آئیے ترکیبِ نحوی سیکھیں | مکمل اردو قواعد، تعریف، اقسام اور آسان مثالیں
ترکیبِ نحوی اردو قواعد کا ایک نہایت اہم موضوع ہے۔ امتحانات میں اکثر جملوں اور اشعار کی ترکیبِ نحوی پوچھی جاتی ہے، اس لیے اس مضمون پر مضبوط گرفت ضروری ہے۔ اگر آپ واقعی ترکیبِ نحوی سیکھنا چاہتے ہیں تو صرف مثالیں یاد کرنا کافی نہیں بلکہ مرکب، جملہ اور ان کی اقسام کو اچھی طرح سمجھنا بھی ضروری ہے۔
اس مکمل کورس میں ہم بنیادی تعریفوں سے آغاز کریں گے اور پھر مرحلہ وار مرکبات، جملوں کی اقسام، جملہ اسمیہ، جملہ فعلیہ، ترکیبِ نحوی کے اصول اور درجنوں حل شدہ مثالیں پڑھیں گے تاکہ آپ کسی بھی جملے کی ترکیب خود کر سکیں۔
فہرستِ مضامین
مرکب (کلام) کی تعریف
جب دو یا دو سے زیادہ بامعنی الفاظ آپس میں مل کر کوئی مفہوم پیدا کریں تو ایسے لفظی مجموعے کو مرکب یا کلام کہتے ہیں۔
مثالیں
- میرا بھائی
- تیز بارش
- گھنا جنگل
مندرجہ بالا تمام مثالوں میں دو یا زیادہ الفاظ مل کر ایک معنی پیدا کر رہے ہیں، اس لیے یہ مرکب کہلاتے ہیں۔
مرکب کی اقسام
اردو قواعد میں مرکب کی دو بنیادی قسمیں بیان کی جاتی ہیں۔
- مرکب تام (جملہ)
- مرکب ناقص (کلام ناقص)
مرکب تام سے مکمل مفہوم حاصل ہوتا ہے، جبکہ مرکب ناقص میں مفہوم مکمل نہیں ہوتا اور مزید وضاحت کی ضرورت باقی رہتی ہے۔
مرکب ناقص
ایسا لفظی مجموعہ جس سے مکمل مفہوم حاصل نہ ہو بلکہ بات کو سمجھنے کے لیے مزید الفاظ کی ضرورت باقی رہے، مرکب ناقص کہلاتا ہے۔ یہ جملے کا ایک حصہ ہوتا ہے، پورا جملہ نہیں۔
مثالیں
- شب و روز
- یہ کتاب
- اے دوست
ان مثالوں سے مکمل بات واضح نہیں ہوتی، اس لیے یہ مرکب ناقص ہیں۔
مرکب ناقص کی اہم اقسام
- مرکب اضافی
- مرکب توصیفی
- مرکب عددی
- مرکب امتزاجی
- مرکب عطفی
- مرکب اشاری
- مرکب جاری
- مرکب ندائیہ
- مرکب تابعِ موضوع
- مرکب تابعِ مہمل
- مرکب بدل و مبدل منہ
- مرکب حال و ذوالحال
- مرکب تمیز و ممیز
- مرکب عطفِ بیان و مبین
- مرکب تاکید و مؤکد
- مرکب مستثنیٰ و مستثنیٰ منہ
1۔ مرکب اضافی
جب دو اسم کا، کی، کے یا فارسی اندازِ اضافت کے ذریعے آپس میں مربوط ہوں تو اسے مرکب اضافی کہتے ہیں۔
مثالیں
- اللہ کا بندہ
- جنت کی کنجی
- مکتب کے لڑکے
ان مثالوں میں کا، کی، کے دو اسموں کے درمیان تعلق ظاہر کر رہے ہیں۔
اجزاء
- پہلا اسم: مضاف الیہ
- حرفِ اضافت: کا، کی، کے
- بعد والا اسم: مضاف
مثال کی تشریح
| لفظ | حیثیت |
|---|---|
| اللہ | مضاف الیہ |
| کا | حرفِ اضافت |
| بندہ | مضاف |
| لفظ | حیثیت |
|---|---|
| مکتب | مضاف الیہ |
| کے | حرفِ اضافت |
| لڑکے | مضاف |
بعض فارسی تراکیب میں مضاف پہلے اور مضاف الیہ بعد میں آتا ہے، جیسے: اہلِ علم، نورِ نظر اور مردِ مومن۔
پہچان: اگر کسی مرکب میں "کا، کی، کے" یا فارسی اضافت موجود ہو تو وہ عموماً مرکب اضافی ہوتا ہے۔
2۔ مرکب توصیفی
جو مرکب صفت اور موصوف سے مل کر بنے، اسے مرکب توصیفی کہتے ہیں۔
