Hatim Ki Sakhawat Class 11 Urdu Notes JKBOSE | سوالات و جوابات

URDU DARASGAH
0

  حاتم کی سخاوت 

JKBOSE Class 11 Urdu Hatim Ki Sakhawat Notes

سوال نمبر 1: میر امن کی زندگی کے حالات  اور ادبی خدمات کے بارے میں نوٹ لکھیے

میر امن دہلوی کے حالاتِ زندگی

میر امن دہلوی کا اصل نام امان اللہ تھا جبکہ ان کا ادبی تخلص "امن" تھا۔ بعض تذکرہ نگاروں نے ان کا تخلص "لطف" بھی لکھا ہے۔ اس کی تائید ان کی کتاب باغ و بہار کے اختتامی شعر اور ان کی دوسری تصنیف گنجِ خوبی کے بعض قلمی نسخوں سے بھی ہوتی ہے، جہاں ان کا نام "میر امن لطف" درج ہے۔
میر امن کا تعلق دہلی سے تھا۔ ان کے آباؤ اجداد مغلیہ حکومت میں اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز رہے تھے۔ لیکن 1761ء میں احمد شاہ ابدالی کے حملے کے دوران دہلی میں شدید قتل و غارت اور بدامنی پھیل گئی، جس کے باعث انہیں اپنا آبائی شہر چھوڑنا پڑا۔ پہلے وہ عظیم آباد (پٹنہ) منتقل ہوئے، مگر وہاں بھی حالات سازگار نہ رہے، اس لیے بعد میں کلکتہ کا رخ کیا۔
کلکتہ پہنچنے کے بعد انہیں روزگار حاصل کرنے میں کافی مشکلات پیش آئیں۔ کچھ عرصے تک مختلف کام کرتے رہے، پھر نواب دلاور جنگ کے خاندان میں اتالیق (استاد) کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، لیکن وہاں بھی مستقل اطمینان نصیب نہ ہوا۔
اسی دوران میر بہادر علی حسینی کی معرفت ان کی ملاقات مشہور مستشرق ڈاکٹر جان گلکرسٹ سے ہوئی۔ اس ملاقات نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ 1801ء میں انہیں فورٹ ولیم کالج کے ہندوستانی شعبے میں چالیس روپے ماہانہ تنخواہ پر منشی مقرر کیا گیا۔ انہوں نے تقریباً پانچ برس تک اس ادارے میں خدمات انجام دیں اور 1806ء میں ملازمت سے سبک دوش ہوگئے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی زندگی کے بارے میں زیادہ مستند معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ اسی طرح ان کی ابتدائی تعلیم کے بارے میں بھی تفصیلی ریکارڈ موجود نہیں، البتہ اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ فارسی زبان کے ماہر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے فارسی کی معروف کتاب اخلاقِ محسنی کا اردو ترجمہ گنجِ خوبی کے نام سے کیا۔

میر امن کے ادبی کارنامے

اردو نثر کی تاریخ میں میر امن کا نام ہمیشہ عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔ اگرچہ انہوں نے صرف دو اہم کتابیں تصنیف یا ترجمہ کیں، لیکن ان کی اصل شہرت باغ و بہار کی بدولت قائم ہوئی۔
ڈاکٹر جان گلکرسٹ کی خواہش پر میر امن نے قصۂ چہار درویش کو نہایت سادہ اور عام فہم اردو میں منتقل کیا، جو بعد میں باغ و بہار کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کتاب نے اردو نثر کو ایک نئی سمت عطا کی اور اسے عام لوگوں کے لیے زیادہ قابلِ فہم بنا دیا۔
اس دور میں زیادہ تر نثر مشکل، مرصع اور ثقیل زبان میں لکھی جاتی تھی، لیکن میر امن نے اس روایت سے ہٹ کر نہایت آسان، رواں اور قدرتی زبان اختیار کی۔ یہی سادگی ان کی سب سے بڑی ادبی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔
باغ و بہار میں دہلی کی تہذیب، رہن سہن، میلوں، تقریبات، محفلوں، رسم و رواج، محاوروں اور روزمرہ زبان کی نہایت خوبصورت جھلک نظر آتی ہے۔ اس کتاب کے ذریعے اس زمانے کی معاشرتی زندگی کا واضح نقشہ سامنے آتا ہے۔
میر امن کی زبان اتنی شستہ، محاورے کے مطابق اور دلنشین ہے کہ بعد کے کئی بڑے ادیب ان سے متاثر ہوئے۔ ان کی تحریر نے اردو نثر کو مصنوعی انداز سے نکال کر فطری اور سادہ اسلوب عطا کیا۔
اسی وجہ سے باغ و بہار کو اردو نثر کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کتاب نے اردو زبان کو ایک نیا ادبی معیار دیا اور آنے والے مصنفین کے لیے بہترین نمونہ ثابت ہوئی۔
س2: باغ و بہار کی ادبی اہمیت اور افادیت تحریر کیجئے

