مولانا الطاف حسین حالیؔ
تعلیم سے بے توجہی کا نتیجہ — تشریح، حوالہ اور سوالات و جوابات
یہ پوسٹ مولانا الطاف حسین حالیؔ کے حالات زندگی، طرز تحریر و ادبی خدمات، نظم "تعلیم سے بے توجہی کا نتیجہ" کے منتخب بندوں کی تشریح، حوالہ اور اہم سوالات و جوابات پر مشتمل ہے۔ جماعت نہم کے طلبہ کے لیے یہ مواد امتحانی تیاری میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
📚 فہرستِ مضامین
مولانا الطاف حسین حالی
الطاف حسین نام اور حالیؔ تخلص تھا۱۸۳٧ء مطابق ۲۵۲اھ پانی پت کے محلہ انصار میں پیدا ہوئے ۔ حالی کی ولادت کے بعد ان کی والدہ کا دماغ مختل ہو گیا، بدقسمتی سے حالی بچپن ہی میں ماں کی آغوش محبت سے محروم ہو گئے ۔ جب نو سال کے ہوئے تو والد کا سایہ سرے اٹھ گیا، انہیں داغ بیتی سہنا پڑا۔ اسکے بعد ان کی پرویش اورتعلیم وتربیت ان کے بڑے بھائی خواجہ امداد حسین اور ان کی بہنوں نے بڑھے پیار اور محبت سے کی کبھی انہیں ماں کی ممتا اور باپ کی شفقت سے محرومی کا احساس نہیں ہونے دیا۔ رواج کے مطابق پہلے قرآن شريف بعد میں عربی فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ ۱۸۵۷ء میں کے بعد نواب مصطق شفت سے وابستہ ہو گئے ان ہی کے زریعے مرزا غالب سے ملاقات ہونے کا شرف حاصل ہوا اور شاعری میں ان کے شاگرد ہو گئے ۔ شفتہ کی وفات کے بعد لاہور چلے گئے اور وہاں گورنمنٹ بک ڈپو میں ملازم ہو گئے ۔ پھر دہلی آئے اور سرسید سے ملاقات ہوئی انہی کی سفارش پرنظام گورنمٹ سے ۵ ٧روپیہ ماہوار وظیفہ مقرر ہو گیا۹۰۶اء میں حکومت ہند سے شمس العماء کا خطاب حاصل ہوا ۔ ا٣مبر ١٩١٤ء کوعلم وادب کایہ آفتاب ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا۔
طرز تحریروادبی خدمات
طرز تحریروادبی خدمات : مولانا ایک بڑے اور مایہ ناز ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ شاعربھی ہیں انہیں عربی، فارسی، ہندی، اور اردو زبان پر خاصی دسترس تھی۔ انہوں نے نثر کے ساتھ ساتھ شاعری میں بھی لوہا منوایا۔ ان کی زبان دہلی کی ٹکسالی زبان ہے ان کی تحریر سادہ شیر ین اور پر تاثیر ہے۔ ان کی عبارت میں سلاست اور سادگی کے علاوہ آزاد کی شوخی اور رنگینی کے ساتھ ساتھ نذیر احمد کی سی نازکی اور لطیف ظرافت نہیں ۔ عبارت آرائی اور تکلف سے پرہیز کیا ہے، الفاظ کے استعمال میں تناسب اور موزونیت ہے، ان کے خیالات میں روانی اورتسلسل ہے۔ آپ سورنح نگاری کے موجد ہیں۔ آپ کی کتاب ”مقدمہ شعر و شاعری‘‘ سے ہمارے ادب میں تنقید کاباقاعدہ آغاز ہوا ہے جو اپنی نوعیت کی منفرد اور اہم کتاب ہے۔ حالی کی کئی تصانیف ہیں جن میں ”مسدس حالی، دیوان حالی، یادگار غالب، حیات سعدی، حیات جاوید ریاق مسموم ، مقد مہ شعروشاعری ۔ بہت ہی مشہور ومقبول ہیں۔
نظم : تعلیم سے بے توجہی کا نتیجہ
ماخوذ: مسدس مد و جز اسلام
از:*مولانا الطاف حسیین حالیؔ
جماعت: نہم
بند نمبر 1
جنہوں نے نہ کی تعلیم کی قدر و قیمت
نہ جانی، مسلط ہوئی ان پر ظلمت
ملوک اور سلاطین نے کھوئی حکومت