مرکب توصیفی میں عام طور پر صفت پہلے اور موصوف بعد میں آتا ہے، البتہ بعض فارسی تراکیب میں ترتیب اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے۔
مثالیں
- سفید پھول
- بہادر لڑکا
- نیک استاد
- کالا بیل
اجزاء
| لفظ | حیثیت |
|---|---|
| سفید | صفت |
| پھول | موصوف |
| لفظ | حیثیت |
|---|---|
| بہادر | صفت |
| لڑکا | موصوف |
فارسی تراکیب کی مثالیں
- مردِ مومن
- جاہلِ مطلق
- خدائے بزرگ
پہچان: اگر کسی مرکب میں ایک لفظ دوسرے لفظ کی خوبی، خامی، رنگ، شکل یا کیفیت بیان کر رہا ہو تو وہ مرکب توصیفی ہوتا ہے۔
3۔ مرکب عددی
جو مرکب عدد اور معدود سے مل کر بنے، اسے مرکب عددی کہتے ہیں۔
عام طور پر عدد پہلے اور معدود بعد میں آتا ہے۔
مثالیں
- سو گھوڑے
- چالیس سپاہی
- چونتیس لڑکے
- پانچواں لڑکا
اجزاء
| لفظ | حیثیت |
|---|---|
| سو | عدد |
| گھوڑے | معدود |
| لفظ | حیثیت |
|---|---|
| پانچواں | عدد ترتیبی |
| لڑکا | معدود |
پہچان: اگر کسی مرکب میں گنتی، تعداد یا ترتیب ظاہر کی جا رہی ہو تو وہ مرکب عددی ہوتا ہے۔
4۔ مرکب امتزاجی
جب دو یا دو سے زیادہ اسم مل کر کسی شخص، مقام، ادارے یا جگہ کا مخصوص نام بنائیں تو اسے مرکب امتزاجی کہتے ہیں۔
مثالیں
- غلام محمد
- کرتار سنگھ
- آغا اشرف علی
- رام چندر
- لال چوک
- اشوک نگر
یہ تمام مرکبات کسی خاص شخصیت یا مقام کی شناخت کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
پہچان: اگر دو یا زیادہ الفاظ مل کر کسی مخصوص شخص یا جگہ کا نام بن جائیں تو وہ مرکب امتزاجی کہلاتا ہے۔
5۔ مرکب عطفی
جب دو یا دو سے زیادہ اسم حرفِ عطف کے ذریعے آپس میں ملائے جائیں تو اسے مرکب عطفی کہتے ہیں۔
مثالیں
- چاند اور ستارے
- گھوڑے اور گدھے
- شب و روز
- ماں اور باپ
ان مثالوں میں اور اور و حروفِ عطف ہیں۔
اجزاء
| لفظ | حیثیت |
|---|---|
| شب | معطوف الیہ |
| و | حرفِ عطف |
| روز | معطوف |
| لفظ | حیثیت |
|---|---|
| چاند | معطوف الیہ |
| اور | حرفِ عطف |
| ستارے | معطوف |
پہچان: اگر دو الفاظ کے درمیان اور، و، نیز یا کوئی دوسرا حرفِ عطف موجود ہو تو وہ مرکب عطفی کہلاتا ہے۔
- مرکب اشاری
- مرکب جاری
- مرکب ندائیہ
- مرکب تابعِ موضوع
- مرکب تابعِ مہمل
- مرکب بدل و مبدل منہ
- مرکب حال و ذوالحال
- مرکب تمیز و ممیز
- مرکب عطفِ بیان و مبین
- مرکب تاکید و مؤکد
- مرکب مستثنیٰ و مستثنیٰ منہ
مرکب تام (جملہ)
جب دو یا دو سے زیادہ الفاظ اس انداز سے ملیں کہ ان سے مکمل اور واضح مفہوم حاصل ہو جائے تو ایسے لفظی مجموعے کو مرکب تام یا جملہ کہتے ہیں۔
مثالیں
- بلال ایک ذہین لڑکا ہے۔
- سری نگر ایک خوبصورت شہر ہے۔
مندرجہ بالا دونوں مثالوں میں بات مکمل طور پر واضح ہو رہی ہے، اس لیے یہ مرکب تام یا جملہ ہیں۔
جملے کے بنیادی اجزاء
ہر جملہ عموماً دو بنیادی حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
- مسند الیہ
- مسند
مسند الیہ
جملے میں جس شخص، چیز یا مقام کے متعلق کوئی بات بیان کی جائے اسے مسند الیہ کہتے ہیں۔