باغ و بہار کی ادبی اہمیت

اردو ادب میں باغ و بہار کو نہایت بلند مقام حاصل ہے۔ یہ دراصل فارسی کی مشہور کتاب قصۂ چہار درویش کا اردو ترجمہ ہے، جسے میر امن دہلوی نے 1803ء میں نہایت خوبصورت انداز میں پیش کیا۔ یہ تصنیف اپنی سادہ، رواں اور دلکش زبان کی وجہ سے آج بھی مقبول ہے۔
اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی اس کا عام فہم اندازِ بیان ہے۔ میر امن نے مشکل اور ثقیل الفاظ سے گریز کرتے ہوئے ایسی زبان اختیار کی جو ہر طبقے کے لوگوں کے لیے قابلِ فہم تھی۔ انہوں نے اردو کے ساتھ ہندی کے مروجہ الفاظ کو بھی مناسب انداز میں استعمال کیا، جس سے زبان میں فطری روانی پیدا ہوئی۔ عربی اور فارسی کے الفاظ بھی ضرورت کے مطابق شامل کیے گئے، مگر اس سے عبارت کی سادگی متاثر نہیں ہوئی۔
بابائے اردو مولوی عبدالحق کے مطابق باغ و بہار اپنے زمانے کی بہترین اور نہایت سلیس نثر میں لکھی گئی کتاب ہے۔ اسی طرح سر سید اعظم نے بھی میر امن کے اسلوب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تحریر میں ابتدا سے آخر تک یکساں روانی، سادگی، مٹھاس، لطافت اور وقار موجود رہتا ہے۔
میر امن کی یہی خصوصیات بعد کے ادیبوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوئیں، حتیٰ کہ مرزا غالب جیسے عظیم شاعر بھی ان کے طرزِ تحریر سے متاثر ہوئے۔ اردو نثر کی ترقی میں باغ و بہار کو ایک سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔
س3۔ فورٹ ولیم کالج نے اردو زبان و ادب کی ترقی کے لیے کیا کچھ کیا

فورٹ ولیم کالج

تعارف
اردو زبان و ادب کی ترقی میں جن اداروں نے نمایاں خدمات انجام دیں، ان میں فورٹ ولیم کالج کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اگرچہ اس ادارے کو انگریز حکومت نے اپنے انتظامی اور سیاسی مفادات کے پیشِ نظر قائم کیا تھا، لیکن اس کے قیام سے اردو زبان کو بے شمار فوائد حاصل ہوئے۔ اسی ادارے کی بدولت اردو نثر میں باقاعدہ تصنیف و تالیف اور ترجمہ نگاری کو فروغ ملا، سادہ اور عام فہم زبان میں کتابیں لکھی گئیں، اور اردو ادب کو نئے اندازِ تحریر سے روشناس کرایا گیا۔
فورٹ ولیم کالج نے پہلی مرتبہ مختلف علاقوں کے اہلِ قلم، مترجمین اور ادیبوں کو ایک جگہ جمع کیا۔ ان سے درسی اور ادبی کتابیں تیار کروائی گئیں تاکہ انگریز افسر ہندوستان کی زبانوں سے واقف ہو سکیں۔ یہی کوشش بعد میں اردو نثر کی ترقی کا اہم ذریعہ ثابت ہوئی۔

