نئی تہذیب( اکبر الہ آبادی) Nayi Tehzeeb ko Salaam | Akbar Alaabadi class 9th urdu

URDU DARASGAH
0

 نئی تہذیب( اکبر الہ آبادی)

حالات زندگی: اکبر الہ آبادی اردو ادب کے وہ منفرد شاعر ہیں جنہوں نے طنز و مزاح کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک طاقتور سماجی اور سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ ان کا اصل نام سید اکبر حسین تھا اور وہ 1846ء میں الہ آباد کے قریب ایک قصبے بارہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کی ابتدا ایک عرضی نویس کی حیثیت سے کی، مگر اپنی محنت اور ذہانت کے بل پر ترقی کرتے ہوئے سیشن جج کے عہدے تک پہنچے۔ اکبر الہ آبادی کا دور وہ تھا جب ہندوستان میں برطانوی استعمار اپنی جڑیں مضبوط کر چکا تھا اور مغربی تہذیب بڑی تیزی سے مقامی اقدار کو نگل رہی تھی۔

اکبر نے اپنی شاعری کے ذریعے مغربی طرزِ زندگی، انگریزی تعلیم اور اندھی تقلید پر ایسی کاٹ دار چوٹیں کیں کہ '(لسان العصر' (اپنے عہد کی آواز کہلائے۔ ان کا کمال یہ تھا کہ وہ قاری کو ہنساتے ہنساتے ایک ایسے لمحہِ فکریہ پر لا کھڑا کرتے تھے جہاں انسان اپنی کھوئی ہوئی شناخت کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو جاتا۔ 1921ء میں الہ آباد ہی میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کی تخلیق کردہ 'مغربی تہذیب' اور 'تعلیمِ نسواں' جیسی بحثیں آج بھی اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔

نظم: نئی تہذیب — شاعر: اکبر الہ آبادی

مرکزی خیال

اس نظم میں اکبر الہ آبادی نے اپنی دور رس نگاہوں سے یہ بھانپ لیا تھا کہ آنے والا دور مغربی تہذیب کے غلبے کا ہوگا۔ وہ بتاتے ہیں کہ نئی تہذیب کے آنے سے ہماری روایات، طرزِ زندگی، زبان اور یہاں تک کہ شرم و حیا کے معیار بھی بدل جائیں گے۔

اشعار کی تشریح

شعر 1:یہ موجودہ طریقے راہیِ ملکِ عدم ہوں گے

نئی تہذیب ہوگی اور نئے سامان بہم ہوں گے

تشریح: اکبر الہ آبادی کہتے ہیں کہ وقت بدل رہا ہے اور زندگی گزارنے کے موجودہ پرانے طریقے ختم ہو کر فنا کے راستے پر چل پڑیں گے۔ ان کی جگہ ایک بالکل نئی مغربی تہذیب جنم لے گی اور زندگی گزارنے کے لیے نئی سہولیات اور نئے ساز و سامان میسر ہوں گے۔

شعر 2:نئے عنوان سے زینت دکھائیں گے حسیں اپنی

نہ ایسا پیچ زلفوں میں نہ یہ گیسو میں خم ہوں گے

تشریح: شاعر کے مطابق خوبصورتی کے معیار بھی بدل جائیں گے۔ خواتین آرائش و زیبائش کے لیے نئے طریقے اپنائیں گی۔ بالوں کو سنوارنے کے وہ روایتی طریقے، پیچ اور خم (جو مشرقی حسن کی پہچان تھے) اب ویسے نہیں رہیں گے۔

شعر 3:نہ خاتونوں میں رہ جائے گی یہ پردے کی یہ پابندی

نہ گھونگھٹ اس طرح سے حاجبِ روئے صنم ہوں گے

تشریح: اس شعر میں معاشرتی تبدیلی پر طنز ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ نئی تہذیب کے زیرِ اثر خواتین میں پردے کی وہ پابندی نہیں رہے گی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ نہ ہی شرم و حیا کے وہ پردے (گھونگھٹ) باقی رہیں گے جو چہرے کو چھپانے کا ذریعہ تھے۔