مسند
جملے کا وہ حصہ جس میں مسند الیہ کے متعلق خبر، کیفیت یا عمل بیان کیا جائے، مسند کہلاتا ہے۔
مثالیں
| جملہ | مسند الیہ | مسند |
|---|---|---|
| رات گزر گئی۔ | رات | گزر گئی |
| دن چڑھ گیا۔ | دن | چڑھ گیا |
| چور بھاگ گیا۔ | چور | بھاگ گیا |
| ہوا چل رہی ہے۔ | ہوا | چل رہی ہے |
عام طور پر جملے کا پہلا حصہ مسند الیہ اور دوسرا حصہ مسند ہوتا ہے۔
معنی کے اعتبار سے جملوں کی اقسام
- جملہ انشائیہ
- جملہ خبریہ
1۔ جملہ انشائیہ
وہ جملہ جس میں حکم، سوال، دعا، نصیحت، خواہش، التجا یا تعجب کا اظہار ہو اور جس پر سچ یا جھوٹ کا حکم نہ لگایا جا سکے، جملہ انشائیہ کہلاتا ہے۔
مثالیں
- کاش! وہ آگے آتا۔
- شور مت کرو۔
- ماشاء اللہ! کیا خوب بات ہے۔
- یہ کام کرنا اچھا نہیں۔
پہچان
- فعلِ امر
- فعلِ نہی
- سوالیہ الفاظ
- دعائیہ یا تعجبیہ الفاظ
2۔ جملہ خبریہ
جو جملہ کسی واقعہ، حالت یا کیفیت کی خبر دے اور جس پر سچ یا جھوٹ کا حکم لگایا جا سکے، اسے جملہ خبریہ کہتے ہیں۔
مثالیں
- رشید ذہین لڑکا ہے۔
- لڑکے کھیل رہے ہیں۔
جملہ خبریہ کی اقسام
- جملہ اسمیہ
- جملہ فعلیہ
جملہ اسمیہ
وہ جملہ جس میں بنیادی طور پر مبتدا اور خبر پر زور ہو اور فعل ناقص معنی مکمل کرے، جملہ اسمیہ کہلاتا ہے۔
مثالیں
- رشید نیک لڑکا ہے۔
- کوّا ایک پرندہ ہے۔
جملہ اسمیہ کے اجزاء
- مبتدا
- خبر
- فعل ناقص
- متعلقِ خبر
مبتدا
جس شخص یا چیز کے بارے میں خبر دی جائے اسے مبتدا کہتے ہیں۔
مثال:
سری نگر بہت خوبصورت شہر ہے۔
اس جملے میں سری نگر مبتدا ہے۔
خبر
مبتدا کے متعلق جو بات بیان کی جائے وہ خبر کہلاتی ہے۔
مثال:
سری نگر خوبصورت شہر ہے۔
اس جملے میں خوبصورت شہر خبر ہے۔
فعل ناقص
ایسا فعل جو اپنے معنی مکمل کرنے کے لیے دوسرے الفاظ کا محتاج ہو فعل ناقص کہلاتا ہے۔
مثال:
سری نگر خوبصورت شہر ہے۔
اس جملے میں ہے فعل ناقص ہے۔
متعلقِ خبر
جو لفظ خبر کے معنی میں مزید وضاحت، زور یا کیفیت پیدا کرے، متعلقِ خبر کہلاتا ہے۔
مثال:
سری نگر بہت خوبصورت شہر ہے۔
اس جملے میں بہت متعلقِ خبر ہے۔
جملہ اسمیہ کی پہچان
- اس میں عموماً فعل ناقص موجود ہوتا ہے۔
- مبتدا اور خبر بنیادی اجزاء ہوتے ہیں۔
- اکثر مبتدا پہلے اور خبر بعد میں آتی ہے۔
- خبر ایک لفظ یا کئی الفاظ پر مشتمل ہو سکتی ہے۔
- بعض اوقات مبتدا یا خبر محذوف بھی ہو سکتی ہے۔
- مبتدا مفرد بھی ہو سکتا ہے اور مرکب بھی۔
- جملہ فعلیہ
- فاعل، مفعول، متعلقِ فعل
- فعلِ تام
- جملوں کی اقسام بلحاظ ساخت
- مفرد جملہ
- مرکب جملہ
- مرکب مطلق
- وصلی، تردیدی، استدراکی اور سببی جملے
جملہ فعلیہ
وہ جملہ جس میں مسند الیہ اسم اور مسند فعل ہو، جملہ فعلیہ کہلاتا ہے۔ یعنی ایسے جملے میں اصل زور فعل پر ہوتا ہے۔
مثال
اکرم نے خط لکھا۔
اس جملے میں اکرم مسند الیہ جبکہ لکھا فعل (مسند) ہے، اس لیے یہ جملہ فعلیہ ہے۔
جملہ فعلیہ کے اجزاء
- فاعل
- مفعول
- متعلقِ فعل
- فعلِ تام
1۔ فاعل