پس منظر

سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں انگریز تجارت کی غرض سے ہندوستان آئے تھے۔ ابتدا میں ان کا مقصد صرف کاروبار کرنا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے سیاسی معاملات میں بھی مداخلت شروع کر دی۔ انہوں نے پہلے مختلف علاقوں میں تجارتی مراکز قائم کیے اور پھر آہستہ آہستہ اپنی طاقت میں اضافہ کرتے گئے۔
بنگال میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے مضبوط ہونے کے بعد انگریزوں نے مقامی حکمرانوں کے معاملات میں دخل دینا شروع کیا، جس کے نتیجے میں کئی جھگڑے اور جنگیں ہوئیں۔ 1757ء میں جنگِ پلاسی کے دوران نواب سراج الدولہ کو شکست ہوئی اور بنگال پر انگریزوں کا قبضہ مضبوط ہو گیا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی مشہور پالیسی "پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو" پر عمل کرتے ہوئے ہندوستان کے مختلف علاقوں کو ایک ایک کر کے اپنے زیرِ اقتدار لے لیا۔ 1799ء میں ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد میسور بھی انگریزوں کے قبضے میں آ گیا۔
جب لارڈ ویلزلی 1798ء میں ہندوستان کا گورنر جنرل مقرر ہوا تو اس نے محسوس کیا کہ ہندوستان پر مؤثر انداز میں حکومت کرنے کے لیے انگریز افسروں کا مقامی زبانوں سے واقف ہونا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے اس نے ایک ایسے تعلیمی ادارے کے قیام کی تجویز پیش کی جہاں نئے آنے والے انگریز افسر ہندوستانی زبانیں، رسم و رواج اور معاشرت سے واقف ہو سکیں۔
اسی منصوبے کے تحت 10 جولائی 1800ء کو کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج قائم کیا گیا۔ اگرچہ اس کا بنیادی مقصد انگریز افسران کی تربیت تھا، لیکن اس ادارے نے اردو زبان و ادب کی ایسی خدمت انجام دی جسے آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اسی ادارے میں اردو زبان کی متعدد اہم کتابیں تصنیف اور ترجمہ کی گئیں، جنہوں نے اردو نثر کو ایک نئی زندگی عطا کی۔

فورٹ ولیم کالج کا ارتقاء

اردو زبان کی ترقی کی تاریخ میں فورٹ ولیم کالج کو ایک یادگار ادارے کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کی بنیاد 10 جولائی 1800ء کو کلکتہ میں دریائے ہگلی کے کنارے رکھی گئی۔ بعد ازاں یہاں باقاعدہ تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کیا گیا۔ اس ادارے کے پہلے پرنسپل ڈاکٹر رابرٹ براؤن مقرر ہوئے، جبکہ اردو شعبے کی نگرانی مشہور ماہرِ لسانیات ڈاکٹر جان گلکرسٹ کے سپرد کی گئی۔
اس زمانے میں اردو پورے برصغیر میں رابطے کی اہم زبان بن چکی تھی، اس لیے کالج میں اردو کو خاص اہمیت دی گئی۔ جان گلکرسٹ نے محسوس کیا کہ انگریز افسروں کو زبان سکھانے کے لیے مناسب درسی کتابیں موجود نہیں ہیں۔ چنانچہ انہوں نے ملک کے مختلف علاقوں سے نامور ادیبوں، مترجموں اور اہلِ قلم کو کالج میں مدعو کیا اور ان سے نئی کتابیں تصنیف کروائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فارسی، عربی، ہندی اور دیگر زبانوں کی معروف کتابوں کے اردو تراجم بھی تیار کیے گئے۔
کالج میں صرف تدریس ہی نہیں بلکہ ایک جدید کتب خانہ اور پرنٹنگ پریس بھی قائم کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں اردو کتابوں کی اشاعت میں تیزی آئی اور اردو نثر کو ایک نئی سمت ملی۔
بابائے اردو مولوی عبدالحق نے جان گلکرسٹ کی خدمات کو سراہتے ہوئے لکھا کہ اردو نثر پر ان کے احسانات بے حد نمایاں ہیں اور انہوں نے اس زبان کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا۔

