکل اور ہر آزمائش میں ان کا ساتھ دیا۔
اپنی وصیت میں پنڈت نہرو اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان کی وفات کے بعد ان کے نام پر کوئی غیر ضروری مذہبی رسم یا ظاہری تقریب نہ کی جائے۔ ان کے نزدیک انسان کی عظمت اس کے اعمال میں ہوتی ہے، نہ کہ مرنے کے بعد کی رسومات میں۔ وہ رسم پرستی کو پسند نہیں کرتے اور اسے بے مقصد سمجھتے ہیں۔ اسی لیے وہ وصیت کرتے ہیں کہ ان کی راکھ کا ایک چھوٹا سا حصہ دریائے گنگا میں بہا دیا جائے، مگر اس عمل کا مقصد کوئی مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ ہندوستان کی قدیم تہذیب اور تاریخی روایت سے اپنی وابستگی کا اظہار ہے۔ ان کے نزدیک گنگا صرف ایک دریا نہیں بلکہ ہندوستان کی ہزاروں سالہ تہذیب، تاریخ، ثقافت اور قومی زندگی کی علامت ہے۔
پنڈت نہرو گنگا کو ہندوستان کی تہذیبی شناخت قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس دریا نے صدیوں سے اس سرزمین کے عروج و زوال، خوشیوں اور غموں، مختلف تہذیبوں، قوموں اور نسلوں کو اپنے کناروں پر پروان چڑھتے دیکھا ہے۔ ہندوستان کی بے شمار داستانیں، لوک کہانیاں، گیت، تہوار اور تاریخی واقعات گنگا سے وابستہ ہیں۔ اسی لیے وہ چاہتے ہیں کہ ان کی راکھ کا ایک حصہ اس دریا میں شامل ہو جائے تاکہ وہ علامتی طور پر اس عظیم تہذیبی روایت کا حصہ بنے رہیں۔
وہ اپنی باقی ماندہ راکھ کے بارے میں یہ خواہش ظاہر کرتے ہیں کہ اسے ہوائی جہاز کے ذریعے ہندوستان کے سرسبز کھیتوں پر بکھیر دیا جائے۔ اس خواہش کے پیچھے ان کی وطن سے بے پناہ محبت پوشیدہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی راکھ ہندوستان کی مٹی میں مل کر ہمیشہ کے لیے اس دھرتی کا حصہ بن جائے جس کی آزادی، ترقی اور خوش حالی کے لیے انہوں نے اپنی پوری زندگی وقف کر دی تھی۔ ان کے نزدیک انسان کی اصل پہچان اس کی اپنی سرزمین اور اپنے عوام سے وابستگی ہے۔
اس سبق میں پنڈت نہرو قوم کو ایک اہم پیغام بھی دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر قوم کو اپنی پرانی روایات کا احترام ضرور کرنا چاہیے، لیکن ایسی فرسودہ رسموں اور رواجوں کو ترک کر دینا چاہیے جو ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہوں۔ ان کا خیال ہے کہ قومیں اسی وقت آگے بڑھتی ہیں جب وہ وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو بدلنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ تاہم وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ماضی کی ہر چیز قابلِ ترک نہیں ہوتی، بلکہ اپنی تہذیب، ثقافت اور اعلیٰ روایات پر فخر کرنا ہر قوم کی ذمہ داری ہے۔
یہ سبق دراصل وطن سے بے لوث محبت، قومی اتحاد، تہذیبی شعور، انسان دوستی اور ترقی پسند فکر کا درس دیتا ہے۔ پنڈت جواہر لعل نہرو اپنی وصیت کے ذریعے یہ پیغام دیتے ہیں کہ ایک سچا محبِ وطن اپنی زندگی ہی نہیں بلکہ اپنی آخری خواہش میں بھی اپنے وطن، اس کی مٹی، اس کی تہذیب اور اس کے عوام سے اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے۔ یہی جذبہ اس سبق کو ایک یادگار اور فکر انگیز تحریر بناتا ہے۔
سوال نمبر 3
