سبق درد کا مارا ۔۔ پشکر ناتھ
افسانہ
افسانہ جدید نثری ادب کی اہم صنف ہے ،جس سے انگریزی میں "شارٹ سٹوری " کہتے ہیں ۔اردو میں یہ صنف افسانہ ،مختصر افسانہ اور کہانی تینوں ناموں سے مشہور ہے ۔اسکی اہم خصوصیت اسکا اختصار ہے۔ داستان ناول کے مقابلے میں یہ بہت مختصر ہوتا ہے۔لیکن اسکی مختصر ہونے کی کوئی حد مقرر نہیں ۔ناول کے مقابلے میں مختصر افسانے میں بالعموم کسی ایک واقعہ کا بیان ہوتا ہےاور کردار بھی کم ہوتے ہیں ۔اسکے کردار ایک ہی مقصد کے تابع ہوتے ہیں ۔اسلئے اسکا پلاٹ مربوط اور جامع ہوتا ہے ۔
افسانے سے مراد ایسی کہانی ہے جس میں کسی شخص کی زندگی کا ایک اہم اور دلچسپ پہلو پیش کیا گیا ہو یا اس میں کوئی ایسا واقعہ بیان کیا گیا ہو جس کا ابتدا ہو ارتقاء ہو اور خاتمہ ہو اور زندگی کی بصیرت میں اضافہ کریں ۔افسانے میں سماجی مسائل اور انسان کی ذہنی اور جذباتی الجھنوں کی ترجمانی ہوتی ہیں ۔افسانے میں زندگی کے کسی گوشے یا واقعے کی نفساتی حقیقت کو مؤثر طریقے سے پیش کیا جاتا ہے ۔فنی اعتبار سے افسانے کی اجزائے ترکیبی میں پلاٹ، کردار ، زماں و مکاں ، وحدت تاثر،موضوع اور اسلوب کو اہمیت حاصل ہیں ۔
اردو افسانے کی ابتداء انگریزی ادب کے اثر سے ہوئی ہے ۔ تاریخی اعتبار سے اردو افسانے کی ابتدا بیسویں صدی کی ابتداء میں "راشدالخیری" کے ہاتھوں ان کے افسانے" نصیر اور خدیجہ " سے ہوئی ہے ۔اسکے بعد پریم چند نے اس صنف کو باقاعدہ طور پر اردو میں رائج کیا ،انکا افسانوی مجموعہ "سوز وطن " اردو کا پہلا افسانوی مجموعہ تصور کیا جاتا ہے ۔ پریم چند کے بعد جن افسانہ نگاروں نے اس صنف میں طبع آزمائی کی ان میں سجاد حیدر ، حکیم یوسف، کرشن چند، عصمت چغتائی ،قراۃ العین ،غلام عباس ، رجندر سنگھ بیدی ،سعاد حسین منٹو، وغیرہ خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہے ۔
پشکر ناتھ
پشکرناتھ سرینگر کے محلہ بٹہ یار میں 30 مئی 1923 کو پیدا ہوئے بی اے کرنے کے بعد سری نگر میں ملازمت اختیار کی اور ایک مدت تک اکاؤنٹ جنرل کے دفتر سے منسلک رہے آپ نے عمر کا زیادہ تر حصہ جموں میں گزاراتھا۔پشکر ناتھ ہماری ریاست اور بیرونی ریاست کے ادبی حلقوں میں اچھی طرح متعارف ہیں ان کی ادبی زندگی کا آغاز 1953 میں ملک کے نامور جریدے" بیسویں صدی" میں ان کے پہلے افسانے "کہانی پھر ادھوری رہی "کی اشاعت سے ہوا .اس کے بعد ان کی کہانیاں برصغیر ہندو پاک کے بہت سے رسائل و جرائد میں چھپنے لگے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندو پاک دونوں ممالک میں ان کی شہرت ہونے لگی انکے افسانوں کے جو مجموعے شایع ہوکر مشہور ہو چکے ہیں ان میں "اندھیرے اجالے""ڈل کے باسی" " عشق کا چاند اندھیرا" اور" کانچ کی دنیا" شامل ہے. پہلے دو مجموعے پر انہیں ریاستی کلچرل اکیڈمی کی طرف سے انعامات ملے۔افسانوں کے علاوہ انہوں نے بہت سے ریڈیو اور اسٹیج ڈرامے بھی لکھے ان ڈراموں کو بھی وقتاً فوقتاً اعزازات سے نوازا گیا ۔پشکر ناتھ جموں میں انتقال کر گئے
سوال نمبر 1 صمد جو نے جانوروں کی کھالوں میں نیا جسم فٹ کرنے کا فن کس سے سیکھا تھا؟
جواب:صمد جو نے جانوروں کے کھانوں میں نیا جسم فٹ کرنے کا فن اپنے والد رمضان جو سے سیکھا تھا
سوال نمبر 2۔ صمد جو تھوڑے عرصے میں صاحب حیثیت تاجروں میں کیوں شمار ہونے لگا ؟
جواب: صمد جو کی انتھک محنت فنکارانہ مہارت سادگی پسند طبیعت اور محنت کی وجہ سے تھوڑے عرصے میں ان کا شمار صاحب حیثیت تاجروں میں ہونے لگا.