فورٹ ولیم کالج کی ادبی خدمات

فورٹ ولیم کالج نے اردو زبان و ادب کے فروغ میں کئی اہم خدمات انجام دیں، جن میں نمایاں درج ذیل ہیں:
1. اردو میں ترجمہ نگاری کو باقاعدہ علمی حیثیت ملی۔
2. اردو کتابوں کی طباعت کا سلسلہ منظم انداز میں شروع ہوا۔
3. ملک بھر کے ادیبوں اور مترجموں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا۔
4. اردو زبان پہلی مرتبہ باقاعدہ ملازمت اور روزگار کا ذریعہ بنی۔
5. سادہ، سلیس اور عام فہم اردو نثر کو فروغ ملا۔
6. باغ و بہار جیسی شاہکار کتاب اردو ادب کو ملی۔
7. اردو زبان کی شہرت ہندوستان سے باہر بھی پھیلنے لگی۔
8. داستانوں کے ساتھ ساتھ اخلاقیات، تاریخ، مذہب اور دیگر علمی موضوعات پر بھی کتابیں لکھی گئیں۔

فورٹ ولیم کالج کے اہم مصنفین

فورٹ ولیم کالج سے وابستہ کئی ممتاز اہلِ قلم نے اردو ادب کو قیمتی کتابیں عطا کیں، جن میں چند نمایاں نام درج ذیل ہیں:
• میر امن دہلویباغ و بہار
• میر شیر علی افسوسباغ اردو
• حیدر بخش حیدریآرائشِ محفل، گلزارِ دانش، گلشنِ ہند
• میر بہادر علی حسینیاخلاقِ ہندی
• مرزا علی لطفتذکرۂ گلشنِ ہند
• مرزا کاظم علی جوانشکنتلا
• خلیل خان اشکداستانِ امیر حمزہ
• نہال چند لاہوریمذہبِ عشق
• بینی نرائن جہاںدیوانِ جہاں
• للو لال جیسنگھاسن بتیسی
ان تمام مصنفین نے اردو زبان کے علمی اور ادبی ذخیرے میں گراں قدر اضافہ کیا۔


کالج کا زوال

جب تک جان گلکرسٹ اردو شعبے کے سربراہ رہے، کالج ترقی کرتا رہا۔ بعد میں بعض انتظامی اختلافات کے باعث انہوں نے 23 مئی 1808ء کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کی علیحدگی کے بعد اردو شعبہ رفتہ رفتہ کمزور ہونے لگا۔
1820ء میں کالج کے بجٹ میں کمی کر دی گئی، جس سے تعلیمی اور ادبی سرگرمیوں پر منفی اثر پڑا۔ حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث یہ ادارہ مسلسل زوال کا شکار رہا اور آخرکار 1854ء میں اسے بند کر دیا گیا۔
اگرچہ اس کی مدتِ کار زیادہ طویل نہ تھی، لیکن اس مختصر عرصے میں اس نے اردو زبان کی ایسی خدمت انجام دی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

س4:حاتم کی سخاوت کا قصہ اپنے الفاظ میں لکھیے

سبق کا خلاصہ
قدیم زمانے میں عرب میں حاتم نامی ایک نہایت سخی، رحم دل شخص تھا۔ اس کی فیاضی اور سخاوت کا چرچا دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ اس کی شہرت سے حسد کرتے ہوئے نوفل نامی بادشاہ نے اس کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔
حاتم جنگ و خونریزی سے نفرت کرتا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی وجہ سے بے گناہ لوگ مارے جائیں، اس لیے اس نے اپنے آپ کو ایک پہاڑی غار میں چھپا لیا۔
نوفل نے اعلان کروایا کہ جو شخص حاتم کو گرفتار کر کے لائے گا، اسے پانچ سو اشرفیاں انعام میں دی جائیں گی۔ انعام کے لالچ میں بہت سے لوگ حاتم کی تلاش میں نکل پڑے۔
اسی دوران ایک غریب بوڑھا اور اس کی بیوی لکڑیاں جمع کرنے کے لیے اسی غار کے قریب آئے۔ انہوں نے آپس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر حاتم انہیں مل جائے تو وہ انعام حاصل کر کے اپنی غربت دور کر سکتے ہیں۔ غار کے اندر موجود حاتم نے یہ بات سن لی۔
غریب بوڑھے کی مدد کرنے کی نیت سے حاتم خود غار سے باہر آیا اور کہا کہ مجھے نوفل کے پاس لے جاؤ تاکہ تمہیں انعام مل جائے۔ لیکن بوڑھے نے ایمانداری اور انسان دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے اس پیشکش کو قبول نہ کیا۔ اس نے کہا کہ اگر تمہیں قتل کر دیا گیا تو ایسے مال کا ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
کچھ دیر بعد دوسرے لوگ وہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے حاتم کو پہچان لیا اور گرفتار کر کے نوفل کے دربار میں لے گئے۔ ہر شخص یہی دعویٰ کر رہا تھا کہ حاتم کو اسی نے تلاش کیا ہے۔
نوفل نے جب حاتم کی خاموشی اور بوڑھے کی موجودگی دیکھی تو حقیقت معلوم کی۔ بوڑھے نے پورا واقعہ سچ سچ بیان کر دیا۔ حاتم کی سخاوت، ایثار اور عظیم کردار سے نوفل بہت متاثر ہوا۔ اس نے دشمنی ختم کر کے حاتم کا ملک، مال و اسباب اور سرداری واپس کر دی، جبکہ بوڑھے کو پانچ سو اشرفیاں انعام میں عطا کیں۔ اس طرح حاتم کی فیاضی اور نیک دلی نے دشمن کو بھی دوست بنا دیا۔