سوال:
مندرجہ ذیل اقتباس کا حاصلِ سبق اپنے الفاظ میں لکھیے:
"اگرچہ میں نے پرانی روایات، رسموں کو چھوڑ دیا ہے، میں چاہتا بھی ہوں کہ ہندوستان ان تمام زنجیروں کو توڑ دے، جن میں جکڑا ہوا ہے، جس کو اس کو آگے بڑھنے سے روکتی ہیں اور دیس میں رہنے والوں میں پھوٹ ڈالتی ہیں، جو بہت سے لوگوں کے لیے بوجھ بنی ہوئی ہیں اور ان کے پھولنے پھلنے میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔ اگرچہ میں یہ سب چاہتا ہوں، پھر بھی میں نہیں چاہتا کہ پرانی باتوں سے بالکل الگ ہو جاؤں۔ مجھے اس عظیم ورثے پر فخر ہے جو ہمارا رہا ہے اور ہمارا ہے، اور مجھے بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ میں بھی ہندوستان کے دوسرے لوگوں کی طرح اس زنجیر کی ایک کڑی ہوں، جو ٹوٹی نہیں اور نہیں ٹوٹے گی، بلکہ ہندوستان کی قدیم تاریخ تک پہنچی ہوئی ہے۔"
جواب:
اس اقتباس میں پنڈت جواہر لعل نہرو نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قوم کی ترقی کے لیے فرسودہ رسم و رواج اور ایسی روایات کو ترک کرنا ضروری ہے جو اتحاد، مساوات اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ تاہم وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ماضی کے تمام ورثے کو یکسر چھوڑ دینا درست نہیں، کیونکہ ہماری تہذیب، ثقافت اور تاریخ ہماری قومی شناخت کا حصہ ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ پرانی روایات میں سے مفید اور تعمیری اقدار کو برقرار رکھے اور نقصان دہ رسموں کو چھوڑ دے۔ اسی توازن میں قوم کی ترقی اور تہذیبی بقا پوشیدہ ہے۔
سوال نمبر 4
حبِ الوطنی کے موضوع پر مضمون
حبِ الوطنی سے مراد اپنے وطن، اس کی مٹی، تہذیب، عوام اور قومی اقدار سے سچی محبت کرنا ہے۔ یہ ایک فطری اور پاکیزہ جذبہ ہے جو ہر انسان کے دل میں موجود ہوتا ہے۔ انسان دنیا کے کسی بھی حصے میں چلا جائے، اپنے وطن کی یاد ہمیشہ اس کے دل میں تازہ رہتی ہے۔
ایک سچا محبِ وطن ہمیشہ اپنے ملک کی عزت، سلامتی اور خوش حالی کے لیے کام کرتا ہے۔ وہ قانون کی پابندی کرتا ہے، ایمانداری سے اپنے فرائض انجام دیتا ہے، تعلیم حاصل کرتا ہے اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرتا ہے۔ ایسے لوگ وطن کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تاریخ میں بے شمار عظیم شخصیات نے اپنے وطن کی آزادی اور سربلندی کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے ذاتی مفاد کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دی اور آنے والی نسلوں کے لیے آزادی اور امن کی بنیاد رکھی۔
ہمیں بھی چاہیے کہ وطن کی صفائی، امن، اتحاد اور ترقی کے لیے بھرپور کوشش کریں، کیونکہ مضبوط اور ترقی یافتہ ملک ہی اپنے شہریوں کو بہتر مستقبل فراہم کر سکتا ہے۔ حقیقی حبِ الوطنی صرف نعروں سے نہیں بلکہ اچھے کردار، محنت اور خدمتِ وطن سے ثابت ہوتی ہے۔
قول: "وطن کی خدمت ہی بہترین قومی عبادت ہے۔"
سوال 5:
اپنے غیر ملکی دوست کے نام ایک خط لکھیے اور بھارت میں بھائی چارے کی روایت کے بارے میں مختصر جانکاری دیجیے۔
نئی دہلی، بھارت
۲۱ جولائی ۲۰۲۶
میرے پیارے دوست،
آداب!
