غزل
غزل اردو شاعری کی ایک بہت مشہور صنف ہے۔ لفظ غزل عربی زبان سے لیا گیا ہے جس کے معنی عورتوں سے باتیں کرنا یا ان کے حسن کی تعریف کرنا ہیں۔ غزل کئی اشعار پر مشتمل ہوتی ہے اور ہر شعر اپنا الگ اور مکمل مطلب رکھتا ہے۔ پہلے زمانے میں غزل کا موضوع زیادہ تر عشق، محبت، ہجر و وصال اور حسن و جمال تھا، لیکن آج غزل میں زندگی کے مختلف موضوعات جیسے اخلاقیات، تصوف، سماجی مسائل اور انسانی جذبات بھی بیان کیے جاتے ہیں۔
غزل کی ایک خاص ساخت ہوتی ہے۔ غزل کے پہلے شعر کو مطلع کہتے ہیں، جس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف ہوتے ہیں۔ ہر شعر کے آخر میں بار بار آنے والے لفظ یا الفاظ کو ردیف کہتے ہیں، جبکہ ردیف سے پہلے آنے والے ہم آواز الفاظ قافیہ کہلاتے ہیں۔ غزل کے آخری شعر کو مقطع کہتے ہیں، جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے۔ غزل کا سب سے خوبصورت اور مؤثر شعر بیت الغزل کہلاتا ہے۔
اردو ادب میں غزل کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ بہت سے مشہور شعراء جیسے میر تقی میر، مرزا غالب، علامہ اقبال اور فیض احمد فیض نے غزل کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ غزل اردو زبان و ادب کا ایک قیمتی سرمایہ ہے جو آج بھی عوام میں بے حد مقبول ہے