جس شخص یا چیز سے کوئی کام سرانجام پائے، اسے فاعل کہتے ہیں۔
مثال:
احمد اسکول کی طرف تیزی سے دوڑا۔
اس جملے میں احمد فاعل ہے۔
2۔ مفعول
جس پر فعل کا اثر واقع ہو یا جس پر کام کیا جائے، وہ مفعول کہلاتا ہے۔
مثال:
احمد نے خط لکھا۔
اس جملے میں خط مفعول ہے۔
3۔ متعلقِ فعل
جو لفظ فعل کے وقت، مقام، کیفیت یا انداز کی وضاحت کرے، وہ متعلقِ فعل کہلاتا ہے۔
مثال:
احمد اسکول کی طرف تیزی سے دوڑا۔
اس جملے میں تیزی سے اور اسکول کی طرف متعلقِ فعل ہیں۔
4۔ فعلِ تام
ایسا فعل جو اپنے معنی مکمل طور پر ادا کرے اور کسی دوسرے لفظ کا محتاج نہ ہو، فعلِ تام کہلاتا ہے۔
مثالیں
- احمد دوڑا۔
- احمد نے خط لکھا۔
جملہ فعلیہ کے اجزاء کی تعداد
جملے کے مطابق اجزاء کم یا زیادہ ہو سکتے ہیں۔
| مثال | اجزاء |
|---|---|
| احمد دوڑا۔ | فاعل + فعل |
| اسلم نے اکرم کو مارا۔ | فاعل + مفعول + فعل |
| احمد اسکول کی طرف تیزی سے دوڑا۔ | فاعل + متعلقِ فعل + فعل |
جملوں کی اقسام بلحاظ ساخت
ساخت کے اعتبار سے جملے دو بنیادی قسموں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔
- مفرد جملہ
- مرکب جملہ
1۔ مفرد جملہ
ایسا جملہ جس میں صرف ایک مکمل خیال بیان کیا جائے اور صرف ایک بنیادی جملہ موجود ہو، مفرد جملہ کہلاتا ہے۔
مثالیں
- مومن بیمار ہے۔
- صبا نہیں آئی۔
2۔ مرکب جملہ
جب دو یا دو سے زیادہ مفرد جملے مل کر ایک مکمل مفہوم پیدا کریں تو اسے مرکب جملہ کہتے ہیں۔
مثالیں
- حامد گا رہا تھا اور میں سن رہی تھی۔
- معلم سبق پڑھا رہا تھا اور طلبہ غور سے سن رہے تھے۔
مرکب جملے کی اقسام
- مرکب مطلق
- مرکب ملتف
1۔ مرکب مطلق
ایسا مرکب جملہ جس کے تمام اجزاء اپنی جگہ مکمل معنی رکھتے ہوں اور ایک دوسرے پر منحصر نہ ہوں، مرکب مطلق کہلاتا ہے۔
مثال:
پھول کھل رہے تھے اور پرندے چہچہا رہے تھے۔
اس مثال میں دونوں جملے الگ الگ بھی مکمل معنی رکھتے ہیں۔
مرکب مطلق کی اقسام
- وصلی
- تردیدی
- استدراکی
- سببی
الف) وصلی جملے
جن جملوں میں اور، نیز، پھر جیسے حروفِ عطف کے ذریعے دو یا زیادہ جملوں کو ملایا جائے، انہیں وصلی جملے کہتے ہیں۔
مثال:
شیلیا کل آئی تھی اور آج واپس چلی گئی۔
ب) تردیدی جملے
ایسے جملے جن میں دو باتوں کے درمیان اختلاف یا تقابل ظاہر کیا جائے، تردیدی جملے کہلاتے ہیں۔
مثالیں
- حامد کی ماں ہمدرد ہیں لیکن اس کا باپ سخت مزاج ہے۔
- خود گیا نہ مجھے جانے دیا۔
ج) استدراکی جملے
ایسے جملوں میں دوسرا حصہ پہلے حصے میں کسی نہ کسی انداز سے تبدیلی، استثنا، تحدید یا مزید وضاحت پیدا کرتا ہے۔
استثنا
- سب لوگ گئے مگر ایک شخص رک گیا۔
- میں وطن کے لیے سب کچھ قربان کر سکتا ہوں لیکن ایمان نہیں چھوڑ سکتا۔
تحدید
- وہ وعدے بہت کرتا ہے لیکن عمل کم کرتا ہے۔
- وہ دولت مند ہے مگر غریبوں کی مدد نہیں کرتا۔
توسیع
- اس نے صرف مالی نقصان ہی نہیں پہنچایا بلکہ دوسری مشکلات بھی پیدا کیں۔
د) سببی جملے
ایسے جملوں میں ایک حصہ دوسرے حصے کی وجہ یا نتیجہ بیان کرتا ہے۔
