Class 11 Urdu Chapter 2 Notes: Aakhri Qadam

URDU DARASGAH
0

سبق نمبر 2: آخری قدم از ڈاکٹر ذاکر حسین – مکمل نوٹس (Class 11 Urdu)

گیارہویں جماعت اردو سبق نمبر 2 آخری قدم از ڈاکٹر ذاکر حسین کے مکمل نوٹس، خلاصہ، درسی سوالات و جوابات اور اردو قواعد


گیارہویں جماعت (Class 11 Urdu) کے طلباء کے لیے سبق نمبر 2 'آخری قدم' (ڈاکٹر ذاکر حسین) کے مکمل نوٹس، خلاصہ، درسی سوالات و جوابات اور اردو قواعد کی تفصیلات یہاں فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہ نوٹس امتحانات کی بہترین تیاری کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں۔

تمہید
"آخری قدم" ڈاکٹر ذاکر حسین کا ایک نہایت سبق آموز اور فکر انگیز مضمون ہے۔ اس میں مصنف نے ایک ایسے نیک، مخلص اور خدا ترس انسان کا کردار پیش کیا ہے جو ساری زندگی خاموشی کے ساتھ لوگوں کی بھلائی کرتا رہتا ہے۔ وہ اپنی نیکیوں کی کبھی تشہیر نہیں کرتا اور ہر کام صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور انسانیت کی خدمت کے جذبے سے انجام دیتا ہے۔ اگرچہ وہ اپنے تمام اخراجات اور خیراتی کاموں کا حساب "حسابِ امانت" کے نام سے ایک رجسٹر میں محفوظ رکھتا ہے، لیکن اسے کبھی اپنی شہرت یا صفائی پیش کرنے کے لیے استعمال نہیں کرتا۔ لوگ اسے کنجوس سمجھتے رہتے ہیں، مگر وہ ان کی باتوں کی پروا کیے بغیر اپنی راہ پر قائم رہتا ہے۔ زندگی کے آخری لمحوں میں بھی وہ اپنی نیکیوں کو ظاہر کرنے کے بجائے اس رجسٹر کو جلا دیتا ہے اور خلوصِ نیت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر ذاکر حسین کے حالاتِ زندگی

ڈاکٹر ذاکر حسین کے والد فدا حسین خان پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے۔ انہوں نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1888ء میں حیدرآباد دکن میں وکالت کا آغاز کیا۔ ڈاکٹر ذاکر حسین 8 فروری 1897ء کو حیدرآباد کے علاقے بیگم بازار میں پیدا ہوئے۔ جب وہ صرف نو برس کے تھے تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد ان کی والدہ بچوں کو لے کر آبائی وطن قائم گنج واپس آگئیں، جہاں ان کی پرورش چچا عطا حسین خان کی نگرانی میں ہوئی۔
ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی اسکول اٹاوہ سے حاصل کرنے کے بعد انہوں نے مزید تعلیم لکھنؤ اور پھر علی گڑھ میں جاری رکھی۔ اسی دوران 24 اکتوبر 1920ء کو قومی رہنماؤں کی کوششوں سے جامعہ ملیہ اسلامیہ قائم ہوئی تو ڈاکٹر ذاکر حسین بھی اس ادارے سے وابستہ ہوگئے۔ وہ یہاں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ تدریسی خدمات بھی انجام دیتے رہے۔
بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے جرمنی گئے اور وہاں سے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1926ء میں وطن واپس آنے پر انہیں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا شیخ الجامعہ (وائس چانسلر) مقرر کیا گیا۔ وہ 1948ء تک اس منصب پر خدمات انجام دیتے رہے۔ بعد میں مولانا ابوالکلام آزاد کی درخواست پر انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ذمہ داری بھی سنبھالی اور اپنی صلاحیتوں سے اس ادارے کو استحکام بخشا۔
1955ء میں انہوں نے صحت کی خرابی کے باعث استعفا دیا۔ اس کے بعد وہ بہار کے گورنر مقرر ہوئے، 1962ء میں نائب صدرِ ہند منتخب ہوئے اور 1967ء میں ملک کے صدرِ جمہوریہ بنے۔ 3 مئی 1969ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ اعلیٰ کردار، وسیع علم، سادگی اور قومی خدمت کے جذبے کی وجہ سے ہمیشہ یاد کیے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر ذاکر حسین کی علمی، ادبی اور عملی خدمات

ڈاکٹر ذاکر حسین ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ماہرِ تعلیم، مدبر، ادیب، مترجم، مقرر، مفکر، ماہرِ معاشیات، بہترین منتظم، سیاست دان، محبِ وطن اور آزادی کے متحرک کارکن تھے۔ انہوں نے تعلیم کے میدان میں جو خدمات انجام دیں، ان کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ وہ قومی یکجہتی، اخلاقی اقدار اور انسان دوستی کے زبردست حامی تھے اور اپنی پوری زندگی انہی اصولوں پر عمل کرتے رہے۔
اردو ادب، خصوصاً بچوں کے ادب سے انہیں غیر معمولی دلچسپی تھی۔ ان کا عقیدہ تھا کہ بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد بنتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے بچوں کے لیے متعدد سبق آموز کہانیاں اور مضامین تحریر کیے۔ ابتدا میں وہ بعض تحریریں فرضی نام سے لکھتے رہے، لیکن بعد میں اپنے نام سے بچوں کے لیے رسالہ "پیامِ تعلیم" جاری کیا، جس میں اپنی تحریروں کے ساتھ دوسرے اہلِ قلم کی تخلیقات بھی شائع کرتے تھے۔
ان کی مشہور تصنیف "ابو خان کی بکری" آج بھی بچوں کے ادب کا ایک اہم شاہکار سمجھی جاتی ہے۔ ان کی تحریروں میں سادگی، خلوص، اخلاقی تربیت اور عملی زندگی کے سبق نمایاں نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹر ذاکر حسین نے اپنی علمی قابلیت، بہترین انتظامی صلاحیت اور قومی خدمات کے ذریعے تعلیم اور ادب دونوں میدانوں میں گراں قدر خدمات انجام دیں، جن کی وجہ سے وہ ہمیشہ عزت و احترام سے یاد کیے جاتے ہیں.

سبق "آخری قدم" کا خلاصہ

"آخری قدم" ایک ایسے صاحبِ کردار انسان کی کہانی ہے جو اپنی دولت کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھتا ہے اور خاموشی سے ضرورت مندوں کی مدد کرتا رہتا ہے۔ وہ یتیموں، بیواؤں، غریبوں اور تعلیمی اداروں کی مالی معاونت کرتا ہے، لیکن کبھی اپنی نیکیوں کا اظہار نہیں کرتا۔ وہ سادہ لباس پہنتا، معمولی کھانا کھاتا اور فضول خرچی سے ہمیشہ بچتا ہے۔
اس کے دوست اور جاننے والے اس کی سادگی اور کفایت شعاری کو دیکھ کر اسے "کنجوس مکھی چوس" کہتے ہیں، حالانکہ انہیں اس کی اصل حقیقت کا علم نہیں ہوتا۔ وہ اپنی تمام خیراتی سرگرمیوں اور اخراجات کا اندراج "حسابِ امانت" نامی رجسٹر میں کرتا رہتا ہے۔ اس رجسٹر میں صرف حساب ہی نہیں بلکہ ان افراد اور اداروں کا ذکر بھی درج ہوتا ہے جنہیں اس کی مدد سے فائدہ پہنچا۔
جب کبھی لوگوں کی باتوں سے اس کا دل دکھتا تو وہ خاموشی سے اپنا رجسٹر دیکھ لیتا اور اسے اطمینان حاصل ہو جاتا۔ بعض اوقات اس کے دل میں خیال آتا کہ لوگوں کو یہ رجسٹر دکھا دے تاکہ انہیں حقیقت معلوم ہو جائے، مگر وہ اس خیال کو ترک کر دیتا۔
آخر عمر میں وہ شدید نمونیا میں مبتلا ہو گیا۔ جب اسے محسوس ہوا کہ زندگی کا سفر ختم ہونے والا ہے تو اس نے "حسابِ امانت" کو اپنے سامنے رکھا، چند لمحے اسے دیکھا، پھر اسے آگ میں ڈال دیا۔ اسی وقت مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوئی اور وہ اپنے تمام نیک اعمال صرف اللہ تعالیٰ کے سپرد کر کے اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ اس طرح اس نے ثابت کر دیا کہ حقیقی نیکی وہی ہے جو نمود و نمائش سے پاک ہو۔
درسی سوالات
سوال نمبر 4: درج ذیل جملوں کی وضاحت کیجیے:

