Sabaq Silk Route Class 11 Urdu - Khulasa aur Sawal Jawab | سبق سلک روٹ

URDU DARASGAH
0

 سبق سلک روٹ: مکمل خلاصہ اور سوالات کے جوابات | Class 11 Urdu

Sabaq Silk Route question answers class 11 Baharistan e Urdu

تمہید
دنیا کی قدیم شاہراہوں میں سلک روٹ یا شاہراہِ ابریشم کو سب سے زیادہ تاریخی شہرت حاصل ہے۔ یہ صرف ایک تجارتی راستہ نہیں تھا بلکہ مختلف ممالک، تہذیبوں اور ثقافتوں کو آپس میں ملانے کا ایک عظیم ذریعہ بھی تھا۔ اس شاہراہ کے ذریعے مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت، علم، تہذیب، مذاہب اور فنون کا تبادلہ صدیوں تک جاری رہا۔ زیرِ نظر سبق معروف ادیب اور مورخ عبدالغنی شیخ لداخی کی تاریخی تصنیف سے ماخوذ ہے، جس میں سلک روٹ کی تاریخی، تجارتی، تہذیبی اور ثقافتی اہمیت کو نہایت دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

عبدالغنی شیخ لداخی کے حالاتِ زندگی

عبدالغنی شیخ لداخی کا شمار لداخ کے ممتاز ادیبوں، مؤرخوں اور دانشوروں میں ہوتا ہے۔ ان کی پیدائش 1936ء میں لیہہ میں ہوئی۔ ان کے بزرگ وادیٔ کشمیر سے تجارت کی غرض سے لداخ آئے تھے اور بعد میں وہیں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ ابتدائی تعلیم لیہہ کے گورنمنٹ مڈل اسکول میں حاصل کی۔ مالی اور دیگر حالات کے باعث وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے سرینگر نہ جا سکے، لیکن اپنی محنت اور شوق کی بدولت نجی طور پر تعلیم جاری رکھی۔ انہوں نے ادیب فاضل، بی اے (انگریزی آنرز) اور بعد ازاں ایم اے تاریخ کی ڈگری حاصل کی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے محکمہ افزائشِ حیوانات اور محکمہ تعلیم میں خدمات انجام دیں۔ بعد میں یونین پبلک سروس کمیشن کا امتحان کامیابی سے پاس کیا اور انڈین انفارمیشن سروس سے وابستہ ہو گئے۔ انہوں نے پریس انفارمیشن بیورو اور آل انڈیا ریڈیو میں بھی اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ میڈیا، تاریخ اور ثقافت کے مختلف موضوعات پر ہونے والے قومی سیمیناروں اور ورکشاپوں میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ آج بھی وہ علمی اور ادبی خدمات میں مصروف ہیں۔

عبدالغنی شیخ لداخی ادبی خدمات

عبدالغنی شیخ ایک ہمہ جہت ادیب ہیں۔ انہوں نے ناول، افسانہ، تاریخ، فلسفہ، مذہب اور ثقافت جیسے مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا۔ ان کی تصانیف کی تعداد سترہ سے زیادہ ہے جن میں ناول، افسانوی مجموعے، سوانح عمری، تاریخی اور ادبی کتابیں شامل ہیں۔ ان کی مشہور تصانیف میں دل ہی تو ہے، دورِ زمانہ، زوجیلا کے آر پار، دوراہا، سونم نرپو، قلم، قلمکار اور کتاب اور لداخ تہذیب و ثقافت شامل ہیں۔ ان کا ناول "دل ہی تو ہے" ریاستی کلچرل اکیڈمی کی جانب سے بہترین کتاب کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ ان کی تحریروں میں تحقیق، تاریخی شعور، سادہ اسلوب اور حقائق کی مضبوط بنیاد نمایاں نظر آتی ہے۔

سبق: سلک روٹ کا خلاصہ

سبق "سلک روٹ" ایک معلوماتی اور تاریخی مضمون ہے جسے معروف ادیب اور مؤرخ عبدالغنی شیخ لداخی نے تحریر کیا ہے۔ یہ مضمون ان کی مشہور کتاب "لداخ تہذیب و ثقافت" سے ماخوذ ہے۔ اس میں دنیا کی قدیم ترین اور مشہور تجارتی شاہراہ سلک روٹ (شاہراہِ ابریشم) کی تاریخی، تجارتی، تہذیبی اور ثقافتی اہمیت کو جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