مثالیں
- میں ان کا ساتھ دوں گا کیونکہ انہوں نے مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا۔
- اس نے میری بات نہ مانی، لہٰذا میں نے اس سے تعلق ختم کر دیا۔
- چونکہ وہ محنتی ہے، اس لیے سب اس کی عزت کرتے ہیں۔
2۔ مرکب ملتف
ایسا مرکب جملہ جس میں ایک جملہ اصل (بنیادی) ہو اور باقی جملے اس کی وضاحت، تکمیل یا تشریح کریں، مرکب ملتف کہلاتا ہے۔ تابع جملے اپنے معنی مکمل کرنے کے لیے اصل جملے پر انحصار کرتے ہیں۔
مثالیں
- وہ درزی، جس کو آپ نے بلایا تھا، آیا ہے۔
- آپ نے جس ڈاکٹر سے ملنے کو کہا تھا، میں ان سے مل آیا ہوں۔
پہلی مثال میں:
- وہ درزی آیا ہے۔ → اصل جملہ
- جس کو آپ نے بلایا تھا۔ → تابع جملہ
تابع جملوں کی اقسام
مرکب ملتف میں تابع جملے عموماً تین قسم کے ہوتے ہیں۔
- ملتف اسمی
- ملتف وصفی
- ملتف تمیزی
1۔ ملتف اسمی
جو تابع جملہ کسی اسم کا کام انجام دے، اسے ملتف اسمی کہتے ہیں۔
مثالیں
- میں نے کہا کہ اب جاؤ۔
- استاد نے بتایا کہ محنت کامیابی کی کنجی ہے۔
ان مثالوں میں "کہ اب جاؤ" اور "کہ محنت کامیابی کی کنجی ہے" اسم کے قائم مقام ہیں۔
2۔ ملتف وصفی
جو تابع جملہ کسی اسم کی صفت یا وضاحت کرے، اسے ملتف وصفی کہتے ہیں۔
مثال
وہ کام جو آپ سے نہ ہو سکا، میں کیوں کر کر سکتا ہوں۔
| اصل جملہ | تابع جملہ |
|---|---|
| وہ کام میں کیوں کر کر سکتا ہوں۔ | جو آپ سے نہ ہو سکا۔ |
اس قسم کے جملوں میں عموماً جو، جس، جن، جسے، جنہیں وغیرہ استعمال ہوتے ہیں۔
3۔ ملتف تمیزی
جو تابع جملہ وقت، جگہ، شرط یا سبب کی وضاحت کرے، وہ ملتف تمیزی کہلاتا ہے۔
مثال
جس وقت وہ آیا، میں نہا رہا تھا۔
| اصل جملہ | تابع جملہ |
|---|---|
| میں نہا رہا تھا۔ | جس وقت وہ آیا۔ |
جملوں کی مزید اقسام
1۔ جملہ منفی
جس جملے میں کسی کام کے نہ ہونے یا منع ہونے کا اظہار کیا جائے، اسے جملہ منفی کہتے ہیں۔
مثالیں
- امانت میں خیانت کبھی نہ کرو۔
- میں وہاں نہیں جاؤں گا۔
2۔ جملہ سوالیہ
جس جملے میں سوال پوچھا جائے، وہ جملہ سوالیہ کہلاتا ہے۔
مثال
- وہ کون ہے؟
3۔ جملہ حکمیہ
جس جملے میں حکم، نصیحت، درخواست یا التجا کا مفہوم پایا جائے، اسے جملہ حکمیہ کہتے ہیں۔
مثالیں
- اے اللہ! ہم پر رحم فرما۔
- ہمیشہ نیک کام کیا کرو۔
4۔ جملہ شرطیہ
جس جملے میں کسی کام کا تعلق کسی شرط سے ہو، اسے جملہ شرطیہ کہتے ہیں۔
مثالیں
- اگر محنت کرو گے تو کامیاب ہو جاؤ گے۔
- جو نیک کام کرتا ہے وہ کامیابی پاتا ہے۔
5۔ جملہ فجائیہ
جس جملے میں تعجب، خوشی، افسوس یا کسی شدید جذبے کا اظہار ہو، اسے جملہ فجائیہ کہتے ہیں۔
مثالیں
- سبحان اللہ! کیا شاندار مکان ہے۔
- افسوس! انسان کس قدر غافل ہے۔
6۔ جملہ بلاواسطہ
جب کسی شخص کے اصل الفاظ کو بغیر تبدیلی کے نقل کیا جائے تو اسے جملہ بلاواسطہ کہتے ہیں۔
مثال
حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:"طلب العلم فريضة على كل مسلم۔"
7۔ جملہ بالواسطہ
جب کسی کی بات کا مفہوم اپنے الفاظ میں بیان کیا جائے تو اسے جملہ بالواسطہ کہتے ہیں۔
