📑 فہرستِ مندرجات (Table of Contents)
![]() |
| ضرب الامثال کی تعریف اور مثالیں |
اردو ضرب الامثال (مع تعریف، معنی اور فرق)
ضرب المثل کی تعریف
ضرب المثل ایسے مشہور اور مقبول جملے کو کہتے ہیں جو کسی تجربے، واقعے یا مشاہدے کی بنیاد پر وجود میں آیا ہو اور جس سے نصیحت، حکمت یا اخلاقی سبق ملتا ہو۔ ضرب المثل میں الفاظ اکثر مجازی معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور اسے گفتگو یا تحریر کو مؤثر اور پراثر بنانے کے لیے برتا جاتا ہے۔
اہم نکات:
- ضرب المثل ایک مکمل اور مشہور جملہ ہوتی ہے۔
- اس میں عموماً کسی تجربے یا حقیقت کی جھلک ہوتی ہے۔
- اس کے الفاظ زیادہ تر مجازی معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔
- اس کی ساخت میں تبدیلی نہیں کی جاتی۔
- گفتگو اور تحریر میں زور، خوبصورتی اور اثر پیدا کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
ضرب المثل اور محاورے میں فرق
| ضرب المثل | محاورہ |
|---|---|
| مکمل جملہ ہوتا ہے اور کسی تجربے یا سبق کو بیان کرتا ہے۔ | چند الفاظ پر مشتمل ایک خاص ترکیب ہوتی ہے۔ |
| اسے جملے سے الگ کر دیا جائے تو اصل جملہ برقرار رہتا ہے۔ | اسے جملے سے نکال دیا جائے تو جملے کا مفہوم یا ساخت متاثر ہو جاتی ہے۔ |
| عموماً نصیحت، تجربہ یا عبرت بیان کرتی ہے۔ | زبان کو مؤثر، خوب صورت اور بلیغ بناتی ہے۔ |
| مثال: "ایک اور ایک گیارہ" | مثال: "کان کھڑے ہونا"، "ہاتھ پاؤں پھول جانا"۔ |
مشہور اردو ضرب الامثال اور ان کے معنی
مندرجہ ذیل جدول میں اردو کی اہم ضرب الامثال اور ہر مثل کے کے سامنے اس کا مفہوم درج کیا گیا ہے:
| ضرب المثل | معنی / مفہوم |
|---|---|
احمد کی پکڑی، محمود کا سر |
ایک شخص کی جگہ یا فائدہ دوسرے کو مل جانا۔ |
اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت |
موقع گزر جانے کے بعد افسوس کرنا بے فائدہ ہوتا ہے۔ |
اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے |
قصوروار شخص الٹا بے قصور کو الزام دے۔ |
الٹے بانس بریلی کو |
خلافِ عقل یا بے فائدہ کام کرنا۔ |
اندھا کیا جانے بسنت کی بہار |
نااہل شخص کسی اچھی چیز کی قدر نہیں جانتا۔ |
اونچی دکان، پھیکا پکوان |
نام بہت ہو مگر معیار کم ہو۔ |
آسمان سے گرا، کھجور میں اٹکا |
ایک مصیبت سے نکل کر دوسری میں پھنس جانا۔ |
اندھیر نگری، چوپٹ راجا |
جہاں بدانتظامی اور ناانصافی ہو۔ |
اپنی اپنی ڈفلی، اپنا اپنا راگ |
ہر شخص اپنی ہی بات پر اڑا رہے۔ |
اپنی گلی میں کتا بھی شیر ہوتا ہے |
اپنے ماحول میں کمزور شخص بھی بہادر بن جاتا ہے۔ |
آگ لگنے پر کنواں کھودنا |
ضرورت پڑنے کے بعد تیاری کرنا۔ |
ایک ہاتھ سے تالی نہیں بجتی |
جھگڑے میں اکثر دونوں فریقوں کا حصہ ہوتا ہے۔ |
اپنے منہ میاں مٹھو بننا |