امید ہے کہ تم خیریت سے ہو گے۔ پچھلے خط میں تم نے مجھ سے بھارت کے کلچر اور یہاں کے رہن سہن کے بارے میں پوچھا تھا۔ آج میں تمہیں بھارت میں بھائی چارے کی عظیم روایت کے بارے میں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔
بھارت ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے لوگ صدیوں سے ایک ساتھ مل جل کر رہتے ہیں۔ ہمارے یہاں اسے "کثرت میں وحدت" کہا جاتا ہے۔ یہاں عید کی سویاں ہوں یا دیوالی کی مٹھائیاں، ہولی کے رنگ ہوں یا کرسمس کی خوشیاں، سبھی مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے تہواروں میں دل کھول کر شریک ہوتے ہیں۔
ہمارے سماج میں یہ روایت عام ہے کہ خوشی ہو یا غمی، پڑوسی سب سے پہلے ایک دوسرے کے کام آتے ہیں، چاہے ان کا مذہب یا زبان کچھ بھی ہو۔ یہی وہ محبت، ہم آہنگی اور بھائی چارہ ہے جو ہمارے ملک کو ایک دھاگے میں پرو کر رکھتا ہے اور اسے پوری دنیا میں ممتاز بناتا ہے۔
مجھے امید ہے کہ تم جلد ہی بھارت کا دورہ کرو گے اور اس محبت اور بھائی چارے کو خود قریب سے محسوس کرو گے۔ اپنے والدین کو میرا سلام کہنا۔
۔ تمہارا دوست،
سوال نمبر 6: حروف کی قسمیں
حروفِ استفہام
وہ حروف جو سوال پوچھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
مثالیں: کیا، کب، کیوں، کس، کون
حروفِ ندا
وہ حروف جن سے کسی کو پکارا جاتا ہے۔
مثالیں: اے، او، ارے، یا
حروفِ تردید
وہ حروف جو کسی بات کو رد کرنے یا روکنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
مثالیں: مت، نہ، ہرگز
حروفِ نفرین
وہ حروف جو نفرت کے موقع پر بولے جاتے ہیں
مثالیں: تھو تھو، لعنت، لاحول ولا قوۃ
حروفِ اضافت
وہ حروف جو دو اسموں کے درمیان تعلق پیدا کرتے ہیں۔
مثالیں: کا، کی، کے، را، رے، ری، نا، نے، نی
سوال نمبر 7
درج ذیل جملوں میں سے کس جملے میں کس قسم کے حروف استعمال کیے گئے ہیں؟
1۔ یہ کتاب کس کی ہے؟
جواب: حروفِ استفہام (کس)
2۔ حیف! ظالم نے مجھے کیوں مارا۔
جواب: حروفِ تاسف
3۔ تھو تھو، ایسی خراب بربری لانے ہو؟
جواب: حروفِ نفرین (تھو تھو)
4۔ آیا، کیا مہمان آ رہا ہے!