مثال
اس نے کہا کہ وہ آج اسکول نہیں آئے گا۔
ترکیبِ نحوی
تعریف
جملے کے ہر لفظ یا جز کا الگ الگ جائزہ لے کر اس کی نحوی حیثیت اور دوسرے الفاظ سے تعلق واضح کرنا ترکیبِ نحوی کہلاتا ہے۔
ترکیبِ نحوی کے ذریعے معلوم کیا جاتا ہے کہ جملے میں کون سا لفظ مبتدا، خبر، فاعل، مفعول، متعلقِ خبر، متعلقِ فعل یا فعل ہے۔
جملہ اسمیہ کے بنیادی اجزاء
- مبتدا
- خبر
- متعلقِ خبر
- فعلِ ناقص
جملہ فعلیہ کے بنیادی اجزاء
- فاعل
- مفعول
- متعلقِ فعل
- فعلِ تام
ترکیبِ نحوی کرتے وقت ضروری اصول
- پہلے جملے کا مفہوم اچھی طرح سمجھیں۔
- اگر شعر ہو تو پہلے اسے نثر میں تبدیل کریں۔
- پہچانیں کہ جملہ اسمیہ ہے یا فعلیہ۔
- اگر کوئی لفظ محذوف ہو تو ذہن میں مکمل کریں۔
- ترکیب ہمیشہ ترتیب وار اور واضح انداز میں لکھیں۔
- جملہ اسمیہ میں پہلے فعلِ ناقص، پھر مبتدا، اس کے بعد خبر اور آخر میں متعلقِ خبر بیان کریں۔
- جملہ فعلیہ میں پہلے فعل، پھر فاعل، اس کے بعد مفعول اور آخر میں متعلقِ فعل لکھیں۔
- ہر لفظ کی نحوی حیثیت الگ الگ بیان کریں۔
- جملے کی قسم (اسمیہ، فعلیہ، خبریہ یا انشائیہ) آخر میں ضرور لکھیں۔
اہم یاد رکھیں
- ترکیبِ نحوی رٹنے سے زیادہ سمجھنے کا مضمون ہے۔
- روزانہ مختلف جملوں کی مشق کرنے سے مہارت پیدا ہوتی ہے۔
- امتحان میں ہمیشہ ترتیب اور درست اصطلاحات استعمال کریں۔
ترکیبِ نحوی کی مشقیں
آئیے ترکیبِ نحوی کی چند اہم مثالوں کے ذریعے اس موضوع کو عملی طور پر سمجھتے ہیں۔
1۔ احمد چالاک ہے
| لفظ | ترکیبِ نحوی |
|---|---|
| ہے | فعلِ ناقص |
| احمد | مبتدا |
| چالاک | خبر |
| جملے کا نام: جملہ اسمیہ | |
2۔ بشیر نادان ہے
| لفظ | ترکیبِ نحوی |
|---|---|
| ہے | فعلِ ناقص |
| بشیر | مبتدا |
| نادان | خبر |
| جملے کا نام: جملہ اسمیہ | |
3۔ شبیر مشہور چور ہے
| لفظ | ترکیبِ نحوی |
|---|---|
| ہے | فعلِ ناقص |
| شبیر | مبتدا |
| چور | خبر |
| مشہور | متعلقِ خبر |
| جملے کا نام: جملہ اسمیہ | |
4۔ رشید بہت ذہین لڑکا ہے
| لفظ | ترکیبِ نحوی |
|---|---|
| ہے | فعلِ ناقص |
| رشید | مبتدا |
| لڑکا | خبر |
| ذہین | متعلقِ خبر |
| بہت | متعلقِ خبر |
| جملے کا نام: جملہ اسمیہ | |
نوٹ: یہاں "بہت" اور "ذہین" دونوں خبر کی وضاحت کر رہے ہیں، اس لیے دونوں متعلقِ خبر شمار کیے جاتے ہیں۔
5۔ یہ قلم اچھا ہے
| لفظ | ترکیبِ نحوی |
|---|---|
| ہے | فعلِ ناقص |
| یہ | اسمِ اشارہ (مبتدا) |
| قلم | مشار الیہ |
| اچھا | خبر |
| جملے کا نام: جملہ اسمیہ | |
6۔ انسان پانی کا بلبلہ ہے
| لفظ | ترکیبِ نحوی |
|---|---|
| ہے | فعلِ ناقص |
| انسان | مبتدا |
| پانی | مضاف الیہ |
| کا | حرفِ اضافت |
| بلبلہ | مضاف (خبر) |
| جملے کا نام: جملہ اسمیہ | |
7۔ وہ اچھا لڑکا ہے
| لفظ | ترکیبِ نحوی |
|---|---|
| ہے | فعلِ ناقص |
| وہ | اسمِ اشارہ |
| لڑکا | مشار الیہ |
| اچھا | خبر |
| جملے کا نام: جملہ اسمیہ | |
8۔ مومن گھر میں موجود نہیں تھا
| لفظ | ترکیبِ نحوی |
|---|---|
| نہیں تھا | فعلِ ناقص منفی |
| مومن | مبتدا |
| موجود | خبر |
| گھر | مجرور |
| میں | حرفِ جار |
| جملے کا نام: جملہ اسمیہ | |
9۔ رشید آج بیمار ہے
| لفظ | ترکیبِ نحوی |
|---|---|
| ہے | فعلِ ناقص |
| رشید | مبتدا |
| بیمار | خبر |
| آج | ظرفِ زمان (متعلقِ خبر) |
| جملے کا نام: جملہ اسمیہ | |
10۔ میرے گھر کو تم کھنڈر نہ بنانا
| لفظ | ترکیبِ نحوی |
|---|---|
| نہ بنانا | فعلِ نہی |
| تم | فاعل |
| کھنڈر | مفعول |
| میرے | مضاف الیہ |
| گھر | مضاف |
| کو | علامتِ مفعول |
| جملے کا نام: جملہ انشائیہ / فعلیہ | |
11۔ اسلم نے اکرم کو مارا
| لفظ | ترکیبِ نحوی |
|---|---|
| مارا | فعلِ تام |
| اسلم | فاعل |
| اکرم | مفعول |
| نے | علامتِ فاعل |
| کو | علامتِ مفعول |
| جملے کا نام: جملہ فعلیہ | |
12۔ میں نے دکان سے بلا خریدا
| لفظ | ترکیبِ نحوی |
|---|---|
| خریدا | فعلِ تام |
| میں | فاعل |
| بلا | مفعول |
| نے | علامتِ فاعل |
| دکان | مجرور |
| سے | حرفِ جار |
| جملے کا نام: جملہ فعلیہ | |
13۔ شعر: بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
نثر: دیدہ ور بڑی مشکل سے چمن میں پیدا ہوتا ہے۔
| لفظ | ترکیبِ نحوی |
|---|---|
| ہوتا ہے | فعلِ ناقص |
| دیدہ ور | مبتدا |
| پیدا | خبر |
| بڑی مشکل | متعلقِ خبر |
| چمن | مجرور |
| میں، سے | حروفِ جار |
| جملے کا نام: جملہ اسمیہ | |
14۔ اسلم نے اکرم کو اسکول میں مارا
| لفظ | ترکیبِ نحوی |
|---|---|
| مارا | فعلِ تام |
| اسلم | فاعل |
| اکرم | مفعول |
| نے | علامتِ فاعل |
| کو | علامتِ مفعول |
| اسکول | مجرور |
| میں | حرفِ جار |
| جملے کا نام: جملہ فعلیہ | |
ترکیبِ نحوی کی مشقیں (حصہ سوم)
ذیل میں مزید امتحانی اہم مثالیں دی جا رہی ہیں جن کے ذریعے آپ ترکیبِ نحوی کی عملی مشق کر سکتے ہیں۔
16۔ اسلم میدانِ جنگ میں مارا گیا
| لفظ | ترکیبِ نحوی |
|---|---|
| مارا گیا | فعلِ مجہول |
| اسلم | مفعول |
| میدان | مضاف |
| جنگ | مضاف الیہ |
| میں | حرفِ جار |
| جملے کا نام: جملہ فعلیہ | |
17۔ دانا غلطی پر پچھتاتا ہے
| لفظ | ترکیبِ نحوی |
|---|---|
| پچھتاتا ہے | فعل |
| دانا | فاعل |
| غلطی | مفعول |
| پر | حرفِ جار |
| جملے کا نام: جملہ فعلیہ | |
18۔ قاتل نے مقتول کو مارا
| لفظ | ترکیبِ نحوی |
|---|---|
| مارا | فعل |
| قاتل | اسمِ فاعل |
| مقتول | اسمِ مفعول |
| نے | علامتِ فاعل |
| کو | علامتِ مفعول |
| جملے کا نام: جملہ فعلیہ | |
19۔ شاہد نے بہت کمائی کی
| لفظ | ترکیبِ نحوی |
|---|---|
| کمائی کی | فعل |
| شاہد | فاعل |
| بہت | متعلقِ فعل |
| نے | علامتِ فاعل |
| جملے کا نام: جملہ فعلیہ | |
20۔ امجد نے رستم کو باغ میں دیکھا
| لفظ | ترکیبِ نحوی |
|---|---|
| دیکھا | فعل |
| امجد | فاعل |
| رستم | مفعول |
| باغ | مجرور |
