سبق خوشامد: سر سید احمد خان | خلاصہ، انشائیہ اور حل شدہ سوالات

URDU DARASGAH
0

سبق خوشامد ۔۔۔ سر سید احمد خان 

 ​انشائیہ:

​انشائیہ اردو نثر کی وہ دلچسپ صنف ہے جس میں مصنف کسی بھی عام یا خاص موضوع پر اپنے ذاتی خیالات، مشاہدات اور احساسات کو انتہائی بے تکلفی اور شگفتگی کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ اسے انگریزی میں Light Essay بھی کہا جاتا ہے۔

انشائیہ کی سب سے بڑی خوبی اس کا غیر رسمی انداز ہے۔ اس میں مصنف کسی عالم یا فلسفی کی طرح سنجیدہ بحث نہیں کرتا، بلکہ ایک دوست کی طرح قاری سے ہم کلام ہوتا ہے۔ انشائیہ نگار بات سے بات نکالتا ہے اور سنجیدہ موضوعات میں بھی ظرافت اور تازگی کا پہلو ڈھونڈ نکالتا ہے۔ اس میں معلومات فراہم کرنے سے زیادہ قاری کو خوشگوار حیرت اور ذہنی تفریح فراہم کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔

اردو میں انشائیہ نگاری کی بنیاد سر سید احمد خان اور ان کے رفقاء نے ڈالی۔ بعد ازاں محمد حسین آزاد نے 'نیرنگِ خیال' کے ذریعے اسے نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ جدید دور میں پطرس بخاری، مشتاق احمد یوسفی، مرزا فرحت اللہ بیگ اور ڈاکٹر وزیر آغا نے اس صنف کو بے حد مقبول بنایا۔

سر سید احمد خان 

سرسید احمد خان 17 اکتوبر 1817ء کو دہلی کے ایک معزز اور علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے عربی، فارسی اور دینیات کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں جدید علوم میں بھی مہارت حاصل کی۔ عملی زندگی میں انہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازمت کی اور منصف کے عہدے تک پہنچے۔

1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد انہوں نے مسلمانوں کی تعلیمی اور سماجی پسماندگی کو محسوس کیا اور جدید تعلیم کو قوم کی ترقی کا ذریعہ قرار دیا۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے علی گڑھ تحریک شروع کی، سائنٹفک سوسائٹی قائم کی اور 1875ء میں علی گڑھ میں ایم اے او کالج کی بنیاد رکھی، جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بنا۔

سرسید احمد خان اردو نثر کے بڑے محسن تھے۔ انہوں نے اردو نثر کو سادہ اور عام فہم بنایا اور رسالہ تہذیب الاخلاق کے ذریعے اصلاحِ معاشرہ کی کوشش کی۔ ان کی اہم کتابیں اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔

سرسید احمد خان کا انتقال 27 مارچ 1898ء کو ہوا۔ وہ مسلمانوں کے تعلیمی احیا کے بانی اور ایک عظیم مصلح تھے۔

سبق کا خلاصہ 

سر سید احمد خان اپنے اس مضمون میں بتاتے ہیں کہ خوشامد انسانی دل کی ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کو بہت جلد اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ جس طرح وبائی ہوا بدن پر اثر کرتی ہے، بالکل اسی طرح خوشامد سننے کی خواہش انسان کے دل میں زہریلا مادہ پیدا کر دیتی ہے۔ خوشامد کا آغاز خود فریبی سے ہوتا ہے؛ جب ہم اپنی تعریف خود کرنے لگتے ہیں تو آہستہ آہستہ دوسروں کی جھوٹی تعریف بھی ہمیں سچی لگنے لگتی ہے۔ انسان اپنی اصل حقیقت کو بھول کر دوسروں کے کہے ہوئے جھوٹے اوصاف کو اپنی خوبی سمجھنے لگتا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کی اپنی عقل اندھی ہو جاتی ہے اور وہ مکر و فریب کا شکار ہو جاتا ہے۔ سر سید کے نزدیک سچی تعریف ایک عمدہ خوشبو کی مانند ہے جو دماغ کو فرحت بخشتی ہے، لیکن اگر یہی تعریف حد سے بڑھ جائے یا نااہل شخص کی جائے تو یہ بدبو بن کر دماغ کو پریشان کر دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خوشامد کی خواہش ایک کمینہ پن ہے جو انسان کی خودی کو برباد کر دیتا ہے اور اسے اخلاقی طور پر پست کر دیتا ہے۔

سوالات کے جوابات

۱۔ خوشامد کو بدتر چیز کیوں کہا جاتا ہے؟

خوشامد کو بدتر چیز اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ انسان کی 'خودی' کو برباد کر دیتی ہے۔ یہ انسان کے اندر جھوٹی لیاقت کا احساس پیدا کرتی ہے اور اسے اپنی اصلاح کرنے سے روک دیتی ہے، جس سے انسان اخلاقی پستی کا شکار ہو جاتا ہے۔

۲۔ خوشامد میں کیا کیا عیب ہوتے ہیں؟

خوشامد کا سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ یہ انسان کو 'خود پرست' اور 'خود بیں' بنا دیتی ہے۔ یہ انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے، اسے مکر و فریب میں مبتلا کرتی ہے اور انسان سچ و جھوٹ میں تمیز کرنے کے قابل نہیں رہتا۔

۳۔ اقتباس پر مبنی سوالات کے جوابات:

فیاض آدمی کو کس چیز کا زیادہ خیال رہتا ہے؟

جواب: فیاض آدمی کو اپنی بدنامی کا زیادہ خیال اور نیک نامی کی زیادہ خواہش ہوتی ہے۔

عالی ہمت طبیعت کو کس چیز سے تقویت ملتی ہے؟ 

جواب:عالی ہمت طبیعت کو مناسب عزت اور سچی تعریف سے تقویت ملتی ہے۔

پست ہمتی کا سبب کیا ہے؟ 

جواب:غفلت اور حقارت سے پیش آنا پست ہمتی کا سبب بنتا ہے۔

ہم معنی الفاظ کی تلاش:

شہرت:- ناموری

سختی: ۔زبردستی

طاقت:۔ قوت/تقویت

نیچے:۔ پست

موزوں:۔ مناسب

لاپرواہی: ۔غفلت

۴۔ صحیح جواب کا انتخاب:

"خوشامد" سے مراد ہے: دوسروں سے اپنی جھوٹی تعریفیں سن کر خوش ہونا۔

خوشامد ایک: بری چیز ہے۔

علی گڑھ کالج کس نے قائم کیا تھا؟ سر سید احمد خان نے۔

سر سید کا انتقال کب ہوا؟ ۱۸۹۸ء میں۔

گرامر: مرکب جاری کی تلاش

دیے گئے الفاظ میں سے مرکب جاری (وہ مرکب جو حرفِ جار اور مجرور سے مل کر بنے) درج ذیل ہیں:

۱. دلی سے (دلی = مجرور، سے = حرفِ جار)

۲. میز پر (میز = مجرور، پر = حرفِ جار)

۳. کولکتہ تک (کولکتہ = مجرور، تک = حرفِ جار)

۴. کتاب میں (کتاب = مجرور، میں = حرفِ جار)

۵. آپ کے ساتھ (آپ = مجرور، کے ساتھ = حرفِ جار)

۶. درخت پر (درخت = مجرور، پر = حرفِ جار)



Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)