سوال 5: نوفل نے لکڑہارے کو پاس بلا کر کیا پوچھا، اور اس کے جواب میں بوڑھے نے کیا کہا؟

جواب: نوفل بادشاہ نے لکڑہارے کو اپنے پاس بلا کر پوچھا کہ تم سچ سچ بتاؤ، حاتم کو کس نے گرفتار کیا اور اصل واقعہ کیا ہے؟ اس پر بوڑھے نے پوری ایمانداری سے سارا واقعہ بیان کر دیا۔ اس نے بتایا کہ حاتم خود غار سے باہر آیا تھا اور ہماری غربت دیکھ کر چاہتا تھا کہ ہم اسے نوفل کے پاس لے جائیں تاکہ ہمیں پانچ سو اشرفیوں کا انعام مل جائے، لیکن ہم نے لالچ میں آ کر ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ بعد میں دوسرے لوگ آئے اور انہوں نے حاتم کو پکڑ کر بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا۔
سوال 3: داستان کی تعریف کیجیے اور اس کے اجزائے ترکیبی بھی لکھیے

داستان کی تعریف اور اجزائے ترکیبی 

اردو ادب کی قدیم ترین نثری اصناف میں داستان کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ یہ افسانوی ادب کی ایک اہم شکل ہے جس میں واقعات، کردار اور مہمات زیادہ تر تخیل کی بنیاد پر بیان کی جاتی ہیں۔ افسانوی ادب سے مراد ایسی تحریریں ہیں جن میں حقیقت کے ساتھ ساتھ مصنف کی قوتِ تخیل بھی نمایاں ہو۔ داستان، ناول اور افسانہ تینوں کہانی کی مختلف صورتیں ہیں، لیکن داستان اپنی غیر معمولی طوالت، حیرت انگیز واقعات اور پرجوش اندازِ بیان کی وجہ سے ان سب سے منفرد شمار ہوتی ہے۔
داستانوں میں عموماً عشق، وفاداری، بہادری، مہم جوئی، جنگ، سفر اور عجیب و غریب واقعات کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ ان میں بادشاہ، شہزادے، شہزادیاں، وزیر، سپہ سالار اور عام لوگوں کے ساتھ ساتھ جن، پری، دیو، جادوگر اور دوسری مافوق الفطرت مخلوقات بھی کردار کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ اکثر ایک واقعہ ختم ہونے سے پہلے دوسرا واقعہ شروع ہو جاتا ہے، اس لیے داستان کی کہانی کئی ذیلی قصوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس میں قدرتی مناظر، محلات، باغات، میدانوں اور صحراؤں کی خوبصورت منظر نگاری بھی ملتی ہے۔ بعض داستانوں میں نہایت فصیح اور مرصع زبان استعمال کی گئی ہے جبکہ بعض میں آسان اور سادہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ اردو کی معروف داستانوں میں فسانۂ عجائب، داستانِ امیر حمزہ، بوستانِ خیال، نو طرزِ مرصع اور باغ و بہار خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