سلک روٹ صدیوں تک مشرق اور مغرب کے درمیان رابطے کا سب سے اہم ذریعہ رہا۔ یہ شاہراہ چین سے شروع ہو کر وسط ایشیا، لداخ، کشمیر، ایران اور دیگر علاقوں سے گزرتی ہوئی یورپ کی قدیم سلطنتِ روما تک پہنچتی تھی۔ اس کی مجموعی لمبائی تقریباً پندرہ ہزار کلومیٹر تھی۔ اس زمانے میں سفر کے ذرائع محدود ہونے کے باعث ایک سرے سے دوسرے سرے تک سامان پہنچانے میں کئی ماہ بلکہ بعض اوقات تقریباً ایک سال لگ جاتا تھا۔ اگرچہ یہ راستہ برف پوش پہاڑوں، دشوار گزار درّوں، وسیع ریگستانوں اور خطرناک وادیوں سے گزرتا تھا، پھر بھی تاجروں اور مسافروں کی آمدورفت کبھی مکمل طور پر بند نہ ہوئی۔

اس شاہراہ کے کنارے بے شمار شہر، قصبے اور بستیاں آباد تھیں۔ مسافروں کی سہولت کے لیے مختلف مقامات پر سرائیں تعمیر کی گئی تھیں، جبکہ تجارتی سرگرمیوں کے لیے بازار اور تجارتی مراکز قائم تھے۔ یہاں مختلف علاقوں سے آنے والے تاجر اپنے اپنے ممالک کی مصنوعات فروخت کرتے اور دوسری جگہوں کی ضروری اشیاء خرید کر واپس لے جاتے تھے۔ اس طرح سلک روٹ نے مختلف قوموں کے درمیان تجارت کو فروغ دینے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

سلک روٹ کو شاہراہِ ابریشم اس لیے کہا جاتا ہے کہ چین سے بڑی مقدار میں عمدہ ریشم اسی راستے کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچایا جاتا تھا۔ جرمنی کے مشہور جغرافیہ دان ہارون رِختھوفن نے ریشم کی اسی تجارت کی مناسبت سے اس شاہراہ کو "سلک روٹ" کا نام دیا۔ مؤرخین کے مطابق یہ شاہراہ حضرت عیسیٰؑ کی ولادت سے بھی تقریباً دو سو سال پہلے وجود میں آچکی تھی، جس سے اس کی قدامت اور تاریخی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

اس راستے سے صرف تجارتی سامان ہی منتقل نہیں ہوتا تھا بلکہ مختلف ممالک کی تہذیبیں، زبانیں، مذاہب، علوم، فنون اور ثقافتی روایات بھی ایک دوسرے تک پہنچتی تھیں۔ چین سے ریشم، کاغذ، بارود، چینی مٹی اور شیشے کی اشیاء برآمد ہوتی تھیں، جبکہ وسط ایشیا سے گھوڑے، عطریات، نیل، اخروٹ اور ناشپاتی لائی جاتی تھیں۔ ہندوستان سے کپاس، مصالحے، کالی مرچ، صندل کی لکڑی اور دیگر قیمتی اشیاء دوسرے ممالک کو بھیجی جاتی تھیں، جبکہ مغربی ممالک سے شیشے کے برتن، آرائشی سامان اور انگور کی بیلیں مشرقی علاقوں میں پہنچتی تھیں۔ اس تبادلے نے مختلف خطوں کی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

سلک روٹ کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی تہذیبی اور ثقافتی اہمیت تھی۔ اس شاہراہ سے گزرنے والے تاجر، مبلغ، سیاح، فوجی اور مسافر اپنے ساتھ اپنے علاقوں کی زبان، رہن سہن، مذہبی عقائد، فنون اور رسم و رواج بھی لے کر جاتے تھے۔ اسی وجہ سے مختلف تہذیبیں ایک دوسرے سے متاثر ہوئیں اور دنیا کے کئی بڑے مذاہب دور دراز علاقوں تک پہنچے۔ یوں سلک روٹ نے مختلف قوموں کے درمیان بھائی چارے، باہمی تعلقات اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔

مضمون میں مشہور سیاح مارکو پولو کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس نے اپنے سفرنامے میں شاہراہِ ابریشم کے دشوار گزار سفر کی تفصیل بیان کی ہے۔ اس کے مطابق بعض ریگستانی علاقوں میں کئی کئی دن پانی میسر نہیں آتا تھا اور مسافروں کو شدید مشکلات، بھوک، پیاس اور موسم کی سختیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، لیکن اس کے باوجود لوگ تجارت اور سفر جاری رکھتے تھے۔

