اردو زبان کا تاریخی جائزہ اور آغاز: گیارہویں جماعت کے نوٹس
تمہید:
اردو ہندوستان کی ایک جدید اور مقبول ہند آریائی زبان ہے۔ اس کی جڑیں ہندوستان کی قدیم تاریخ اور آریائی قوم کی آمد (تقریباً 1500 قبل مسیح) سے جڑی ہوئی ہیں۔ ماہرینِ لسانیات نے ہند آریائی زبانوں کے ارتقاء کو مختلف ادوار میں تقسیم کیا ہے، جن کا مطالعہ اردو زبان کے تاریخی جائزے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
ہند آریائی زبان کے تین اہم ادوار
اردو زبان کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ہند آریائی زبانوں کے ادوار کو جاننا لازمی ہے:
قدیم ہند آریائی دور (1500 ق۔م سے 500 ق۔م): یہ ویدوں کا زمانہ تھا۔ اس دور میں رگ وید لکھی گئی اور ویدک سنسکرت نے کلاسک سنسکرت کا روپ دھارا۔
وسطی ہند آریائی دور (500 ق۔م سے 1000 عیسوی): اس دور میں سنسکرت کے ساتھ ساتھ عوام میں 'پراکرتیں' (عوامی بولیاں) مقبول ہوئیں۔ ان میں شورسینی، مہاراشٹری، ماگدھی، اردماگدھی اور پشاچی شامل ہیں۔ بعد ازاں انھی سے 'اپ بھرنش' نے جنم لیا۔
جدید ہند آریائی دور (1000 عیسوی کے بعد): اسی دور میں اپ بھرنش سے جدید ہند آریائی زبانیں (جیسے اردو، ہندی، بنگالی، پنجابی وغیرہ) وجود میں آئیں۔
اردو کے مختلف تاریخی نام
اردو نے اپنے ارتقائی سفر میں کئی نام بدلے۔ ابتدائی دور میں اسے ہندی، ہندوی اور گوجری کہا گیا۔ بعد ازاں اسے ریختہ، اور پھر شاہی سرپرستی ملنے پر 'اردوئے معلیٰ' کے نام سے پکارا گیا۔ بالآخر یہ زبان صرف 'اردو' کے نام سے مشہور ہوئی۔
اردو کی جائے پیدائش کے اہم نظریات
اردو کی ابتدا کے حوالے سے مختلف ماہرینِ لسانیات نے اپنے مشہور نظریات پیش کیے ہیں جو امتحانات کے نقطہ نظر سے بہت اہم ہیں:
میر امن دہلوی (باغ و بہار): اردو شاہجہاں کے دور میں دہلی میں پیدا ہوئی۔
سید سلیمان ندوی (نقوشِ سلیمانی): اردو کی ابتدا سندھ میں عربوں کی آمد سے ہوئی۔
نصیر الدین ہاشمی (دکن میں اردو): اردو دکن میں عرب تاجروں کے میل جول سے وجود میں آئی۔
ڈاکٹر آمنہ خاتون: دکن میں دارالخلافہ کی منتقلی اردو کی پیدائش کا سبب بنی۔
محمد حسین آزاد (آبِ حیات): اردو برج بھاشا سے نکلی ہے۔
حافظ محمود شیرانی (پنجاب میں اردو): مسلمان جب پنجاب سے دہلی گئے تو یہ زبان اپنے ساتھ لے گئے۔
پروفیسر مسعود حسین خان (مقدمہ تاریخِ زبانِ اردو): اردو دہلی اور اس کے نواحی علاقوں کی پیداوار ہے۔
شوکت سبزواری اور ڈاکٹر سہیل بخاری: اردو کی اصل بنیاد 'کھڑی بولی' پر ہے۔
گیان چند جین (حقائق): اردو، ہندی اور کھڑی بولی دراصل ایک ہی زبان کے نام ہیں۔
ڈاکٹر گریرسن: اردو کا تعلق براہِ راست مغربی ہندی سے ہے۔
پروفیسر مسعود حسین خان کا مستند لسانی نظریہ
جدید لسانیات میں پروفیسر مسعود حسین خان کے نظریے کو انتہائی مستند مانا جاتا ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق اردو کی تشکیل دلی اور اس کے آس پاس بولی جانے والی بولیوں (ہریانی، کھڑی بولی، برج بھاشا، اور میواتی) کے ملاپ سے ہوئی۔ خاص طور پر قدیم اردو پر ہریانی کے گہرے اثرات ہیں، جبکہ جدید اردو کی بنیاد 'کھڑی بولی' پر رکھی گئی ہے۔ اردو میں مصدر کا نشان "نا" (جیسے آنا، جانا) ہندی الفاظ کے اصل ماخذ کی نشاندہی کرتا ہے۔
حرفِ آخر (محاکمہ)
اردو کسی ایک مخصوص واقعے کی پیداوار نہیں بلکہ یہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی علامت ہے۔ مختلف علاقوں اور بولیوں کے اثرات قبول کرتے ہوئے، یہ آج ایک ترقی یافتہ اور زندہ زبان بن چکی ہے۔ امتحانات کی تیاری کرنے والے طلباء کے لیے اردو کی ابتدا کے نظریات کو سمجھنا ان کی کامیابی کی ضمانت ہے۔