| میں | حرفِ جار |
| نے | علامتِ فاعل |
| کو | علامتِ مفعول |
| جملے کا نام: جملہ فعلیہ | |
21۔ بیشک اللہ نیک لوگوں کو نیک بدلہ دے گا
| لفظ | ترکیبِ نحوی |
|---|---|
| دے گا | فعلِ مضارع |
| اللہ | فاعل |
| نیک | صفت |
| لوگوں | موصوف |
| کو | علامتِ مفعول |
| نیک بدلہ | متعلقِ فعل |
| جملے کا نام: جملہ فعلیہ | |
22۔ میری قبر کو تم مسجد نہ بنانا
| لفظ | ترکیبِ نحوی |
|---|---|
| نہ بنانا | فعلِ نہی |
| تم | فاعل |
| مسجد | مفعول |
| میری | مضاف الیہ |
| قبر | مضاف |
| کو | علامتِ مفعول |
| جملے کا نام: جملہ انشائیہ / جملہ فعلیہ | |
23۔ جو آپ کی عزت کرے اسے عزت دو
| لفظ | ترکیبِ نحوی |
|---|---|
| عزت دو | فعلِ امر |
| جو | اسمِ موصول |
| آپ | مضاف الیہ |
| کی | حرفِ اضافت |
| عزت | مضاف |
| کرے | فعلِ مضارع |
| اسے | اسمِ اشارہ |
| جملے کا نام: جملہ انشائیہ / جملہ فعلیہ | |
ترکیبِ نحوی میں سب سے پہلے جملے کی قسم (اسمیہ، فعلیہ، خبریہ یا انشائیہ) متعین کریں، پھر ہر لفظ کی نحوی حیثیت الگ الگ بیان کریں۔ مسلسل مشق ہی اس فن میں مہارت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
1۔ ترکیبِ نحوی کیا ہے؟
جملے کے ہر لفظ یا جز کا الگ الگ جائزہ لے کر اس کی نحوی حیثیت اور دوسرے الفاظ سے تعلق واضح کرنے کو ترکیبِ نحوی کہتے ہیں۔
2۔ مرکب تام اور مرکب ناقص میں کیا فرق ہے؟
مرکب تام سے مکمل مفہوم حاصل ہوتا ہے، جبکہ مرکب ناقص سے مکمل مفہوم حاصل نہیں ہوتا اور مزید وضاحت کی ضرورت باقی رہتی ہے۔
3۔ جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ میں فرق کیا ہے؟
جملہ اسمیہ میں بنیادی ارکان مبتدا اور خبر ہوتے ہیں، جبکہ جملہ فعلیہ میں بنیادی زور فعل اور فاعل پر ہوتا ہے۔
4۔ امتحان میں ترکیبِ نحوی کیسے لکھی جائے؟
سب سے پہلے جملے کی قسم معلوم کریں، پھر ہر لفظ کی نحوی حیثیت الگ الگ لکھیں اور آخر میں جملے کا نام ضرور درج کریں۔
5۔ ترکیبِ نحوی آسانی سے کیسے سیکھی جا سکتی ہے؟
مرکبات، جملوں کی اقسام اور روزانہ مختلف مثالوں کی مشق کے ذریعے ترکیبِ نحوی آسانی سے سیکھی جا سکتی ہے۔
📝 مزید تحریری مشقیں
- 📰 اردو گرامر
- 📄 اردو مضامین
- ✉️ اردو خطوط
- 📝 اردو درخواستیں
- 📝 حالات زندگیاں
- 📢 اردو اشتہارات
- 📝 دسویں اردو ٹوٹس
🎓Pdf Urdu Notes
نتیجہ
ترکیبِ نحوی اردو قواعد کا ایک نہایت اہم باب ہے۔ اگر آپ پہلے مرکبات، پھر جملوں کی اقسام اور بعد ازاں ترکیبِ نحوی کی مسلسل مشق کریں تو کسی بھی جملے کی ترکیب آسانی سے کر سکتے ہیں۔ اس مضمون میں مرکب، جملہ، جملوں کی اقسام، ترکیبِ نحوی کے اصول اور متعدد امتحانی مثالیں شامل کی گئی ہیں تاکہ طلبہ بنیادی سے اعلیٰ سطح تک اس موضوع کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔
🔔 اردو درسگاہ کے ساتھ جڑے رہیں!
اردو گرامر اور تمام کلاسوں کے نوٹس سب سے پہلے حاصل کرنے کے لیے ہمارے بلاگ کا وزٹ جاری رکھیں اور کمنٹ میں اپنی رائے دیں۔
