علامہ اقبال کی حیات و خدمات: شاعرِ مشرق کا مختصر تعارف اور فلسفہ

URDU DARASGAH
0

حالاتِ زندگی: علامہ محمد اقبال

​ابتدائی زندگی اور اعلیٰ تعلیم

علامہ محمد اقبال کا شمار اردو اور فارسی کے ان عظیم مفکرین اور شعراء میں ہوتا ہے، جن کی بے مثال خدمات کے اعتراف میں انہیں 'شاعرِ مشرق' اور 'حکیم الامت' کے شاندار القابات سے نوازا گیا۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ اپنے آبائی شہر سے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ لاہور تشریف لے آئے، جہاں گورنمنٹ کالج سے بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ علم کی جستجو انہیں یورپ تک لے گئی؛ کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے میں ڈگری لی، جرمنی کی میونخ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی اعلیٰ سند حاصل کی اور پھر بیرسٹر کی حیثیت سے اپنے وطن واپس لوٹے۔

​شاعری بطورِ تحریک اور مقصد

اقبال کا دور وہ پرآشوب زمانہ تھا جب برصغیر  غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھا اور اپنے شاندار ماضی کو یکسر فراموش کر چکاتھا۔ ایسے کٹھن حالات میں، انہوں نے اپنی شاعری کو محض فن اور تفریح تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے قوم کی بیداری اور ایک عظیم تحریک کے طور پر استعمال کیا۔ ان کے الفاظ نے سوئی ہوئی قوم کے اندر زندگی کی نئی روح پھونک دی۔

​وفات اور لازوال پیغام

21 اپریل 1938ء کو اس عظیم فلسفی اور شاعر کا انتقال ہوا، اور انہیں لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔ اگرچہ اقبال آج ہمارے درمیان نہیں، مگر ان کا آفاقی کلام آج بھی ہر نسل کے لیے رہنمائی کا روشن مینار ہے۔ ان کی شاعری مصلحت پسندی اور غلامانہ سوچ کے بجائے 'شاہین' کی طرح بلند پروازی، خودی اور مسلسل جدوجہد کا لازوال سبق دیتی ہے۔

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)