داستان کے بنیادی اجزا

1۔ طوالت

داستان کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی غیر معمولی لمبائی ہے۔ قدیم زمانے میں جب لوگوں کے پاس فارغ وقت زیادہ ہوتا تھا تو داستان گو محفلوں میں گھنٹوں بلکہ کئی کئی دن تک داستانیں سناتے تھے۔ اسی لیے مختلف واقعات کو ملا کر ایک وسیع اور طویل قصہ ترتیب دیا جاتا تھا۔

2۔ پلاٹ

داستان کا پلاٹ سیدھا اور مختصر نہیں ہوتا بلکہ اس میں متعدد واقعات اور ذیلی کہانیاں شامل ہوتی ہیں۔ ایک واقعے سے دوسرا اور دوسرے سے تیسرا واقعہ جڑتا چلا جاتا ہے، جس کی وجہ سے پلاٹ پیچیدہ مگر دلچسپ بن جاتا ہے۔

3۔ کردار نگاری

ہر داستان کی جان اس کے کردار ہوتے ہیں۔ انہی کرداروں کی گفتگو، اعمال اور فیصلوں سے کہانی آگے بڑھتی ہے۔ داستانوں میں نیک، بہادر، ظالم، عقلمند، جادوگر، بادشاہ اور دیگر مختلف کردار نہایت مؤثر انداز میں پیش کیے جاتے ہیں۔

4۔ مافوق الفطرت عناصر

داستانوں میں غیر معمولی طاقت رکھنے والی مخلوقات کا ذکر عام ہے۔ جنات، دیو، پریاں، جادوگر اور نجومی جیسے کردار کہانی میں حیرت، تجسس اور دلچسپی پیدا کرتے ہیں۔ یہی عناصر داستان کو عام کہانی سے منفرد بناتے ہیں۔

5۔ منظر نگاری

داستانوں میں قدرتی حسن اور مختلف مقامات کی دلکش منظر کشی کی جاتی ہے۔ بلند پہاڑ، سرسبز میدان، خوبصورت باغات، بہتے ہوئے دریا، وسیع صحرا اور شاندار محلات کا ایسا بیان ملتا ہے کہ قاری خود کو انہی مناظر کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔

6۔ اسلوبِ بیان

داستان کا اسلوب اس کی اہم خصوصیات میں شامل ہے۔ بعض داستانوں میں نہایت فصیح، مرصع اور ادبی زبان استعمال کی گئی ہے جبکہ بعض میں سادہ، رواں اور عام فہم انداز اختیار کیا گیا ہے۔ یہی منفرد اسلوب داستان کو دیگر اصنافِ ادب سے ممتاز کرتا ہے۔

مصنف کا حوالہ دے کر اور سیاق و سباق پیش کر مندرجہ ذیل سطور کا ماحصل اپنے الفاظ میں لکھیے

سوال:

اُس بے چارے نے سر سے پاؤں تک جو گزرا تھا، راست کہہ سُنایا اور کہا کہ ”حاتم میری خاطر آپ سے آپ چلا آیا ہے“۔ نوفل یہ ہمت حاتم کی سُن کر متعجب ہوا کہ بل بے تیری سخاوت! اپنی جان کا بھی خطرہ نہ کیا، جتنے جھوٹھے دعوے حاتم کے پکڑ لانے کے کرتے تھے، حکم کیا کہ اُن کی ٹنڈیاں کس کر، پانچ سو اشرفی کے بدلے پانچ پانچ سو جوتیاں اُن کے سر پر لگاؤ۔

جواب:

یہ اقتباس "حاتم کی سخاوت" سے لیا گیا ہے جسے میر امن دہلوی نے تحریر کیا ہے۔ اس اقتباس میں بیان کیا گیا ہے کہ جب وہ غریب شخص نوفل کے سامنے پہنچا تو اس نے ساری حقیقت سچ سچ بیان کر دی کہ حاتم طائی خود اس کی مدد کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال کر حاضر ہوا ہے۔ نوفل، حاتم کی بے مثال سخاوت، بہادری اور ایثار سے بہت متاثر ہوا۔ اس نے حاتم کی عظمت کا اعتراف کیا اور اعلان کیا کہ ایسا سخی انسان اپنی جان کی بھی پروا نہیں کرتا۔ پھر اس نے ان لوگوں کو سزا دینے کا حکم دیا جو انعام حاصل کرنے کے لیے جھوٹے دعوے کرتے تھے۔ اس واقعے سے حاتم کی اعلیٰ اخلاقی صفات، انسان دوستی اور سچائی کی قدر و منزلت واضح ہوتی ہے۔