1)ایک وقت ہنڈیا چڑ ھی تو تین وقت کے کھانے کا انتظام ہو گیا!

تشریح: یہ جملہ انتہائی درجے کی کنجوسی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کنجوس آدمی ایک وقت کھانا پکاتا ہے تاکہ وہی کھانا تین وقت تک چلائے اور بار بار خرچ کرنے سے بچ سکے۔

2)نہ جانے کتنی بیوائیں اُس کے روپے سے پلی تھیں۔

تشریح: یہ طنزاً کہا گیا ہے کہ وہ شخص اتنی زیادہ سود پر رقم دیتا تھا یا لوگوں کو پھنساتا تھا کہ غریبوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر ان کے گھروں کے چولہے جلتے (یا اجڑتے) تھے۔

3)سیدھے ہاتھ سے دیتا تو الٹے ہاتھ کو خبر نہ ہوتی۔

تشریح: یہ سخی اور فلاحی انسان کی صفت ہے کہ وہ اس طرح پوشیدہ مدد کرتا ہے کہ دائیں ہاتھ کی دی ہوئی خیرات بائیں ہاتھ کو بھی معلوم نہ ہو۔ لیکن یہاں سیاق و سباق کے اعتبار سے اس کا الٹ مفہوم بھی لیا جا سکتا ہے کہ کنجوسی کی وجہ سے ہاتھ سے کچھ نکلتا ہی نہیں۔

سوال نمبر 5: درج ذیل اقتباس کو پڑھ کر آخر میں دیے گئے سوالات کے جواب لکھیے۔
اقتباس: "دوست احباب طرح طرح سے اُس سے کھیل تماشوں میں، رنگ ریلیوں میں گھسیٹنا چاہتے تھے، مگر یہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ بہانہ کر کے ٹال دیتا تھا۔ آخر کو سب میں بڑا کنجوس مشہور ہو گیا۔ اس کے دوست اسے مکھی چوس کہا کرتے تھے۔ بعض دوست اس کی دولت کی وجہ سے جلتے بھی تھے۔ مگر یہ دُھن کا پکا تھا۔ برابر چھپ چھپ کر چپ چپاتے اپنی دولت سے کسی نہ کسی مستحق کی مدد کرتا ہی رہتا تھا۔"
1)معنی لکھیے اور جملوں میں استعمال کیجیے۔

ٹال دینا:

معنی: بہانہ بنا کر کسی کام سے جان چھڑانا یا آگے ٹالنا۔
جملہ: استاد صاحب نے ہوم ورک کل پر ٹال دیا۔

رنگ رلیاں:

معنی: عیش و عشرت اور مستیاں۔
جملہ: وہ اپنا زیادہ تر وقت دوستوں کے ساتھ رنگ ریلیوں میں ضائع کرتا ہے۔

دُھن کا پکا:

معنی: اپنے ارادے کا پکا اور مستحکم۔
جملہ: میرا بھائی پڑھائی میں دھن کا پکا ہے، وہ روزانہ وقت پر پڑھتا ہے۔
2):متضاد الفاظ لکھیے:
کنجوس \ سخی
مشہور \ نامعلوم / گمنام
دوست \ دشمن
چپ چپ کر \ سرعام / علانیہ
مستحق \ غیر مستحق
3)لوگ اُس نیک آدمی کو "کنجوس مکھی چوس" کیوں کہتے تھے؟
جواب: لوگ اسے اس لیے کنجوس کہتے تھے کیونکہ وہ عیش و عشرت یا کھیل تماشوں میں پیسے خرچ کرنے سے بچتا تھا اور ہر بات کو بہانہ بنا کر ٹال دیتا تھا، حالانکہ وہ اندر ہی اندر چھپ کر غریبوں اور مستحقین کی مدد کرتا تھا جسے لوگ نہیں جانتے تھے۔
4)اوپر دیے گئے پیراگراف کا حاصل اپنے الفاظ میں لکھیے۔
جواب: اس اقتباس کا حاصل یہ ہے کہ ظاہری طور پر جو انسان فضول خرچی یا عیش و عشرت میں حصہ نہ لے اور اکیلا رہے، لوگ اسے کنجوس سمجھنے لگتے ہیں؛ لیکن ضروری نہیں کہ ہر کنجوس اندر سے برا ہو۔ اصل نیکی وہ ہے جو دکھاوا کیے بغیر خاموشی سے کسی ضرورت مند کی مدد کرے۔
سوال نمبر 6: فرض کریں ہائیکنگ کے دوران آپ کا ساتھی بے ہوش ہو گیا۔ آپ اور دیگر لڑکوں نے اس کے ساتھ جو ہمدردی کی وہ حال اُس کے باپ کی خدمت میں ایک خط کی صورت میں تحریر کیجیے۔
امتحان گاہ،
شہرِ علم۔
تاریخ: 20 جولائی 2026ء
محترم انکل سلامِ مسنون،
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ یہ خط میں آپ کو اپنے بیٹے (آپ کے دوست) کے حوالے سے انتہائی بھاری دل کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔ ہم سب دوست ہائیکنگ (پہاڑی سفر) کے لیے گئے ہوئے تھے کہ اچانک گرمی اور تھکن کی زیادتی کی وجہ سے آپ کا بیٹا بے ہوش ہو گیا۔
اس کی یہ حالت دیکھ کر ہم سب بہت گھبرا گئے، لیکن ہم نے فوراً ہمت سے کام لیا۔ ہم نے اسے سایہ دار جگہ پر لٹایا، اس کے جسم پر پانی کے چھینٹے دیے اور فوری طور پر قریبی فرسٹ ایڈ کا انتظام کیا۔ خدا کا شکر ہے کہ اب وہ بالکل ہوش میں اور خطرے سے باہر ہے، اور ہم سب لڑکے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ آپ بالکل پریشان نہ ہوں، وہ جلد تندرست ہو کر گھر لوٹ آئے گا۔

والسلام،
آپ کا تابعدار دوست،
زکریا

سوال 7: حروف کی تعریف، مثالیں

حروف کی تعریف اور مثالیں (تصویر 3 سے):
حروفِ عطف:
تعریف: وہ حروف ہیں جو دو اسموں، دو فعلوں یا جملوں کو آپس میں ملاتے ہیں۔
مثال: زید اور احمد آگئے۔ (اس جملے میں "اور" حرفِ عطف ہے۔)
حروفِ علت:
تعریف: سبب اور علت کو ظاہر کرنے والے حروف ہیں۔
مثال: وہ فیل ہو گیا کیونکہ اس نے محنت نہیں کی تھی۔
حروفِ تعجب و انبساط:
تعریف: ایسے حروف جو تعجب یا خوشی کے موقع پر بولے جاتے ہیں۔
مثال: واہ واہ! کیا خوبصورت منظر ہے۔
حروفِ استدراک:
تعریف: وہ حروف ہیں جو شک و شبہ دور کرنے کے لیے بولے جاتے ہیں۔
مثال: وہ غریب ہے، مگر بہت ایماندار ہے۔
حروفِ شرط وجزا:
تعریف: وہ حروف ہیں جو جملے میں شرط کے موقع پر بولے جاتے ہیں۔
مثال: اگر تم محنت کرو گے، تو پاس ہو جاؤ گے۔
حروفِ تنبیہ:
تعریف: وہ حروف ہیں جو کسی کو ڈرانے، دھمکانے، منع کرنے یا خبردار کرنے کے موقع پر بولے جاتے ہیں۔
مثال: خبردار! آگے گہرا گڑھا ہے