جواب: حروفِ استفہام (کیا)
5۔ آپ کب آئے ہیں؟
جواب: حروفِ استفہام (کب)
6۔ ارے بھئی! آہستہ چلو۔
جواب: حروفِ ندا (ارے)
7۔ ارے نادان! ایسی حرکت سے باز آ جا۔
جواب: حروفِ ندا (ارے)
8۔ کام ہو تو ٹھہر ورنہ چلتے جاؤ۔
جواب: حروفِ تردید (ورنہ)
سوال8: مندرجہ ذیل عبارت میں حسب ضرورت علاماتِ اوقاف لگائیے:
پرنسپل صاحب نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنا وقت کیوں لگایا
جواب - علاماتِ اوقاف کے ساتھ:
پرنسپل صاحب نے کہا، "سکول تین دن کے لیے بند رہے گا۔ ٹھیک ہے، میں نانہال جاؤں گا۔ وہاں خوب کھاؤں گا، پیوں گا، عیش کروں گا، اور دوستوں کے ساتھ کھیلوں گا۔ مگر میرا کوئی دوست وہاں نہیں ہے۔"
امجد حیران و پریشان ہو کر سوچنے لگا، "واہ رے واہ! میں وہاں نئے دوست بنالوں گا۔ واپس آ کر اسکول جاؤں گا۔"
میرے ماموں نے جانے مجھے کیا کیا تحفے دیں گے! نئے کپڑے، نئی گھڑی، نیا بستہ، نیا جوتا، نئی چیزیں! دیکھ کر خوش ہوجائیں گی۔
جی ہاں! بہت بہت خوش۔ دوست پوچھیں گے کہ نانہال میں اتنا وقت کیوں لگایا
مشقی سوالات کے جوابات)
سوال نمبر 1:
پنڈت جواہر لعل نہرو نے "ایک یادگار وصیت" میں گنگا ندی کو ہندوستانی تہذیب کی نشانی قرار دیا ہے۔ وضاحت کیجیے۔
جواب:
پنڈت جواہر لعل نہرو کے نزدیک گنگا صرف ایک دریا نہیں بلکہ ہندوستان کی قدیم تہذیب، تاریخ اور ثقافت کی زندہ علامت ہے۔ ان کا خیال ہے کہ گنگا نے صدیوں سے اس سرزمین کے عروج و زوال، مختلف قوموں کی آمد، تہذیبی ارتقا اور عوام کی خوشیوں اور غموں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ہندوستان کی بے شمار روایات، داستانیں، گیت اور تاریخی واقعات اس دریا سے وابستہ ہیں۔ اسی لیے وہ اپنی وصیت میں خواہش ظاہر کرتے ہیں کہ ان کی راکھ کا ایک حصہ گنگا میں بہا دیا جائے تاکہ وہ علامتی طور پر ہندوستان کی اس عظیم تہذیبی روایت سے ہمیشہ وابستہ رہیں۔ ان کی یہ خواہش مذہبی عقیدے کی بنیاد پر نہیں بلکہ قومی تہذیب اور ثقافتی ورثے سے محبت کا اظہار ہے۔
سوال نمبر 2:
پنڈت جواہر لعل نہرو ہندوستانی عوام کو کیا پیغام دیتے ہیں؟
جواب:
پنڈت جواہر لعل نہرو اپنی وصیت کے ذریعے ہندوستانی عوام کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ قوموں کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وہ فرسودہ رسم و رواج اور بے مقصد روایات سے خود کو آزاد کریں۔ انسان کو ایسے خیالات اور رسموں سے وابستہ نہیں رہنا چاہیے جو ترقی، اتحاد اور خوش حالی میں رکاوٹ بنیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ اپنی قومی تہذیب، ثقافت اور تاریخی ورثے کی اچھی روایات کو محفوظ رکھنا چاہیے، کیونکہ یہی چیزیں قوم کی شناخت ہوتی ہیں۔ وہ عوام کو محبت، اخوت، رواداری، قومی یکجہتی اور خدمتِ وطن کا سبق دیتے ہیں تاکہ ملک ترقی اور خوش حالی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔
سوال نمبر 3:
پنڈت نہرو ہندوستان کا ابدی حصہ کیونکر بننا چاہتے ہیں؟
جواب:
پنڈت جواہر لعل نہرو کو اپنے وطن سے بے حد محبت تھی۔ اسی جذبۂ حب الوطنی کے تحت انہوں نے اپنی وصیت میں خواہش ظاہر کی کہ ان کی راکھ کا زیادہ حصہ ہوائی جہاز کے ذریعے ہندوستان کے کھیتوں میں بکھیر دیا جائے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ ان کی راکھ اس سرزمین کی مٹی میں شامل ہو کر ہمیشہ کے لیے وطن کا حصہ بن جائے۔ اس خواہش سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کی طرح اپنی وفات کے بعد بھی اپنے وطن سے جدا نہیں ہونا چاہتے تھے۔ ان کے نزدیک وطن کی مٹی سے وابستگی ایک سچے محبِ وطن کی سب سے بڑی پہچان ہے، اسی لیے وہ ہمیشہ کے لیے ہندوستان کی سرزمین
میں مدغم ہو جانا چاہتے تھے۔