گھرانوں پہ چھائی امیروں کی نکبت
رہے خاندانی نہ عزت کے قابل
ہوئے سارے دعوے شرافت کے باطل
حوالہ:
یہ بند مولانا الطاف حسین حالیؔ کی مشہور طویل نظم "مسدسِ مدوجزرِ اسلام" سے لیا گیا ہے، جس کا عنوان یہاں "تعلیم سے بے توجہی کا نتیجہ" ہے۔
تشریح:
اس بند میں مولانا حالی فرماتے ہیں کہ جن قوموں نے علم اور تعلیم کی اہمیت کو نہیں سمجھا اور اس کی قدر نہیں کی، ان پر جہالت کا اندھیرا چھا گیا۔ تعلیم سے دوری کا نتیجہ یہ نکلا کہ بڑے بڑے بادشاہوں اور حکمرانوں کے ہاتھوں سے ان کی حکومتیں چھن گئیں اور امیر و رئیس خاندانوں پر غریبی اور تباہی آ گئی۔ جب علم نہ رہا تو اچھے اور اونچے خاندانوں کی عزت بھی خاک میں مل گئی اور ان کے خاندانی ہونے اور شرافت کے تمام دعوے جھوٹے ثابت ہو گئے۔ یعنی سچی عزت اور شرافت علم سے ہے، خاندانی غرور سے نہیں۔
بند نمبر 2
نہ چلتے ہیں واں کام کاریگروں کے
نہ برکت ہے پیشہ میں پیشہ وروں کے
بگڑنے لگے کھیل سوداگروں کے
ہوئے بند دروازے اکثر گھروں کے
کماتے تھے دولت جو دن رات بیٹھے
وہ اب دھرے ہاتھ پر ہاتھ بیٹھے
حوالہ:
یہ بند مولانا الطاف حسین حالیؔ کی مشہور نظم "مسدسِ مدوجزرِ اسلام" سے ماخوذ ہے۔
تشریح:
اس بند میں شاعر بتاتے ہیں کہ تعلیم کے بغیر کوئی بھی ہنر یا کاروبار ترقی نہیں کر سکتا۔ جو قومیں تعلیم چھوڑ دیتی ہیں، ان کے کاریگروں کا کام ٹھپ ہو جاتا ہے اور محنت کشوں کی کمائی سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ بڑے بڑے تاجروں اور سوداگروں کے کاروبار تباہ ہونے لگتے ہیں اور غریبی کی وجہ سے بہت سے گھروں کے دروازے بند ہو جاتے ہیں (یعنی وہ برباد ہو جاتے ہیں)۔ وہ لوگ جو کبھی دن رات منافع کما کر دولت اکٹھی کیا کرتے تھے، علم اور جدید ہنر نہ ہونے کی وجہ سے اب بے روزگار ہو کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے مایوس بیٹھے ہیں۔
بند نمبر 3
ہنر اور فن واں ہے سب گھٹتے جاتے
ہنر مند ہیں روز و شب گزرتے جاتے
ادیبوں کے فضل و ادب گھٹتے جاتے
طبیب اور ان کے مطب گھٹتے جاتے
ہوئے پست سب فلسفی اور مناظر
نہ ناظم ہیں سر سبز ان کے نہ ناشر
حوالہ:
یہ بند مولانا الطاف حسین حالیؔ کی مشہور نظم "مسدسِ مدوجزرِ اسلام" سے ماخوذ ہے۔
تشریح:
مولانا حالی اس بند میں فرماتے ہیں کہ جن معاشروں میں تعلیم ختم ہو جائے، وہاں کے فنون اور ہنر بھی مٹنے لگتے ہیں۔ پرانے ہنرمند دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں اور ان کی جگہ لینے والا کوئی نیا تعلیم یافتہ ہنرمند پیدا نہیں ہو رہا۔ علم و ادب کا زوال اس حد تک ہے کہ ادیبوں اور شاعروں کا کمال ختم ہو رہا ہے، اور طب (ڈاکٹری) کا علم نہ ہونے سے حکیم اور ان کے شفا خانے بھی کم ہو رہے ہیں۔ علم و حکمت سے دوری کے باعث فلسفی اور بحث و مباحثہ کرنے والے علماء کا رتبہ بھی گر گیا ہے۔ غرض یہ کہ ان کا کوئی بھی منتظم (ناظم) یا علم پھیلانے والا (ناشر) ترقی نہیں کر پا رہا۔
بند نمبر 4
اگر ایک پہننے کو ٹوپی بنائے