سوال: مندرجہ ذیل جملوں میں حروفِ عطف، حروفِ علت، حروفِ تعجب و انبساط، حروفِ استدراک اور حروفِ تنبیہ تلاش کیجیے:
• آپ کا حکم ملالہذا میں حاضر ہو گیا۔
◦ حروفِ علت: لہٰذا (سبب یا وجہ ظاہر کرنے کے لیے)
• کہنا آسان ہے مگر کرنا مشکل ہے۔
◦ حروفِ استدراک: مگر (پہلے جملے کی کمی یا خیال کو دور کرنے کے لیے)
• اُس کو بہت سمجھایا پر اُس نے ایک نہ مانی۔
◦ حروفِ استدراک: پر
• خبردار! پھر ایسا نہ کہنا۔
◦ حروفِ تنبیہ: خبردار!
• زہے نصیب، وہ کامیاب ہو گیا۔
◦ حروفِ تعجب و انبساط: زہے نصیب (خوشی یا مسرت کے اظہار کے لیے)
• وہ بدچلن نہیں البتہ فضول خرچ ضرور ہے۔
◦ حروفِ استدراک: البتہ
• چونکہ وہ محنت نہیں کرتا، اس لیے فیل ہوا۔
◦ حروفِ علت: چونکہ، اس لیے
• او ہو، بہت دیر ہو گئی۔
◦ حروفِ تعجب و انبساط: او ہو!
• ماشاء اللہ آپ ہر فن مولا ہیں۔
◦ حروفِ تعجب و انمساط: ماشاء اللہ
• دیکھو، وہ جانے نہیں دے گا۔
◦ حروفِ تنبیہ: دیکھو

سوال
لوگ اس نیک آدمی کو "کنجوس مکھی چوس" کیوں کہتے تھے؟
جواب:
وہ شخص بے حد مال دار تھا، لیکن اپنی دولت کو ذاتی عیش و عشرت پر خرچ کرنے کے بجائے غریبوں، یتیموں، بیواؤں اور فلاحی اداروں کی مدد پر صرف کرتا تھا۔ وہ خود نہایت سادہ زندگی گزارتا، معمولی لباس پہنتا اور فضول اخراجات سے پرہیز کرتا تھا۔ اس کے دوست اس کی اصل حقیقت سے بے خبر تھے، اس لیے وہ اس کی سادگی اور کفایت شعاری کو کنجوسی سمجھتے ہوئے اسے "کنجوس مکھی چوس" کہا کرتے تھے۔


تشریحی سوالات
1۔ ڈاکٹر ذاکر حسین نے "آخری قدم" میں نیک آدمی کے بارے میں کیا لکھا ہے؟
جواب: انہوں نے ایک ایسے انسان کی تصویر پیش کی ہے جو خاموشی سے نیکیاں کرتا ہے، شہرت کا خواہش مند نہیں ہوتا اور ہر کام خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دیتا ہے۔
2۔ "آخری قدم" کا مقصد کیا ہے؟
جواب: اس مضمون کا مقصد یہ بتانا ہے کہ حقیقی نیکی وہی ہے جو اخلاص کے ساتھ کی جائے اور جس میں دکھاوا، ریاکاری یا شہرت کی خواہش شامل نہ ہو۔

مختصر سوالات
1۔ "حسابِ امانت" کس چیز کا نام تھا؟
جواب: یہ اس رجسٹر کا نام تھا جس میں نیک آدمی اپنی خیرات اور اخراجات کا حساب درج کرتا تھا۔
2۔ "کنجوس مکھی چوس" کس کو کہا جاتا تھا؟
جواب: اس نیک اور سادہ مزاج دولت مند شخص کو۔

معروضی سوالات
1۔ ڈاکٹر ذاکر حسین کے والد کا نام کیا تھا؟
✔ فدا حسین خان
2۔ ڈاکٹر ذاکر حسین کہاں پیدا ہوئے تھے؟
✔ حیدرآباد
3۔ ڈاکٹر ذاکر حسین صدرِ جمہوریہ ہند کب بنے؟
✔ 1967ء
4۔ "ابو خان کی بکری" کے مصنف کون ہیں؟
✔ ڈاکٹر ذاکر حسین

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)