​مرے رب کی مجھ پر عنایت ہوئی | Mere rab ki mujh par inayat hui poem

URDU DARASGAH
0

نظم: خدا کا سوال از ابرار کاشف

نظم خدا کا سوال از ابرار کاشف - Khuda Ka Sawal Poem

نظم: خدا کا سوال — شاعر: ابرار کاشف

نظم کا تعارف

اردو ادب اور اسلامی شاعری میں ابرار کاشف کا نام ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ ان کی مشہور نظم خدا کا سوال انسانی روح کو جھنجھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کا احساس دلانے کا ایک بہترین شاہکار ہے۔ اس نظم میں خالقِ کائنات اور بندے کے درمیان ایک خوبصورت مکالمے کا انداز اپنایا گیا ہے، جو آخر میں انسان کو ایک گہری سوچ میں مبتلا کر دیتا ہے۔


مزید بہترین اسلامی نظمیں پڑھنے کے لیے ہماری کیٹیگری شاعری ضرور وزٹ کریں۔

نظم کا مکمل متن: خدا کا سوال

مرے رب کی مجھ پر عنایت ہوئی
کہوں بھی تو کیسے عبادت ہوئی

حقیقت ہوئی جیسے مجھ پر عیاں
قلم بن گیا ہے خدا کی زبان

مخاطب ہے بندے سے پروردگار
تو حسنِ چمن تو ہی رنگِ بہار

تو معراجِ فن تو ہی فن کا سنگار
مصور ہوں میں تو مرا شاہکار

یہ صبحیں یہ شامیں یہ دن اور رات
یہ رنگین دلکش حسیں کائنات

کہ حور و ملائک و جنات میں
کیا ہے تجھے اشرف المخلوقات

میری عظمتوں کا حوالہ ہے تو
تو ہی روشنی ہے اجالا ہے تو

فرشتوں سے سجدا بھی کروادیا
کہ تیرے لیے میں نے کیا نہ کیا

یہ دنیا جہاں بزم آرائیاں
یہ محفل یہ میلے یہ تنہایاں

فلک کا تجھے شامیانہ دیا
زمین پر تجھے آب و دانہ دیا

ملے آبشاروں سے بھی حوصلے
پہاڑوں میں تجھ کو دیئے راستے

یہ پانی ہوا اور یہ شمس و قمر
یہ موجِ رواں یہ کنارا بھنور

یہ شاخوں پہ غنچے چٹکتے ہوئے
فلک پہ ستارے چمکتے ہوئے

یہ سبزے یہ پھولوں بھری کیاریاں
یہ پنچھی یہ اُڑتی ہوئی تتلیاں

یہ شعلہ یہ شبنم یہ مٹی یہ سنگ
یہ جھرنوں کے بجھتے ہوئے جلترنگ

یہ جھیلوں میں ہنستے ہوئے سے کنول
یہ دھرتی پہ موسم کی لکھی غزل

یہ سردی یہ گرمی یہ بارش یہ دھوپ
یہ چہرا یہ قد اور یہ رنگ و روپ

درندوں چرندوں پہ قابو دیا
تجھے بھائی دے کر کے بازوں دیا

بہن دی تجھے اور شریکِ سفر
یہ رشتے یہ ناتے گھرانہ یہ گھر

کہ اولاد بھی دی دیئے والدین
الف لام میم ق اور عین غین

یہ عقل و ذہانت شعور و نظر
یہ بستی یہ صحرا یہ خشکی یہ تر

اور اس پر کتابِ ہدایت بھی دی
نبی بھی اُتارے شریعت بھی دی

غرض یہ سبھی کچھ ہے تیرے لیے
بتا کیا کیا تو نے میرے لیے؟

نظم کا مرکزی خیال

اس نظم کا مرکزی خیال انسان کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں (جیسے زمین، آسمان، رشتے، عقل و شعور، اور قرآن جیسی کتابِ ہدایت) کی یاد دہانی کرانا ہے۔ نظم کے آخر میں شاعر نے ایک بہت ہی طاقتور اور اثر انگیز سوال پوچھا ہے: "بتا کیا کیا تو نے میرے لیے؟" یہ سوال ہر پڑھنے والے کو اپنے اعمال اور زندگی کے مقصد کا جائزہ لینے پر مجبور کر دیتا ہے۔

شاعر کے بارے میں: ابرار کاشف

ابرار کاشف اردو کے ایک معروف شاعر ہیں جن کا کلام عموماً اصلاحِ معاشرہ اور خالق و مخلوق کے تعلق پر مبنی ہوتا ہے۔ ان کی شاعری سادگی، گہرائی اور بے پناہ روحانیت کا امتزاج ہے۔ اردو ادب کے مزید نامور شعراء کے کلام کے لیے آپ ریختہ (Rekhta) جیسی مستند ویب سائٹس کا دورہ کر سکتے ہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)

"خدا کا سوال" نظم کے شاعر کون ہیں؟

یہ مشہور اور فکر انگیز نظم اردو کے معروف شاعر ابرار کاشف نے لکھی ہے۔

اس نظم کا آخری مصرع کیا پیغام دیتا ہے؟

نظم کا آخری مصرع "بتا کیا کیا تو نے میرے لیے؟" انسان کو اس کی پیدائش کے اصل مقصد (اللہ کی عبادت اور شکر گزاری) کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

کیا یہ نظم تقریری مقابلوں کے لیے موزوں ہے؟

جی ہاں، اپنے طاقتور پیغام اور خوبصورت الفاظ کی بدولت یہ نظم سکولوں اور کالجوں کے تقریری مقابلوں (ہمد و ثناء) میں پڑھنے کے لیے انتہائی موزوں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں!

 اردو درسگاہ کے تمام ساتھیو، آپ کو ابرار کاشف کی یہ نظم کیسی لگی؟ اگر اس نظم نے آپ کے دل پر بھی اثر کیا ہے، تو اسے اپنے دوستوں اور فیملی کے ساتھ واٹس ایپ (WhatsApp) اور فیس بک (Facebook) پر ضرور شیئر کریں۔ نیچے کمنٹس میں اپنی قیمتی رائے دینا مت بھولیے گا!

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)