تو کپڑا وہ ایک اور دنیا سے لائے
جو سینے کو وہ ایک سوئی منگائیں
تو مشرق سے مغرب میں لینے کو جائے
ہر اک شے میں غیروں کے محتاج ہے وہ
مکینکس کی رو میں تاراج ہے وہ
حوالہ:
یہ بند مولانا الطاف حسین حالیؔ کی مشہور نظم "مسدسِ مدوجزرِ اسلام" سے ماخوذ ہے۔
تشریح:
اس بند میں قوم کی حالتِ زار اور سائنسی و تکنیکی تعلیم سے دوری کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ حالی فرماتے ہیں کہ تعلیم اور ہنر نہ ہونے کی وجہ سے ہماری قوم اتنی بے بس ہو چکی ہے کہ اگر سر پر پہننے کے لیے ایک معمولی سی ٹوپی بھی بنانی ہو، تو اس کا کپڑا کسی دوسرے ملک سے منگوانا پڑتا ہے۔ اگر کپڑا سینے کے لیے ایک سوئی کی ضرورت پڑ جائے تو وہ بھی مشرق سے مغرب تک ڈھونڈنی پڑتی ہے (یعنی باہر سے درآمد کرنی پڑتی ہے)۔ یہ قوم اپنی ہر چھوٹی بڑی ضرورت کے لیے غیروں (دوسری قوموں) کی محتاج ہو چکی ہے اور جدید دور کی مشینوں اور ٹیکنالوجی کے سامنے مکمل طور پر تباہ و برباد ہو گئی ہے۔
بند نمبر 5
تو مر جائے بھوکے وہاں اہل حرفت
ہو تجار پر بند راہ معیشت
دکانوں میں ڈھونڈے نہ پائیں بضاعت
پرائے سہارے ہیں بیوپار واں سب
طفیلی ہیں سیٹھ اور تجار واں سب
حوالہ:
یہ بند مولانا الطاف حسین حالیؔ کی مشہور نظم "مسدسِ مدوجزرِ اسلام" سے ماخوذ ہے۔
تشریح:
شاعر فرماتے ہیں کہ جب کوئی قوم اپنا ہنر اور اپنی پیداوار کھو دیتی ہے، تو وہاں کے دستکار اور ہنرمند بھوکوں مرنے لگتے ہیں۔ تاجروں کے لیے روزی روٹی کے تمام راستے بند ہو جاتے ہیں۔ بازاروں اور دکانوں میں بیچنے کے لیے مقامی طور پر تیار کردہ کوئی سامان (بضاعت) نہیں ملتا۔ ان کا سارا کاروبار اور تجارت غیروں کے سہارے پر چل رہا ہوتا ہے۔ اس قوم کے بڑے بڑے سیٹھ اور تاجر محض دوسروں کے طفیل (parasites کی طرح) زندگی گزارتے ہیں کیونکہ وہ اپنا کچھ پیدا کرنے کے قابل نہیں رہے۔
بند نمبر 6
وہ کاش اب بھی غفلت سے باز اپنی آئیں
مبادا راہ عافیت پھر نہ پائیں
کہ ہیں بے پناہ آنے والی بلائیں
ہوا بڑھتی جاتی سر رہگذر ہے
چراغوں کو فانوس بن اب خطر ہے
حوالہ:
یہ بند مولانا الطاف حسین حالیؔ کی مشہور نظم "مسدسِ مدوجزرِ اسلام" سے ماخوذ ہے۔
تشریح:
اس بند میں مولانا حالی اپنی قوم کو بیدار کرتے ہوئے ایک دردمندانہ اپیل کر رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ کاش! یہ قوم اب بھی اپنی لاپروائی اور نیند سے جاگ جائے، اس سے پہلے کہ سلامتی اور بچاؤ کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے۔ مستقبل میں بہت بڑی بلائیں اور مصیبتیں ان کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ راستے پر چلنے والی ہوائیں (یعنی زمانے کے حالات) بہت تیز اور خطرناک ہو چکی ہیں۔ جس طرح تیز ہوا میں چراغ بغیر شیشے (فانوس) کے نہیں جل سکتا، اسی طرح علم و ہنر کی حفاظت کے بغیر اس قوم کے چراغ کا بجھ جانا بھی یقینی ہے۔
بند نمبر 7
لیے فرد بخشی دوران کھڑا ہے
ہر اک فوج کا جائزہ لے رہا ہے