مختصراً، سلک روٹ صرف ایک قدیم تجارتی شاہراہ نہیں تھی بلکہ مختلف تہذیبوں، ثقافتوں، علوم، مذاہب اور معاشی تعلقات کو آپس میں جوڑنے والا ایک عظیم تاریخی راستہ تھا۔ اس نے صدیوں تک مشرق اور مغرب کے درمیان رابطے کو مضبوط بنایا، انسانی تہذیب کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور آج بھی دنیا کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔


الف)سلک روٹ  کے طویل جواب طلب سوالات

سوال نمبر 1:
مصنف کا حوالہ دے کر درج ذیل اقتباس کا ماحصل اپنے الفاظ میں لکھیے:
اقتباس:
"اس شاہراہ سے صدیوں تک تاجر، مبلغ، یاتری، فوجی اور مسافر ہو گزرے ہیں، جہاں جہاں سے لوگ گزرتے تھے وہاں اپنی تہذیب کی چھاپ اور نشان چھوڑتے تھے۔"
جواب:
مصنف کا حوالہ:
یہ اقتباس عبدالغنی شیخ لداخی کے تاریخی مضمون "سلک روٹ" سے لیا گیا ہے، جو ہماری درسی کتاب "بہارستانِ اردو" میں شامل ہے۔
سیاق و سباق:
مصنف اس مقام پر شاہراہِ ابریشم کی تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی اہمیت بیان کر رہے ہیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ یہ راستہ صرف تجارت تک محدود نہیں تھا بلکہ مختلف قوموں کے درمیان تہذیبوں اور ثقافتوں کے تبادلے کا بھی اہم ذریعہ تھا۔
ماحصل:
مصنف کے مطابق شاہراہِ ابریشم پر صدیوں تک مختلف ممالک کے تاجر، سیاح، مبلغ، فوجی اور عام مسافر سفر کرتے رہے۔ یہ لوگ اپنے ساتھ صرف تجارتی سامان ہی نہیں بلکہ اپنی زبان، رسم و رواج، رہن سہن، علم، فن اور مذہبی افکار بھی دوسرے علاقوں تک پہنچاتے تھے۔ اسی باہمی میل جول کی بدولت مختلف تہذیبیں ایک دوسرے سے متعارف ہوئیں، ثقافتی روابط مضبوط ہوئے اور دنیا کے مختلف خطوں میں علم و تمدن کو فروغ حاصل ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ شاہراہِ ابریشم انسانی تاریخ کی ایک نہایت اہم اور یادگار شاہراہ سمجھی جاتی ہے۔
سوال نمبر 2:
سبق پڑھنے کے بعد شاہراہِ ابریشم کے بارے میں آپ نے کیا محسوس کیا؟ تفصیل سے لکھیے۔
جواب:
سبق "سلک روٹ" کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ شاہراہِ ابریشم انسانی تاریخ کی ایک عظیم شاہراہ تھی جس نے مختلف قوموں، تہذیبوں اور ممالک کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس راستے نے نہ صرف تجارت کو فروغ دیا بلکہ علم، ادب، ثقافت، مذاہب اور فنون کے تبادلے میں بھی نمایاں حصہ لیا۔
یہ سبق ہمیں بتاتا ہے کہ ترقی صرف تجارت سے نہیں بلکہ مختلف قوموں کے باہمی تعلقات، برداشت اور تعاون سے بھی حاصل ہوتی ہے۔ شاہراہِ ابریشم مختلف تہذیبوں کے درمیان دوستی، بھائی چارے اور ثقافتی ہم آہنگی کی علامت تھی۔ اس کی تاریخی اہمیت آج بھی برقرار ہے اور یہ ہمیں امن، تعاون اور بین الاقوامی روابط کی اہمیت کا احساس دلاتی ہے۔
سوال نمبر 3:
شاہراہِ ابریشم سے کس کس ملک سے کون کون سی چیزیں برآمد یا درآمد ہوتی تھیں؟
جواب:
شاہراہِ ابریشم مختلف ممالک کے درمیان تجارت کا سب سے اہم راستہ تھا۔ چین سے ریشم، کاغذ، چینی مٹی کے برتن، بارود اور چھپائی کا سامان برآمد کیا جاتا تھا۔ ہندوستان سے کپاس، کالی مرچ، صندل کی لکڑی اور دیگر مصالحہ جات بھیجے جاتے تھے۔ وسطی ایشیا سے عمدہ نسل کے گھوڑے، عطریات، اخروٹ، ناشپاتی اور نیل کے رنگ برآمد ہوتے تھے، جبکہ مغربی ممالک سے شیشے کے برتن، آرائشی سامان اور انگور کی بیلیں مشرقی علاقوں میں پہنچتی تھیں۔ اس وسیع تجارتی نظام نے مختلف ممالک کی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
سوال نمبر 4:
تجارت اور برآمدات کے علاوہ شاہراہِ ابریشم کی کیا اہمیت تھی؟
جواب:
شاہراہِ ابریشم کی اہمیت صرف تجارتی سرگرمیوں تک محدود نہیں تھی بلکہ یہ تہذیب، ثقافت، علم، ادب اور مذاہب کے فروغ کا بھی ایک مؤثر ذریعہ تھی۔ اس راستے سے مختلف قوموں کے لوگ ایک دوسرے سے ملتے، اپنے خیالات اور تجربات کا تبادلہ کرتے اور نئی ایجادات سے واقف ہوتے تھے۔ اسی شاہراہ کے ذریعے مختلف مذاہب دور دراز علاقوں تک پہنچے اور فنونِ لطیفہ، زبان اور تمدن نے بھی ترقی کی۔ اس طرح شاہراہِ ابریشم نے دنیا کی مختلف تہذیبوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
سوال نمبر 5:
مارکو پولو نے شاہراہِ ابریشم کے بارے میں کیا کہا ہے؟
جواب:
مشہور سیاح مارکو پولو نے اپنے سفرنامے میں شاہراہِ ابریشم کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ سفر انتہائی دشوار اور خطرات سے بھرپور تھا۔ خاص طور پر ریگستانی علاقوں میں پانی کی شدید کمی تھی اور کئی مرتبہ ایک دن اور ایک رات مسلسل سفر کرنے کے بعد پانی دستیاب ہوتا تھا۔ سخت موسم، طویل فاصلے اور دشوار راستوں کے باوجود تاجروں اور مسافروں نے ہمت نہیں ہاری اور صدیوں تک اس شاہراہ پر سفر جاری رکھا۔ مارکو پولو کی تحریریں اس تاریخی شاہراہ کی عظمت اور مشکلات دونوں کو نمایاں کرتی ہیں۔