───

5۔ تابع مہمل (مرکب)

سوال:

”جو کوئی ڈھونڈ ڈھانڈ کر پکڑ لاوے“ اس جملے میں ”ڈھونڈ ڈھانڈ“ ایک مرکب ہے۔ جب مرکب میں بامعنی لفظ کے محاورے کے مطابق مہمل لفظ استعمال ہو تو اُس مہمل لفظ کو ”تابع مہمل“ کہتے ہیں۔ ”ڈھونڈ ڈھانڈ“ مرکب میں ”ڈھانڈ“ تابع مہمل ہے۔ ایسے پانچ مرکب لکھیے جن میں تابع مہمل الفاظ استعمال ہوئے ہوں۔

جواب:

1. چائے وائے

1. کام وام

1. کھانا وانا

1. کپڑے وپڑے

1. کتاب وتاب

6۔ درج ذیل عنوانات کے تحت مضامین لکھیے

(1)  اردو زبان میں داستان نگاری پر مضمون

داستان نگاری اردو ادب کی قدیم اور اہم صنف ہے۔ داستان ایک طویل حکایت ہوتی ہے جس میں بہادر کرداروں، عجیب و غریب واقعات، مہمات، جنگوں، جادو، طلسم اور اخلاقی اقدار کو دلچسپ انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ اردو داستان نگاری نے برصغیر کے ادب کو بے شمار یادگار کہانیاں عطا کیں۔ ان داستانوں کا مقصد صرف تفریح فراہم کرنا نہیں بلکہ اخلاقی تعلیم دینا، بہادری، سچائی، وفاداری اور ایثار جیسے اوصاف کو فروغ دینا بھی تھا۔

قدیم زمانے میں داستان گو محفلوں میں زبانی انداز میں داستانیں سنایا کرتے تھے۔ بعد میں ان داستانوں کو تحریری شکل دی گئی۔ "داستانِ امیر حمزہ" اور "بوستانِ خیال" اردو داستان نگاری کی مشہور مثالیں ہیں۔ میر امن دہلوی کی کتاب "باغ و بہار" بھی اردو نثر کی اہم تصنیف ہے جس میں داستانی رنگ نمایاں ہے۔ اگرچہ آج ناول اور افسانہ زیادہ مقبول ہیں، لیکن اردو داستان نگاری کی ادبی اور تاریخی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ اس نے اردو زبان کو وسعت دی اور آنے والی ادبی اصناف کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

(2) سخاوت پر مضمون

سخاوت ایک نہایت عمدہ اخلاقی صفت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انسان خوش دلی سے اپنی دولت، وقت، علم یا صلاحیت دوسروں کی بھلائی کے لیے خرچ کرے۔ سخی انسان دوسروں کی مدد کرکے خوشی محسوس کرتا ہے اور بدلے میں کسی انعام یا تعریف کی خواہش نہیں رکھتا۔ اسلام میں سخاوت کو بہت بڑی نیکی قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث میں ضرورت مندوں کی مدد، صدقہ اور خیرات کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔

تاریخ میں حاتم طائی کو سخاوت کی بہترین مثال سمجھا جاتا ہے۔ وہ اپنی دولت ہی نہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر اپنی جان کی بھی پروا نہیں کرتا تھا۔ اسی لیے آج بھی بے مثال سخی شخص کو حاتم طائی سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ سخاوت سے معاشرے میں محبت، ہمدردی، بھائی چارہ اور باہمی تعاون پیدا ہوتا ہے۔ غریبوں اور محتاجوں کی مدد سے معاشرہ مضبوط اور خوشحال بنتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی استطاعت کے مطابق دوسروں کی مدد کریں، ضرورت مندوں کا خیال رکھیں اور سخاوت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ ایک بہتر، پرامن اور خوشحال معاشرہ قائم ہو سکے۔