جنہیں ماہر اور کرتبی دیکھتا ہے
انہیں بخشتا تیغ و طبل و نوا ہے
یہ ہیں بے ہنر یک قلم چھٹتے جاتے
سالوں سے ان کے نام ہے کٹے جاتے
حوالہ:
یہ بند مولانا الطاف حسین حالیؔ کی مشہور نظم "مسدسِ مدوجزرِ اسلام" سے ماخوذ ہے۔
تشریح:
اس آخری بند میں حالی نے زمانے کو ایک ایسے فوجی افسر (بخشی) سے تشبیہ دی ہے جو اپنے ہاتھ میں فہرست (فرد) لیے کھڑا ہے اور تمام قوموں (فوجوں) کا معائنہ کر رہا ہے۔ زمانہ دیکھتا ہے کہ جو قومیں تعلیم یافتہ، ہنر مند اور اپنے کام میں ماہر ہیں، انہیں وہ طاقت، حکومت اور شان و شوکت (تیغ و طبل و نوا) عطا کر دیتا ہے۔ لیکن چونکہ ہماری قوم ہنر اور علم سے خالی ہے، اس لیے انہیں یکسر نظر انداز کر کے نکالا جا رہا ہے اور ترقی کی اس فہرست سے ان کا نام سالوں سے کٹتا چلا جا رہا ہے۔
سوالات کے جوابات
سوال 1: تعلیم کی قدر و قیمت کیا ہے؟
جواب: تعلیم کی قدر و قیمت یہ ہے کہ یہ قوموں کی ترقی، عزت اور بقا کی ضمانت ہے۔ تعلیم سے ہی معاشرے میں شعور بیدار ہوتا ہے، معیشت مضبوط ہوتی ہے، اور ہنر پروان چڑھتے ہیں۔ جو قوم تعلیم کی قدر کرتی ہے، وہ دنیا میں حکمرانی اور ناموری حاصل کرتی ہے، جبکہ اسے نظر انداز کرنے والے ذلت اور اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔
سوال 2: حکومت اور قوموں پر زوال کیسے آتا ہے؟
جواب: جب کوئی حکومت اور قوم تعلیم اور علم و ہنر سے غافل ہو کر آرام طلبی اور جہالت کا شکار ہو جائے تو اس پر زوال آ جاتا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی اور وقت کے تقاضوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ان کی معیشت، کاروبار، اور ہنر تباہ ہو جاتے ہیں اور وہ آہستہ آہستہ دنیا کے نقشے سے مٹنے لگتے ہیں۔
سوال 3: شرافت اور عزت کا معیار کیا ہے؟
جواب: مولانا حالی کے نزدیک سچی شرافت اور عزت کا معیار خاندانی نسب یا دولت نہیں ہے، بلکہ علم، ہنر اور اچھے اخلاق ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ اور ہنر مند انسان ہی معاشرے میں اصل عزت کے لائق ہے، جبکہ جاہل انسان چاہے کتنے ہی اونچے خاندان کا کیوں نہ ہو، اپنی عزت گنوا بیٹھتا ہے۔
سوال 4: ترک تعلیم کے کیا کیا نقصانات ہیں؟
جواب: تعلیم ترک کرنے (چھوڑ دینے) کے بے شمار نقصانات ہیں۔ اس سے قومیں جہالت اور اندھیرے کا شکار ہو جاتی ہیں، کاریگروں کا کام بند ہو جاتا ہے، تاجروں کا کاروبار ٹھپ ہو جاتا ہے، بے روزگاری اور غربت پھیلتی ہے، اور قوم اپنی چھوٹی چھوٹی بنیادی ضرورتوں کے لیے بھی غیر ملکیوں کی محتاج ہو کر رہ جاتی ہے۔
سوال 5: کسی ملک اور وہاں کے عوام کی ترقی کن چیزوں سے ہو سکتی ہے؟
جواب: کسی بھی ملک اور اس کے عوام کی ترقی جدید تعلیم کے حصول، نئے علوم و فنون (ٹیکنالوجی اور مکینکس) سیکھنے، محنت کرنے اور غیروں پر انحصار ختم کر کے اپنی مدد آپ کے تحت چیزیں پیدا کرنے سے ہو سکتی ہے۔ وقت کے ساتھ چلنے اور غفلت چھوڑ دینے میں ہی ملکی اور قومی ترقی کا راز پوشیدہ ہے۔
Thank you
ReplyDelete