ب) سلک روٹ مختصر جواب طلب سوالات

سوال نمبر1:
قدیم دنیا کی سب سے لمبی اور پُراسرار شاہراہ کا نام بتائیے۔
جواب: قدیم دنیا کی سب سے طویل اور مشہور شاہراہ سلک روٹ یا شاہراہِ ابریشم کہلاتی ہے، جس نے صدیوں تک مشرق اور مغرب کو آپس میں جوڑے رکھا۔
سوال نمبر 2:
شاہراہِ ابریشم کی لمبائی کتنی تھی؟
جواب: شاہراہِ ابریشم کی لمبائی تقریباً پندرہ ہزار کلومیٹر تھی، جو چین سے بحرِ روم تک پھیلی ہوئی تھی۔

سوال نمبر 3:
شاہراہِ ابریشم سے کون کون لوگ گزرتے تھے؟
جواب: اس تاریخی شاہراہ سے تاجر، مبلغ، سیاح، یاتری، فوجی، سفیر اور عام مسافر سفر کیا کرتے تھے، جو اپنے ساتھ مختلف تہذیبیں، زبانیں، علوم اور ثقافتیں بھی لے کر آتے تھے۔

سوال نمبر 4:
شاہراہِ ابریشم پر موجود مختلف بستیوں کے نام لکھیے۔
جواب: شاہراہِ ابریشم پر واقع اہم علاقے اور بستیاں چین، کاشغر، یارقند، ترکستان، پامیر، لداخ، گلگت بلتستان، کشمیر، ایران، وسطی ایشیا، مغربی تبت، برصغیرِ ہند اور روم شامل ہیں۔
سوال نمبر 3:
آپ نے کسی تاریخی جگہ یا سیاحتی مقام کا سفر ضرور کیا ہوگا، اپنے اسکول سے اُس مقام تک کے راستے کا حال اپنے الفاظ میں لکھیے۔
جواب:
گزشتہ سال ہمارے اسکول کی طرف سے گلمرگ کی سیر کا پروگرام بنایا گیا۔ صبح سویرے ہم اپنے اساتذہ کے ساتھ اسکول سے روانہ ہوئے۔ راستے میں سرسبز کھیت، خوبصورت دیہات، بہتے ہوئے چشمے اور بلند پہاڑ دیکھ کر سفر نہایت خوشگوار محسوس ہوا۔ ہم نے مختلف مقامات پر مختصر وقفے بھی کیے اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوئے۔
جوں جوں ہم گلمرگ کے قریب پہنچتے گئے، موسم مزید ٹھنڈا اور خوشگوار ہوتا گیا۔ گھنے دیودار کے جنگلات، سبز میدان اور برف پوش پہاڑ دیکھ کر دل خوشی سے بھر گیا۔ ہم نے وہاں خوب سیر کی، تصاویر بنائیں اور قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوئے۔ شام کو خوشگوار یادوں کے ساتھ واپس اسکول لوٹے۔ یہ سفر میری زندگی کے یادگار سفروں میں سے ایک ہے۔
سوال نمبر 4:
کسی ایک عنوان پر 200 الفاظ پر مشتمل مضمون لکھیے۔
 جو مضمون آپ کو دیکھنا ہو اس پر کلک کریں

