فراقؔ گورکھپوری کا اصل
نام رگھو پتی سہائے تھا اور تخلص فراقؔ تھا۔ آپ 28 اگست 1896 ء کو گورکھپور
کے بانس گاؤں میں پیدا ہوئے ۔ والد کا نام گورکھ پرسادعبرتؔ تھا جوایک نامور
وکیل اور ایک اچھے شاعر تھے ۔فراقؔ نے اردو فارسی کی ابتدائی تعلیم گھر پر
حاصل کی ۔ اسکے بعد ایف اے کے لئے آلہ آباد چلے گئے ۔1918ء میں سول سروسز کا
امتحان پاس کیا مگرملازمت نہیں کی ۔اسکے بعد وطن کی جدوجہد میں لگ گئے اور جیل کی
صعوبتیں برداشت کیں ۔1930 میں آگرہ یونیورسٹی سے انگریزی مضمون میں ایم اے کیا
اورآلہ آباد یونیورسٹی میں معلم مقرر ہوئے۔فراق گورکھپوری اردو اور انگریزی ادب کا
وسیع مطالعہ رکھتے تھے۔1958ء میں وظیفہ پر سبکدوش ہوئے ۔ وہ اردو کے ان شاعروں میں
شمار ہوتے ہیں جنہوں نے بیسویں صدی میں اردو غزل کو ایک نیا رنگ اور آہنگ عطا
کیا۔ان کے متعدد شاعری مجموعے شائع ہوئے جن میں روح کائنات، شبستان، رمز و کنایات،
غزلستان، روپ، شعلئہ ساز، پچھلی رات،مشعل اور گل نغمہ وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر
ہیں ۔ حکومت ہند نے انہیں پدم بھوشن اور گیان پیٹھ کے اعزازات عطا کیے
تھے۔3 مارچ 1982ء کوطویل علالت کے بعد فراق گورکھپوری کاانتقال ہو گیا۔
تشریح: غزلیات فراق گورکھپوری
غزل نمبر ۱
رکی رکی سی شبِ مرگ ختم پر
آئی
وہ پو پھٹی ،وہ نئی زندگی نظر آئی
تشریح: فراقؔ مطلع میں فرماتے
ہیں کہ سامراجی نظام آہیستہ آہیستہ دم توڑ رہا ہے اور یہ ظلم و جبر ختم ہونے والا
ہے ایک روشن دور کی شروعات ہوگی۔
۲۔ یہ موڈوہ ہےکہ پرچھائیاں نہ دیں گی ساتھ
مسافروں سے کہو ، اس کی رہ گزر آئی
تشریح : اس شعر میں فراقؔ فرماتے ہیں کہ جنگ آزادی کی جدو جہد ایسی چیز ہے کہ اس میں اپنے بھی ساتھ چھوڈ جاتے ہیں اس لئے جنگ آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کو ہمت اور استقلال کے ساتھ چلنا چاہئے۔
۳۔ فضا تبسم بہار
تھی لیکن
پہنچ کے منزل جاناں پہ آنکھ بھر آئی
تشریح : اس شعر میں فراقؔ فرماتے ہیں کہ طویل جدجہد کے بعد جس قسم کی سماجی اور معاشی آزادی ہمیں ملی اس پر دل افسردہ ہے گویا منزل پر پہنچ کر بھی ہم ابھی منزل سے دور ہے ۔
۴۔ کسی کی بزم طرب میں حیات بٹتی ہے
امیدواروں میں کل موت بھی نظر آئی
تشریح : اس شعر میں فراقؔ فرماتے ہیں کہ آزادی حیات بخش اور دلفریب ہوتی ہے لیکن آزادی کے شیدائیوں میں چند لوگ ہی اسے دیکھ پاتے ہیں گویا اکثر اس کی جستجو میں موت کو گلے لگاتے ہیں
۵۔ کہاں ہر ایک سے انسانیت کا بار اُٹھا
کہ یہ بَلا بھی ترے عاشقوں
کے سر آئی
تشریح: اس شعر میں فراق فرماتے
ہیں کہ انسانیت ایک عظیم چیز ہے اس کا بوجھ وہی اُٹھا سکتا ہے جو اس کا شیدائی
ہوگا ۔
غزل نمبر ۲
۱ سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں
لیکن
اس ترک محبت کا بھروسہ بھی نہیں
تشریح
: اس شعر میں فراقؔ فرماتے ہیں کہ میرے دل و دماغ میں کوئی عشقیہ جزبہ نہیں ہے
گویا میں نے عشق کو ترک کیا ہے لیکن اس کا بھروسہ بھی نہیں ہے یہ جزبہ کبھی بھی
میرے دل و دماغ میں پھر سے پیدا ہو سکتا ہے۔
۲۔ دل کی گنتی نہ یگانوں میں نہ بے گانوں میں
لیکن اس جلوہ گہ ناز سے اٹھتا
بھی نہیں
تشریح
: اس شعر میں فراقؔ فرماتے ہیں کہ نہ مجھے محبوب اپناتا ہے نہ کوئی رقیب لیکن یہ