جانچ
حصہ (الف)
1۔ داستان سے کیا مراد ہے؟
داستان اردو ادب کی ایک قدیم افسانوی صنف ہے جس میں طویل، تخیلاتی اور دلچسپ واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔ اس میں عشق، بہادری، مہم جوئی اور حیرت انگیز کرداروں کو اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
2۔ داستان کے بنیادی اجزا کون سے ہیں؟
داستان کے اہم اجزا یہ ہیں:
• طوالت
• پلاٹ
• کردار نگاری
• مافوق الفطرت عناصر
• منظر نگاری
• اسلوبِ بیان
3۔ باغ و بہار کی ادبی اہمیت پانچ جملوں میں بیان کریں۔
1. باغ و بہار اردو نثر کی ایک شاہکار کتاب ہے۔
2. اسے میر امن دہلوی نے نہایت سادہ اور رواں زبان میں لکھا۔
3. اس کتاب نے اردو نثر کو نئی سمت عطا کی۔
4. اس میں دہلی کی زبان، تہذیب اور ثقافت کی خوبصورت تصویر پیش کی گئی ہے۔
5. آج بھی یہ اردو ادب کی اہم ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔

حصہ (ب)
1۔ حاتم کون تھا؟
حاتم عرب کا ایک مشہور بادشاہ تھا جو اپنی بے مثال سخاوت، رحم دلی اور نیک سیرتی کی وجہ سے دنیا بھر میں معروف ہوا۔
2۔ "حاتم کی سخاوت" کس کتاب سے لیا گیا ہے؟
یہ سبق باغ و بہار سے منتخب کیا گیا ہے۔
3۔ باغ و بہار کے مصنف کون ہیں اور یہ کب لکھی گئی؟
اس کے مصنف میر امن دہلوی ہیں۔ یہ کتاب 1803ء میں منظر عام پر آئی۔
4۔ "باغ و بہار اردو کی زندہ نثر کی پہلی کتاب ہے" یہ قول کس کا ہے؟
یہ قول بابائے اردو مولوی عبدالحق سے منسوب ہے۔

───

حصہ (د)
1۔ بوڑھا اور بوڑھیا جنگل میں کیوں آئے تھے؟
وہ لکڑیاں جمع کرنے اور اپنی روزی کمانے کے لیے جنگل آئے تھے۔
2۔ بوڑھا اور بوڑھیا کہاں موجود تھے؟
وہ اس غار کے قریب موجود تھے جہاں حاتم نے پناہ لے رکھی تھی۔
3۔ بوڑھیا نے کس خواہش کا اظہار کیا؟
اس نے خواہش ظاہر کی کہ اگر حاتم مل جائے تو اسے نوفل کے حوالے کر کے پانچ سو اشرفیاں حاصل کر لی جائیں تاکہ غربت سے نجات مل سکے۔
4۔ حاتم نے کہاں پناہ لی تھی؟
حاتم نے ایک پہاڑی غار میں پناہ حاصل کی تھی۔

1۔ فورٹ ولیم کالج کے قیام کا مقصد کیا تھا؟
اس کالج کا بنیادی مقصد نئے آنے والے انگریز افسروں کو ہندوستان کی زبانیں، تہذیب اور معاشرت سے واقف کرانا تھا تاکہ وہ انتظامی امور بہتر انداز میں انجام دے سکیں۔
2۔ کالج کے اردو شعبے کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟
اردو شعبے کی نگرانی جان گلکرسٹ کرتے تھے۔ اسی شعبے میں اردو کی متعدد اہم کتابیں لکھی اور ترجمہ کی گئیں، جنہوں نے اردو نثر کو نئی سمت دی۔
3۔ جان گلکرسٹ کی خدمات بیان کریں۔
انہوں نے اردو کے اہلِ قلم کو جمع کیا، نئی کتابیں تیار کروائیں، تراجم کروائے اور اردو زبان کو ترقی دینے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
4۔ فورٹ ولیم کالج نے اردو زبان کی کیا خدمت کی؟
اس ادارے نے اردو میں سادہ نثر کو فروغ دیا، ترجمہ نگاری کو ترقی دی، کتابوں کی اشاعت کو عام کیا اور اردو ادب کو کئی شاہکار تصانیف عطا کیں۔
5۔ کالج کے زوال کی اہم وجہ کیا تھی؟
جان گلکرسٹ کے استعفے، مالی مشکلات اور حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث کالج بتدریج زوال کا شکار ہوا اور بالآخر بند کر دیا گیا۔

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)