شعر 4:بدل جائے گا اندازِ طبائع دورِ گردوں سے

نئی صورت کی خوشیاں اور نئے اسبابِ غم ہوں گے

تشریح: زمانہ بدلنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی طبیعتیں اور مزاج بھی بدل جائیں گے۔ خوشی حاصل کرنے کے ذرائع بھی نئے ہوں گے اور غمگین ہونے کی وجوہات بھی بدل چکی ہوں گی، یعنی انسان کی سوچ اور احساسات کا محور بالکل مختلف ہوگا۔

شعر 5:بہت ہوں گے مغنی نغمۂ تقلیدِ یورپ کے

مگر بے جوڑ ہوں گے اس لیے بے تال و سم ہوں گے

تشریح: اکبر کہتے ہیں کہ ایسے گلوکاروں یا فنکاروں کی بھر مار ہوگی جو یورپ کی نقل کریں گے۔ لیکن چونکہ وہ نقل ہوگی اور ہماری اپنی جڑوں سے کٹی ہوئی ہوگی، اس لیے وہ فن بے جوڑ اور بے اثر ہوگا۔ اس میں نہ وہ لے ہوگی اور نہ ہی وہ توازن (تال و سم)جو حقیقی فن کا خاصہ ہے۔

شعر 6:ہماری اصطلاحوں سے زباں نا آشنا ہوگی

لغاتِ مغربی بازار کی بھاکا سے ضم ہوں گے

تشریح: زبان کے حوالے سے شاعر کہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں اپنی زبان اور پرانی اصطلاحوں سے ناواقف ہوں گی۔ مقامی زبانوں میں انگریزی یا مغربی لغات اس طرح گھل مل جائیں گی کہ زبان اپنی اصل شکل کھو دے گی۔

شعر 7:بدل جائے گا معیارِ شرافت چشمِ دنیا میں

زیادہ تھے جو اپنے زعم میں وہ سب سے کم ہوں گے

تشریح: دنیا کی نظر میں شرافت اور بڑائی کے پیمانے بدل جائیں گے۔ وہ لوگ جو اپنے زعم(غرور) میں خود کو بہت بڑا اور معزز سمجھتے تھے، نئے دور میں ان کی قدر و قیمت بالکل کم ہو جائے گی کیونکہ نئے معیار کچھ اور ہوں گے۔

شعر 8 :کسی کو اس تغیر کا نہ حس ہوگا نہ غم ہوگا

ہوئے جس ساز سے پیدا اسی کے زیر و بم ہوں گے

تشریح: شاعر کہتے ہیں کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنی بڑی تبدیلیوں پر کسی کو نہ احساس ہوگا اور نہ ہی افسوس، کیونکہ لوگ اسی نئے ماحول میں رچ بس جائیں گے۔

شعر 9: تمہیں اس انقلابِ دہر کا کیا غم ہے اے اکبر

بہت نزدیک ہیں وہ دن کہ تم ہو گے نہ ہم ہوں گے

تشریح: آخر میں اکبر خود کو تسلی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے اکبر! تمہیں اس بدلتے زمانے کا دکھ کرنے کی کیا ضرورت ہے، کیونکہ وہ دن دور نہیں جب نہ تم باقی رہو گے اور نہ ہم، یعنی ہم یہ سب دیکھنے کے لیے موجود ہی نہیں ہوں گے۔

مشقی سوالات کے جوابات

سوال ۱: اکبر نے نئی تہذیب کی کون کون سی برائیاں بتائی ہیں؟

جواب: اکبر الہ آبادی نے نئی تہذیب کی درج ذیل برائیاں اور خامیاں بیان کی ہیں:

مغربی طرزِ عمل: لوگ پرانے مشرقی طریقوں کو چھوڑ کر مغرب کی اندھی تقلید میں لگ جائیں گے۔

پردے کا خاتمہ: خواتین میں روایتی شرم و حیا اور پردے کی پابندی ختم ہو جائے گی۔

زبان کا بگاڑ: نئی نسل اپنی مادری زبان کی اصطلاحوں سے ناواقف ہو جائے گی اور زبان میں انگریزی الفاظ کا غلبہ ہو جائے گا۔

مصنوعی فن: فنکار یورپ کی نقل کریں گے جس کی وجہ سے ان کا فن بے جوڑ اور بے اثر (بے تال و سم) ہوگا۔

اخلاقی گراوٹ: شرافت کے معیار بدل جائیں گے اور حقیقی معزز لوگوں کی جگہ سطحی سوچ رکھنے والے لوگ لے لیں گے۔

سوال ۲: "تقلیدِ یورپ" سے کیا مراد ہے؟

جواب: "تقلیدِ یورپ" سے مراد یورپ کے طرزِ زندگی، ان کی تہذیب، لباس، زبان اور عادات و اطوار کو بغیر سوچے سمجھے اپنانا یا ان کی نقل کرنا ہے۔ شاعر کے مطابق یہ تقلید انسان کو اپنی اصل جڑوں اور روایات سے کاٹ دیتی ہے۔

نظم نئی تہذیب کا خلاصہ

اکبر الہ آبادی اس نظم میں بدلتے ہوئے زمانے اور مغربی تہذیب کے بڑھتے ہوئے غلبے کی ایک سچی اور فکر انگیز تصویر کشی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آنے والا وقت مشرقی روایات اور زندگی گزارنے کے پرانے طریقوں کو مٹا کر ایک بالکل نیا ڈھانچہ کھڑا کر دے گا، جس میں مادی سہولیات اور جدید ساز و سامان تو ہوگا لیکن ہماری اپنی تہذیب کا نشان باقی نہیں رہے گا۔ شاعر کے مطابق نہ صرف خواتین کے بناؤ سنگھار کے روایتی انداز بدل جائیں گے بلکہ وہ شرم و حیا اور پردے کی پابندیاں بھی ختم ہو جائیں گی جو کبھی ہمارے معاشرے کی پہچان تھیں۔زمانہ اس تیزی سے کروٹ لے گا کہ لوگوں کی فطرت، ان کی سوچ اور خوشی و غم کے پیمانے تک بدل جائیں گے۔ فن اور موسیقی میں مغرب کی اندھی تقلید عام ہو جائے گی، مگر چونکہ یہ سب ہماری اپنی جڑوں سے کٹا ہوا ہوگا، اس لیے اس میں وہ اثر اور توازن (تال و سم) باقی نہیں رہے گا۔ یہاں تک کہ ہماری اپنی زبان بھی اپنی اصل شکل کھو دے گی اور اس میں مغربی لغات اس طرح شامل ہو جائیں گی کہ آنے والی نسلیں اپنی ہی اصطلاحوں سے ناواقف ہوں گی۔شرافت اور بڑائی کے معیار بھی بدل جائیں گے اور وہ لوگ جو کبھی معزز سمجھے جاتے تھے، نئے دور کی نظر میں اپنی قدر کھو دیں گے۔ اس تمام تبدیلی کا سب سے دردناک پہلو یہ ہوگا کہ کسی کو اس بگاڑ کا احساس تک نہیں ہوگا، کیونکہ لوگ اس نئے ماحول میں مکمل طور پر رچ بس چکے ہوں گے۔ آخر میں شاعر ایک مایوسانہ رنگ میں خود کو تسلی دیتے ہیں کہ اے اکبر! تمہیں اس بدلتے ہوئے نقشے کا غم کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ جب یہ انقلاب پوری طرح آئے گا تو تم اسے دیکھنے کے لیے اس دنیا میں موجود ہی نہیں ہو گے۔


Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)