بسم اللہ الرحمن الرحیم
مرزا اسد اللہ خان غالب
اسد اللہ خان نام ،غالب تخلص تھا اور مرزا نوشہ لقب 1797 عیسوی میں تولد ہوئے ان کے والد عبداللہ بیگ خان اور چچا نصراللہ بیگ ان دونوں فوج میں ملازم تھے مرزا ابھی چار برس کے تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا اس کے بعد چچا نے پرورش کی ذمہ داری سنبھالی مگر چار برس بعد انہوں نے بھی دنیا کو خیرباد کہہ دیا اور آپ کو نانیھال آنا پڑا ۔مزا کا بچپن اگرہ میں گزرا جہاں انہوں نے شیخ معظم سے ابتدائی تعلیم حاصل کی ،تیرہ برس کی عمر میں آپ کی شادی نواب الہی بخش کی بیٹی امراء بیگم سے ہو گئی اس کے بعد غالب نے دہلی میں مستقل سکونت اختیار کی غالب مالی اعتبار سے کبھی آسودہ حال نہیں رہے
ان کے اخراجات ہمیشہ آمدنی سے زیادہ تھے انہوں نے اپنا کوئی ذاتی مکان نہیں بنایا تھا بلکہ کرایہ کے مکان میں گزارہ کیا آپ کو جو وظیفہ ملتا تھا 1857 عیسوی کی بغاوت کے بعد وہ بھی بند ہوگیا اور پھر دوبارہ شروع کروانے کے لئے انہیں عدالت کا سہارا لینا پڑا آپ نے دو بار رامپورکا سفر بھی کیا جو مختلف اعتبار سے غالب کی زندگی میں اہم ہے۔ غالب ایک خوداراور شفیق انسان تھے آپ کے دوستوں کا حلقہ بہت وسیع کیا تھا جن میں ہر مذہب و ملت کے لوگ تھے وہ ہمیشہ ہر کسی کے ساتھ کشادہ پیشانی سے ملتے تھے ذوق کے انتقال کے بعد بہادر شاہ ظفر نے غالب کو اپنا استاد مقرر کیا تھا ۔ وہ 72سال کی عمر میں 1869عیسویں میں آپ نے انتقال کیا درگاہ حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ کے احاطے میں دفن کیے گئے
سوال نمبر 1۔ غالب کی خطوط نگاری پر پانچ جملے لکھیے۔
جواب: غالب کے خطوط اردو نثر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں اسلئے کہ ان خطوط سے جدید نثر کا آغاز ہوتا ہے۔ غالب نے اپنے خطوط کے ذریعے اردو نثر میں بڑی نرمی اور وسعت پیدا کی ہے۔انہوں نے خطوط نگاری کا قدیم انداز ترک کیا اور مراسلہ کو مکالمہ بنا دیا ۔ وہ یا تو بہت مختصر طور پر القاب و آداب لکھتے تھے یا پھر راست طور پر مدعا بیان کرتے تھے۔غالب کے خطوط میں ان کی خودنوشت سوانح ملتی ہے۔
سوال 2۔ اپنے دوست کو خط لکھیے ۔جس میں خط نہ لکھنے کی شکایت کی گئی ہو۔
جواب:
صبا جاوید/جاوید اقبال
شاہی محل احمد نگر
پن 456782
مورخہ: 10 ستمبر 2021
پیاری سہیلی/پیارے دوست
اسلام علیکم
امید ہے کہ اس آپ خیریت سے ہوں گے ۔ میں مسلسل آپ کو خطوط ارسال کر رہا/رہی ہوں مگر آپ کی طرف سے کوئی خط موصول نہیں ہوا اگر آپ کسی وجہ پر مجھ سے ناراض ہے تو میں اس کے لئے معذرت خواہ ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ اپنی ناراضی کا وجہ ضرورلکھو گے/گی تاکہ میں آئندہ سے محتاط رہ سکوں۔
توقع رکھتا /رکھتی ہوں کہ اس خط کو پڑھ کر آپ کی ناراضی دور ہوگی اور اب آپ پہلے کی طرح مجھے پابندی سے خط بھیجا کرو گے/گی۔
وسلام
آپ کا دوست/ سہیلی
ا۔ب۔ج۔د
ناظمہ بتول/شبیر احمد
شالیمار کالونی جامعہ نگر
پن 4575589
سوال3» غالب نے رام پور کی تعریف میں کیا کہا ہے؟
جواب : غالب نے رام پور کی تعریف میں یہ کہا ہے کہ رام پور دارالسرور ہے جو لطف رامپور میں ہے وہ کہی اور نہیں ہے۔یہاں کا حیات بخش پانی بہت میٹھا ہے اور یہاں کے لوگ بہت مہمان نواز ہیں ۔
گرامر:
رموزِ
اوقاف کی تعریف:
رموزِ
اوقاف سے مراد وہ علامتیں ہیں جو عبارت کے درمیان وقفہ لینے، جملوں کو الگ کرنے یا
کسی خاص بات کی وضاحت کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، تاکہ تحریر کا مفہوم واضح ہو
سکے۔
اہم
رموزِ اوقاف اور ان کے استعمال
|
علامت
کا نام |
علامت |
استعمال
کی وضاحت |
|
سکتہ (Comma) |
، |
یہ
سب سے مختصر وقفہ ہوتا ہے۔ ایک ہی قسم کے الفاظ کو الگ کرنے کے لیے استعمال ہوتا
ہے۔ (مثلاً: زکریا، عبداللہ اور اسلم دوست ہیں)۔ |
|
وقفہ (Semicolon) |
؛ |
یہ
سکتہ سے ذرا زیادہ وقفے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جہاں جملے کے دو حصوں میں تعلق
تو ہو مگر وہ الگ الگ معلوم ہوں۔ |
|
رابطہ (Colon) |
: |
یہ
علامت کسی قول، تعریف یا فہرست پیش کرنے سے پہلے لگائی جاتی ہے۔ (مثلاً: فرمانِ
نبوی ﷺ ہے: "پاکیزگی نصف ایمان ہے")۔ |
|
تفصیلیہ (Colon Dash) |
:- |
جب
کسی بات کی تفصیل بتانی ہو تو یہ علامت استعمال کرتے ہیں۔ (مثلاً: علم کے فائدے
درج ذیل ہیں:-)۔ |
|
ختمہ (Full Stop) |
۔ |
یہ
علامت جملے کے مکمل ہونے پر لگائی جاتی ہے تاکہ مکمل ٹھہراؤ ظاہر ہو۔ |
|
سوالیہ (Question Mark) |
؟ |
یہ
علامت کسی بھی سوالیہ جملے کے آخر میں لگائی جاتی ہے۔ (مثلاً: کیا آپ نے نوٹس
تیار کر لیے؟)۔ |
|
ندائیہ
یا فجائیہ (Exclamation) |
! |
یہ
علامت پکارنے (ندائیہ) یا خوشی، غمی اور حیرت (فجائیہ) کے اظہار کے لیے استعمال
ہوتی ہے۔ (مثلاً: اے اللہ! ہم پر رحم فرما)۔ |
|
واوین (Inverted Commas) |
"
" |
جب
کسی کا قول یا کسی تحریر کا اقتباس بعینہٖ (جیسا ہے ویسا ہی) نقل کرنا ہو تو اسے
واوین میں لکھتے ہیں۔ |
|
قوسین (Brackets) |
(
) |
جملہ
معترضہ یا کسی لفظ کی مزید وضاحت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ |
