ایکسکرشن جانے کے لئے درخواست

Anonymous
0

اسکول کے بچوں کے لیے تفریحی دورے (ایکسکرشن) کی آسان درخواستیں

پرنسپل کے نام تفریحی دورے پر جانے کی درخواست اسکول کے طلباء کے لیے تفریحی دورے کی آسان درخواستیں

درخواست نمبر 1: ایکسکرشن جانے کے لیے بنیادی درخواست

بخدمت جناب پرنسپل صاحب،ا ب ج د اسکول۔۔۔۔۔۔

موضوع: درخواست برائے ایکسکرشن (تفریحی دورہ)

جناب عالی،

مودبانہ گزارش ہے کہ رواں برس ابھی تک ہم کو ایکسکرشن جانے کا موقع نہیں مل سکا۔ آج موسم بہت خوشگوار ہے اور تمام طلباء ایکسکرشن جانے کے خواہشمند ہیں۔ سبھی طلباء پہلگام جانے پر متفق ہیں۔

اس لیے ادباً التماس ہے کہ ہم سب طلباء کو مذکورہ مقام پر جانے کی اجازت مرحمت فرمائیں۔ آپ کی بڑی نوازش ہوگی۔

شکریہ!
تاریخ: 2 مارچ 2012ء

العارض

طلباء و طالبات

درخواست نمبر 2: تفریحی دورے پر جانے کے لیے آسان درخواست

بخدمت جناب پرنسپل صاحب،ایجوکیشنل ماڈل ہائی اسکول، سرینگر۔

موضوع: تفریحی دورے (ایکسکرشن) پر جانے کی اجازت کے لیے درخواست۔

جناب عالی،
سلامِ مسنون کے بعد گزارش ہے کہ دسویں جماعت کے تمام طلباء پڑھائی کے بوجھ کو ہلکا کرنے کے لیے ایک تفریحی دورے پر جانا چاہتے ہیں۔ امتحانات کی تیاریوں کے بعد بچوں کے لیے تھوڑا تروتازہ ہونا بہت ضروری ہے۔

آپ سے گزارش ہے کہ ہمیں کسی قریبی تفریحی مقام (جیسے مغل باغ) کی سیر کے لیے ایک دن کی اجازت مرحمت فرمائیں، تاکہ ہم تازہ دم ہو کر دل لگا کر پڑھائی کر سکیں۔

شکریہ!

تاریخ: 11 اگست 2026ء

العارض

 تمام طلباء جماعت دہم

درخواست نمبر 3: تعلیمی دورے کے انعقاد کے لیے آسان درخواست

بخدمت جناب پرنسپل صاحب،گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول،۔۔۔۔۔۔

موضوع: تعلیمی اور تفریحی دورے کے سلسلے میں درخواست۔

جناب عالی،

گزارش ہے کہ ہم بارہویں جماعت کے طلباء اپنی کتابی پڑھائی کے ساتھ ساتھ عملی معلومات حاصل کرنے کے لیے ایک چھوٹا سا تعلیمی دور کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے طلباء کی آپس میں دوستی اور سمجھ بوجھ میں اضافہ ہوگا۔

لہذا، آپ سے ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے کہ ہمیں اس دورے کی اجازت دیں اور اسکول کی طرف سے ایک استاد کو ہمارے ساتھ جانے کا حکم صادر فرمائیں۔

شکریہ!

تاریخ: 11 اگست 2026ء

العارض

 نمائندہ طلباء

درخواست نمبر 4: سالانہ ایکسکرشن کے اجازت نامے کی درخواست

بخدمت جناب پرنسپل صاحب،پبلک ہائر سیکنڈری اسکول،۔۔۔۔۔۔

موضوع: سالانہ ایکسکرشن کے لیے اجازت نامہ حاصل کرنے کی درخواست۔

جناب عالی،

گزارش ہے کہ ہمارے اسکول کی پرانی روایت کے مطابق ہر سال بچوں کے لیے ایک تفریحی دورہ رکھا جاتا ہے۔ آج کل پڑھائی کا کافی دباؤ ہے، اس لیے تمام طلباء کی شدید خواہش ہے کہ ایک دن کے لیے کسی تاریخی مقام کی سیر کے لیے جایا جائے۔

امید ہے آپ ہماری اس درخواست کو قبول فرمائیں گے اور اساتذہ کو ضروری ہدایات جاری کریں گے۔

شکریہ!

تاریخ: 11 اگست 2026ء

العارض

مؤدب طلباء و طالبات

درخواست نمبر 5: موسمِ بہار کی مناسبت سے تفریحی دورے کی درخواست

بخدمت جناب پرنسپل صاحب،سنٹرل ماڈل اسکول،۔۔۔۔۔۔

موضوع: موسمِ بہار میں تفریحی دورے (ایکسکرشن) پر جانے کی درخواست۔

جناب عالی،

مؤدبانہ گزارش ہے کہ پیارا موسمِ بہار شروع ہو چکا ہے اور چاروں طرف خوبصورت نظارے ہیں۔ اس حسین موسم میں طلباء کا دل چاہتا ہے کہ ایک دن کے لیے کسی قریبی تفریحی مقام پر جایا جائے۔

آپ سے التماس ہے کہ ہمیں جانے کی اجازت دیں تاکہ ہم قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو سکیں۔ آپ کی یہ مہربانی ہمارے لیے بہت خوشی کی بات ہوگی۔

شکریہ!

تاریخ: 11 اگست 2026ء
العارض

طلباء و طالبات جماعت ہشتم

درخواست نمبر 6: نمائندہ طلباء کی طرف سے آسان درخواست

بخدمت جناب پرنسپل صاحب،اسلامیہ ہائی اسکول،۔۔۔۔۔۔

موضوع: ایکسکرشن کے انعقاد اور بسوں کے بندوبست کے لیے درخواست۔

جناب عالی،

گزارش ہے کہ اسکول کے تمام بچوں کی یہ رائے ہے کہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ ہمیں تفریح کا موقع بھی ملنا چاہیے۔ سب بچوں نے اتفاق کیا ہے کہ اس بار کسی پہاڑی اور خوبصورت مقام پر سیر کے لیے جایا جائے۔

لہذا، آپ سے دست بستہ گزارش ہے کہ ہماری اس درخواست پر غور فرمائیں اور ایکسکرشن پر جانے کی منظوری دیتے ہوئے ضروری انتظامات کرنے کی اجازت مرحمت فرمائیں۔

شکریہ!

تاریخ: 11 اگست 2026ء
العارض

(نمائندہ طلباء)

🔔 اردو درسگاہ کے ساتھ جڑے رہیں!

بہترین امتحانی نوٹس اور تعلیمی مواد سب سے پہلے حاصل کرنے کے لیے ہمارے بلاگ کا وزٹ جاری رکھیں۔

مزید نوٹس ملاحظہ کریں

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)

ایکسکرشن (Excursion) سے کیا مراد ہے؟

ایکسکرشن سے مراد طلباء کا تفریحی یا تعلیمی دورہ ہے جو وہ اسکول کی طرف سے کسی سیر گاہ یا تاریخی مقام پر کرتے ہیں۔

اسکول میں تفریحی دورے کی درخواست کیوں لکھی جاتی ہے؟

یہ درخواست طلباء کی طرف سے پرنسپل صاحب کو تفریحی دورے کی اجازت اور انتظامات کرنے کے لیے لکھی جاتی ہے۔

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)