س3۔صمد جو نے چیتے کے بچے کی قیمت کیوں کم کردی؟
جواب۔صمد جو کو لڑکی کی بے بسی اور مجبوری دیکھ کر اپنا زمانہ یادآیاجب اس کی حالت اس لڑکی سے بھی گئی گزری تھی اور جب کسی اچھی چیز کو دیکھ کر اس لڑکی کی طرح صمد جو کے ہونٹ تھر تھرا تے تھے یہی سوچ کر صمد جو نے چیتےکے بچےکی قیمت کم کردی
س4۔ انگریزی لڑکی نے چیتے کے بچے کی پہلے سے کم قیمت سن کر صمد جو سے کیا کہا
جواب۔انگریزی لڑکی نے چیتے کے بچے کی پہلے سے کم قیمت سن کر صمد جو سے کہا کہ مجھے دیس میں بتایا گیا تھا کہ وہاں سب چیٹ ہیں۔پہلے زیادہ قیمت بولتے ہیں اور پھر کمتی میں بھیجتے ہیں 500روپے لینا ہے تو بات کرو۔
س5۔ کشمیر میں پائے جانے والے ان جانوروں پرندوں اور جھیلوں کے نام لکھے جن کا ذکر اس افسانے میں آیا ہے؟
جواب۔ جانور : بارہ سنگھے، مارخور ،چیتے۔
پرندے: مرغیاں، راج ہنس، رام چڑیا ،بطخیں
جھیلیں: ہوکرسر، ڈل جھیل، ولر۔
سوال5۔ سیاق و سباق اور مصنف جا حوالہ دے کر درج ذیل پیرا کا ماحصل لکھیے۔
سوچتے سوچتے اچانک صمد جو کو خیال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت بڑا گناہ ہے۔
جواب : یہ اقتباس پشکر ناتھ کے مضمون "درد کا مارا "سے ماخوذ ہے اس زیر نظر اقتباس میں صمد جو کے دل میں انگریزی لڑکی کے لیے ہمدردی پیدا ہونے کا ذکر کیا گیا ہے اس کو محسوس ہوتا ہے کہ انگریری لڑکی اسکے پاس بہت کم پیسے ہیں جس کی وجہ سے وہ چیتے کے بچے کو خرید کر اپنی خواہش پوری نہیں کر سکتی۔
سوال6: وضاحت کیجئے:
الف: انگریز جو والیان۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکارانہ نظام حکومت لائے تھے
جواب : انگریزوں نے ہندوستان میں اپنی تعلیم اور علاج کے طریقوں کے علاوہ چاندی کے سکوں اور کولایا اور یہاں انہوں نے لوگوں کو صدیوں تک غلام بنائے رکھا انہوں نے پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پالیسی اپنائی جو مکارانہ نظام حکومت کا ایک حصہ تھی۔
ب: گیلی لکڑی کے کڑوے۔۔۔۔لگ گئی تھی۔
جواب: غریبی کی حالت میں صمدجو کی ماں کو گیلی لکڑی چو لہے میں جلانے اور اس سے اٹھنے والے کڑوے اور زہریلے دھویں میں کام کرنے سے تب دق کی بیماری ہوگئی تھی۔
پشکر ناتھ کی ادبی خدمات
پشکر
ناتھ اردو کے ان اہم افسانہ نگاروں میں شامل ہیں جنہوں نے جموں و کشمیر کی تہذیب،
وہاں کے عوامی دکھوں اور بدلتے ہوئے معاشرتی حالات کو اپنی تحریروں کا موضوع
بنایا۔ ان کی سب سے بڑی ادبی خدمت یہ ہے کہ انہوں نے افسانے میں حقیقت نگاری اور
نفسیاتی گہرائی کو ایک نئے ڈھنگ سے متعارف کروایا۔ وہ اپنے کرداروں کی تخلیق اس
مہارت سے کرتے ہیں کہ قاری ان کے دکھ درد کو اپنا سمجھنے لگتا ہے۔ ان کے افسانوں
میں کشمیر کے پسے ہوئے طبقے، خصوصاً دستکاروں اور مزدوروں کی زندگی کے وہ پہلو