اپنی تعریف خود کرنا۔ |
ایک اور ایک گیارہ |
اتحاد میں طاقت ہوتی ہے۔ |
اوکھلی میں سر دیا تو موسلوں سے کیا ڈر |
مشکل کام شروع کر لیا تو مشکلات سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ |
اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا |
اپنی غلطی سے اپنا نقصان کرنا۔ |
اپنا سا منہ لے جانا |
ناکام یا مایوس واپس لوٹنا۔ |
اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی |
برے آدمی کی کوئی بات قابلِ اعتماد نہیں ہوتی۔ |
ایک مچھلی سارے تالاب کو گندا کرتی ہے |
ایک برا شخص پورے ماحول کو خراب کر دیتا ہے۔ |
ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں |
دو طاقتور یا ہم مرتبہ افراد ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ |
آ بیل مجھے مار |
جان بوجھ کر مصیبت مول لینا۔ |
آم کے آم، گھٹلیوں کے دام |
ایک کام سے دوہرا فائدہ حاصل ہونا۔ |
بھینس کے آگے بین بجانا |
ناسمجھ کو سمجھانے کی کوشش کرنا۔ |
پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں |
سب لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ |
بچہ بغل میں، ڈھونڈورا شہر میں |
چیز پاس ہو مگر تلاش دوسری جگہ کی جائے۔ |
بد اچھا، بدنام برا |
بدنامی ہر حال میں بری ہوتی ہے۔ |
بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی |
مجرم ایک دن سزا ضرور پاتا ہے۔ |
بغل میں چھری، منہ میں رام رام |
ظاہر میں دوستی اور اندر سے دشمنی رکھنا۔ |
بوڑھی گھوڑی، لال لگام |
بڑھاپے میں جوانوں جیسا بناؤ سنگھار کرنا۔ |
بھاگتے چور کی لنگوٹی سہی |
نقصان میں تھوڑا فائدہ بھی غنیمت ہے۔ |
پاک رہ، بے باک رہ |
ایماندار شخص بے خوف رہتا ہے۔ |
پتھر کو جونک نہیں لگتی |
بعض لوگوں پر نصیحت اثر نہیں کرتی۔ |
پیاسا کنویں کے پاس جاتا ہے، کنواں پیاسے کے پاس نہیں آتا |
ضرورت مند کو خود کوشش کرنی چاہیے۔ |
تیل دیکھو، تیل کی دھار دیکھو |
جلدی فیصلہ نہ کرو، انجام کا انتظار کرو۔ |
تین میں نہ تیرہ میں |
کسی کام کا نہ ہونا۔ |
ٹیڑھی کھیر |
بہت مشکل کام۔ |
جان ہے تو جہان ہے |
صحت اور زندگی سب سے بڑی نعمت ہیں۔ |
جتنے منہ اتنی باتیں |
ہر شخص کی اپنی رائے ہوتی ہے۔ |
جس کی لاٹھی، اس کی بھینس |
طاقتور ہی اپنا حق منوا لیتا ہے۔ |
جان نہ پہچان، خالہ جی کو سلام |
بغیر تعارف کے حد سے زیادہ بے تکلف ہونا۔ |
جب تک سانس، تب تک آس |
زندگی ہے تو امید بھی باقی ہے۔ |
جس کا کھائے، اس کا گائے |
جس سے فائدہ ہو اسی کی تعریف کرنا۔ |
جیسا دیس، ویسا بھیس |
جہاں رہو وہاں کے رسم و رواج کا لحاظ رکھو۔ |
چراغ تلے اندھیرا |
قریب کی خرابی نظر نہ آنا۔ |
چور کی داڑھی میں تنکا |
قصوروار خود گھبراہٹ سے پہچانا جاتا ہے۔ |
چھوٹا منہ، بڑی بات |
اپنی حیثیت سے بڑھ کر بات کرنا۔ |
چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں |
فضول خرچ کے پاس بچت نہیں ہوتی۔ |
چیونٹی کے پر نکلے |
ہلاکت کا وقت قریب آنا۔ |
حرکت میں برکت |
محنت کرنے سے کامیابی ملتی ہے۔ |
خدا گنجے کو ناخن نہ دے |
ظالم کو مزید طاقت نہیں ملنی چاہیے۔ |
خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے |
صحبت کا انسان پر اثر ضرور ہوتا ہے۔ |
خیالی پلاؤ پکانا |
غیر حقیقی منصوبے بنانا۔ |
خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی |
اللہ کی پکڑ اچانک ہوتی ہے۔ |
خدا دیتا ہے تو چھپڑ پھاڑ کر دیتا ہے |
اللہ چاہے تو بے حساب عطا کرتا ہے۔ |
دام کرے کام |
دولت سے بہت سے کام آسان ہو جاتے ہیں۔ |
دریا کو کوزے میں بند کرنا |
بڑی بات کو مختصر انداز میں بیان کرنا۔ |
دن عید، رات شبِ برات |
ہر وقت خوش حالی اور عیش میں رہنا۔ |
دھوبی کا کتا، نہ گھر کا نہ گھاٹ کا |
ایسا شخص جو کہیں کا نہ رہے۔ |
ڈوبتے کو تنکے کا سہارا |
مصیبت میں معمولی مدد بھی قیمتی ہوتی ہے۔ |
ڈھول کے اندر پول |
ظاہری چمک دمک مگر حقیقت کمزور۔ |
رات گئی، بات گئی |
گزری ہوئی بات کو بھلا دینا چاہیے۔ |
رسی جل گئی، بل نہ گیا |
نقصان کے بعد بھی غرور باقی رہنا۔ |
زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھو |
عوام میں مشہور بات اکثر سچ ثابت ہوتی ہے۔ |
سانچ کو آنچ نہیں |
سچائی کو نقصان نہیں پہنچتا۔ |
سر منڈاتے ہی اولے پڑے |
کام شروع ہوتے ہی مشکل آ جانا۔ |
سوال چنا، جواب گندم |
سوال کے مطابق جواب نہ دینا۔ |
سیدھی انگلی سے گھی نہیں نکلتا |
بعض اوقات سختی کرنا ضروری ہوتا ہے۔ |
شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیتے ہیں |
مکمل امن و امان قائم ہونا۔ |
شیطان کا طوفان، اللہ نگہبان |
اللہ ہر مصیبت سے حفاظت کرتا ہے۔ |
شیطان کی خالہ |
لڑائی جھگڑا کرانے والی عورت۔ |
صبح کا بھولا شام کو گھر آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے |
غلطی مان کر واپس آنے والا قابلِ معافی ہوتا ہے۔ |
ضرورت ایجاد کی ماں ہے |
ضرورت انسان کو نئے طریقے سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ |
ضرورت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے |
مجبوری میں ہر ممکن ذریعہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ |
ظالم کی بیل نہیں بڑھتی |
ظلم کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ |
عید کے پیچھے چاند مبارک |
بے موقع مبارک باد دینا۔ |
غرور کا سر نیچا |
تکبر کرنے والا آخرکار ذلیل ہوتا ہے۔ |
فاتحہ نہ درود، مر گئے مردود |
شریر آدمی کی موت پر طنزاً کہا جاتا ہے۔ |
قبل از مرگ واویلا |
مصیبت آنے سے پہلے ہی گھبرا جانا۔ |
قاضی کے گھر کے چوہے بھی سیانے |
بڑے لوگوں کے گھر کے معمولی افراد بھی سمجھدار ہوتے ہیں۔ |