جاننے کے باوجود بھی میں محبوب کی جگہ سے نہیں اٹھتا ہوں گویا دل کو یہ امید ہے کہ
کھبی نہ کبھی محبوب مجھ پر نظر کرم کرئے گا ۔
۳ مہربانی کو محبت نہیں کہتے اے دوست
آہ اب مجھ سے تیری رنجش بے جا بھی نہیں
تشریح
: اس شعر میں فراقؔ فرماتے ہیں کہ محبت کا جذبہ اور مہربانی کا جذبہ دو الگ الگ
چیزیں ہے دو نوں کو ایک نام نہیں دیا جا سکتا اے دوست تمہیں مجھ سے کبھی محبت تھی
نہیں پہلے تو میرے ساتھ رنجش تھی اب وہ بھی نہیں رہی جس کو دیکھ کر مجھے لگ رہا
تھا کہ ہم میں کوئی نہ کوئی تعلق ہے جس وجہ سے آپ ناراض رہتے ہو ۔
۴۔ ایک مدت سے تیری یاد بھی
نہ آئی ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
تشریح
: اس شعر میں فراقؔ فرماتے ہیں کہ طویل عرصہ گزرا مجھے تیری یاد نہیں آئی لیکن اس
کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں تمہیں بلکل بھول گیا ہوں۔
۵۔ آہ یہ مجمع احباب یہ بزم خاموش
آج محفل میں فراق سخن آرا بھی نہیں
تشریح
: اس شعر میں فراقؔ فرماتے ہیں کہ آج یہ محفل خاموش ہے یہاں سکوت چھایا ہوا ہے اس
کی وجہ یہ ہے کہ آج اس محفل میں فراق موجود نہیں تھا اگر فراق موجود ہوتا تو وہ
کلام سناتا اور یہ پر رونق محفل ہوتی۔
غزل نمبر ۳
۱۔آنکھوں میں جو بات ہوگئی
اک شرح حیات ہوگئی ہے
فراقؔ
مطلع میں فرماتے ہیں کہ جب میں نے اپنے محبوب سے آنکھیں ملائی تو اشاروں اشاروں
میں اسے اپنے دل کی بات کہہ اب ایسا لگ رہا ہے کہ ساری زندگی اسکے عشق میں گزانی
ہے۔
۲۔ کیا جانئے موت تھی پہلے
اب میری حیات ہوگئی
تشریح:
فراق اس شعر میں فرماتے ہیں کہ پہلے میں موت کے درد سے نا آشنا تھا لیکن اب اس
زندگی نے موت کے درد سے آشنا کیا گویا یہ زندگی اتنی اذیت ناک بن گئی ہے کہ اسے
موت ہی بہتر ہے ۔
۳۔ اس دور میں زندگی بشر کی
بیمار کی رات ہوگئی
تشریح:
فراق موجودہ دور کے انسان کی زندگی کو بیمار کی رات سے تشبیہ دے کر فرماتے ہیں کہ
موجود میں انسان کی اتنی ازیت ناک ہے کہ جتنی بیماری کی رات درد ناک ہوتی ہے
۴۔ جس چیز کو چھو دیا ہے تو نے
اک برگ نبات ہوگئی ہے
تشریح:
فراق اس شعر میں فرماتے ہیں کہ میوے محباب میں ایک منفرد خوبی ہے وہ جس چیز کو چھو
لیتا ہے اس میں تازگی اور مھٹاس پیدا ہوتی ہے ۔
۵۔ اک ایک صفت فراق اس کی
دیکھا ہےتو ذات ہوگئ ہے
تشریح:
فراق اس شعر میں اپنے آپ سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ اے تو اس قدر اپنے
محبوب سے محبت رکھتا ہے کہ تو نے اس کی ساری خوبیاں اپنی ذات میں شامل کئی ہیں۔
جماعت نہم
درسی سوالات
فراق گورکھپوری
سوالات
س ۱:-
غزل
نمبر ایک کے دوسرے شعر میں "مسافروں سے کہو۔۔۔" سے کون سے مسافر مراد
ہیں؟
ج:- غزل نمبر ایک کے
دوسرے شعر میں "مسافروں سے کہو۔۔۔" سے مراد وطن کی آزادی کے لیے جدوجہد
کرنے والے مجاہد ہیں۔
س ۲:-
دوسری
غزل کے مقطع میں احباب کا مجمع ہونے کے باوجود خاموشی کی کیا وجہ بیان کی گئی ہے؟
ج:- دوسری غزل کے مقطع
میں احباب کا مجمع ہونے کے باوجود خاموشی کی وجہ محفل میں فراق کا موجود نہ ہونا
بیان کیا گیا ہے۔
س ۳:-
اشاروں
میں ہونے والی بات کا شرح حیات ہونے سے کیا مراد ہے؟
ج:- اشاروں میں ہونے والی
بات کا شرح حیات ہونے سے مراد محبوب سے وصل کو اپنی زندگی کا مقصد بنانا ہے۔