(الف) جموں سرینگر شاہراہ

(ب) صنعتِ ابریشم


اضافی سوالات
سوال نمبر 1:

"سلک روٹ" سبق کا ماحصل لکھئے۔

جواب: سبق "سلک روٹ" ایک تاریخی مضمون ہے جس میں دنیا کی قدیم ترین اور مشہور شاہراہِ ابریشم کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ یہ شاہراہ چین سے یورپ تک پھیلی ہوئی تھی اور اس کے ذریعے مختلف ممالک کے درمیان تجارت، ثقافت، علم، فن اور مذاہب کا تبادلہ ہوتا تھا۔ اس راستے سے تاجر، سیاح، مبلغ اور مسافر صدیوں تک سفر کرتے رہے۔ مختلف علاقوں کی تہذیبیں ایک دوسرے سے متعارف ہوئیں اور انسانی تعلقات مضبوط ہوئے۔ مصنف نے واضح کیا ہے کہ سلک روٹ صرف تجارتی شاہراہ نہیں تھی بلکہ مختلف قوموں کے درمیان ثقافتی اور تہذیبی رابطے کا ایک اہم ذریعہ بھی تھی۔
سوال نمبر 2:
شاہراہِ ابریشم سے کس کس ملک سے کون کون سی چیزیں برآمد یا درآمد ہوتی تھیں؟
جواب: شاہراہِ ابریشم کے ذریعے مختلف ممالک کے درمیان بے شمار اشیاء کی تجارت ہوتی تھی۔ چین سے ریشم، کاغذ، بارود، چینی مٹی کے برتن اور چھپائی کا سامان برآمد کیا جاتا تھا۔ ہندوستان سے کپاس، کالی مرچ، صندل کی لکڑی اور دیگر مصالحے بھیجے جاتے تھے۔ وسطی ایشیا سے گھوڑے، خوشبودار اشیاء، اخروٹ، ناشپاتی اور نیل کے رنگ برآمد ہوتے تھے، جبکہ مغربی ممالک سے شیشے، آرائشی سامان اور انگور کی بیلیں مشرقی علاقوں میں پہنچتی تھیں۔ اس طرح مختلف ملکوں کی تجارت کو فروغ ملا۔
سوال نمبر 3:
تجارت اور برآمدات کے علاوہ شاہراہِ ابریشم کی کیا اہمیت تھی؟
جواب: شاہراہِ ابریشم کی اہمیت صرف تجارت تک محدود نہیں تھی بلکہ اس نے مختلف قوموں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس راستے سے مختلف مذاہب کی تبلیغ ہوئی، نئی تہذیبیں اور ثقافتیں ایک دوسرے تک پہنچیں، علم و ادب، فنونِ لطیفہ اور سائنسی معلومات کا تبادلہ ہوا۔ مختلف قوموں کے درمیان دوستی، تعاون اور باہمی تعلقات مضبوط ہوئے۔ اسی وجہ سے شاہراہِ ابریشم انسانی تاریخ کی ایک عظیم تہذیبی شاہراہ سمجھی جاتی ہے۔
سوال نمبر 4:
مارکو پولو نے شاہراہِ ابریشم کے بارے میں کیا کہا ہے؟
جواب: مشہور مغربی سیاح مارکو پولو نے اپنے سفرنامے میں شاہراہِ ابریشم کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس راستے پر سفر کرنا نہایت دشوار تھا۔ خاص طور پر ریگستانی علاقوں میں پانی کی شدید قلت تھی اور کئی مرتبہ ایک دن اور ایک رات کا سفر طے کرنے کے بعد پانی میسر آتا تھا۔ اس کے باوجود تاجروں اور مسافروں نے بڑی ہمت اور حوصلے سے اس شاہراہ پر سفر جاری رکھا، جس سے اس کی تاریخی اہمیت مزید نمایاں ہوتی ہے۔

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)