کپڑے پہنے جگ بھاتے، کھانا کھائے من بھاتا |
لباس لوگوں کی پسند کا اور کھانا اپنی پسند کا ہونا چاہیے۔ |
کھودا پہاڑ، نکلا چوہا |
بہت محنت کے بعد معمولی نتیجہ نکلنا۔ |
گنجی کبوتری محلوں میں ڈیرا |
معمولی شخص کو بڑا مقام مل جانا۔ |
گانٹھ کا پورا، عقل کا اندھا |
مالدار مگر بے عقل شخص۔ |
گھر کی مرغی دال برابر |
اپنی چیز کی قدر کم ہوتی ہے۔ |
گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے |
برے کے ساتھ اچھا بھی نقصان اٹھاتا ہے۔ |
لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے |
بعض لوگ سختی کے بغیر نہیں مانتے۔ |
لکھے نہ پڑھے، نام محمد افضل |
جاہل شخص کا خود کو عالم سمجھنا۔ |
مالِ مفت، دلِ بے رحم |
مفت کی چیز بے دریغ خرچ کی جاتی ہے۔ |
مان نہ مان، میں تیرا مہمان |
زبردستی خود کو مسلط کرنا۔ |
مینڈک کو بھی زکام ہوا |
نااہل شخص کا بڑے کام کا دعویٰ کرنا۔ |
مفت کی شراب، قاضی کو بھی حلال |
مفت چیز ہر شخص کو اچھی لگتی ہے۔ |
میری بلی، مجھ ہی کو میاؤں |
احسان لینے والا احسان کرنے والے سے الجھ پڑے۔ |
ناچ نہ جانے، آنگن ٹیڑھا |
اپنی کمی دوسروں پر ڈالنا۔ |
نو نقد، نہ تیرہ ادھار |
نقد چیز ادھار سے بہتر ہوتی ہے۔ |
نیکی کر، دریا میں ڈال |
بھلائی کرکے اسے بھول جانا چاہیے۔ |
ولی کے گھر شیطان |
نیک آدمی کی اولاد کا نالائق نکلنا۔ |
ہاتھی کے دانت کھانے کے اور، دکھانے کے اور |
منافق شخص ظاہر اور باطن میں مختلف ہوتا ہے۔ |
ہیرے کی پرکھ جوہری جانے |
قابل شخص کی قدر اہلِ علم ہی کرتے ہیں۔ |
یار زندہ، صحبت باقی |
زندگی رہی تو ملاقات پھر ہوگی۔ |
یہ منہ اور مسور کی دال |
تم اس کام کے اہل نہیں ہو۔ |
📚 مزید مفید نوٹس
اگر آپ نے ضرب الامثال کا یہ سبق پڑھ لیا ہے تو درج ذیل اہم اسباق بھی ضرور ملاحظہ کریں۔
📖 Urdu Darasgah پر اردو گرامر، محاورات اور امتحانی نوٹس روزانہ اپ ڈیٹ کیے جاتے ہیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)
ضرب المثل سے کیا مراد ہے؟
ضرب المثل ایسے مشہور اور مقبول جملے کو کہتے ہیں جو کسی تجربے یا مشاہدے کی بنیاد پر وجود میں آئے اور جس سے کوئی اخلاقی سبق یا نصیحت ملے۔
ضرب المثل اور محاورے میں کیا بنیادی فرق ہے؟
ضرب المثل ایک مکمل اور آزاد جملہ ہوتی ہے جو خود ایک سبق یا کہانی بیان کرتی ہے، جبکہ محاورہ چند الفاظ پر مشتمل ایک ادھوری ترکیب ہوتی ہے۔
اردو میں ضرب الامثال کا کیا فائدہ ہے؟
ضرب الامثال گفتگو اور تحریر کو وزن دار، مؤثر، خوبصورت اور پرکشش بنانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
🔔 اردو درسگاہ کے ساتھ جڑے رہیں!
اردو گرامر، ضرب الامثال اور تمام تعلیمی نوٹس سب سے پہلے حاصل کرنے کے لیے ہمارے بلاگ کا وزٹ جاری رکھیں۔
مزید نوٹس ملاحظہ کریں