نمایاں ہوتے ہیں جنہیں عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ان کا اسلوبِ بیان
نہایت سادہ، واضح اور اثر انگیز ہے، جس میں بیانیہ کی روانی قاری کو شروع سے آخر
تک اپنی گرفت میں رکھتی ہے۔ انہوں نے نہ صرف اردو افسانے کو وسعت دی بلکہ انسانیت
پسندی اور اخلاقی اقدار کو آرٹ کے روپ میں پیش کر کے ادب میں ایک معتبر مقام حاصل
کیا۔
٭ درد کا مارا افسانے کا خلاصہ
تحریر کیجئے
افسانہ "درد کا مارا" کا خلاصہ (تسلسل کے ساتھ)
افسانہ
"درد کا مارا" پشکر ناتھ کا ایک شاہکار فن پارہ ہے جو کشمیر کے ایک مایہ
ناز لیکن وقت کے ہاتھوں مجبور دستکار صمد جُو کی زندگی کے گرد گھومتا ہے۔ صمد جُو
اپنے فن میں اس قدر ماہر تھا کہ مردہ جانوروں کی کھالوں میں بھوسا بھر کر انہیں
زندگی جیسی تڑپ عطا کر دیتا اور لکڑی پر ایسے نقش ابھارتا کہ دیکھنے والے دنگ رہ
جاتے۔ ماضی میں اس کی دکان پر انگریز افسروں کا ہجوم رہتا تھا اور اسے اپنے فن کی
خاطر خوب شہرت اور دولت ملی، لیکن حالات کی تبدیلی اور بڑھاپے نے اسے گمنامی اور
غربت کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔ اب وہ ایک پرانی دکان میں اپنی بیتی ہوئی زندگی
کی یادوں اور جسمانی بیماریوں کے ساتھ وقت گزار رہا تھا۔ افسانے میں موڑ اس وقت
آتا ہے جب ایک معصوم اور غریب کشمیری لڑکی اس کی دکان پر آتی ہے اور وہاں موجود اخروٹ
کی لکڑی سے بنے ایک خوبصورت چیتے کے بچے (Tiger Cub) کو دیکھ کر مسحور
ہو جاتی ہے۔ صمد جُو اس لڑکی کی آنکھوں میں وہی معصومیت اور حسرت دیکھتا ہے جو کسی
فن پارے کے سچے قدردان کی پہچان ہوتی ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ لڑکی اس کھلونے
کو پانے کی شدید خواہش رکھتی ہے لیکن اپنی غربت کے باعث اس کی اصل قیمت ادا کرنے
کی سکت نہیں رکھتی۔ صمد جُو کے اندر کا فنکار اور انسان ایک شدید کشمکش میں مبتلا
ہو جاتا ہے؛ وہ سوچتا ہے کہ اگر اس نے اس فن پارے کی اصل قیمت بتائی تو اس لڑکی کے
خواب چکنا چور ہو جائیں گے اور زندگی کی خوبصورتی پر سے اس کا اعتبار اٹھ جائے گا،
جسے وہ ایک بہت بڑا گناہ تصور کرتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے برسوں کے تجربے اور اس
قیمتی فن پارے کی اصل مادی قدر کو نظر انداز کرتے ہوئے، اس لڑکی کو محض سترہ سو اسی روپے قیمت بتاتا ہے جو کہ صرف لکڑی کی لاگت تھی۔ اس طرح وہ مادی نقصان اٹھا کر بھی
ایک روحانی خوشی حاصل کرتا ہے کیونکہ اس نے ایک معصوم دل کو ٹوٹنے سے بچا لیا اور
اپنے فن کی لاج رکھ لی۔ یہ افسانہ فنکار کی عظمت اور انسانی ہمدردی کی ایک ایسی
مثال پیش کرتا ہے جہاں مادی فوائد جذباتی اور اخلاقی اقدار کے سامنے ہیچ ثابت ہوتے
ہیں۔